Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ملک میں تعصب کا بڑھتا ہوا ماحول

ملک میں تعصب کا بڑھتا ہوا ماحول
عنوان: ملک میں تعصب کا بڑھتا ہوا ماحول
تحریر: محسن رضا ضیائی
پیش کش: محمد صابر عطاری

ملک کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کا راز تحمل و رواداری اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے میں مضمر ہے۔ فرقہ پرستی، مذہبی بغض و عناد اور نسلی امتیاز و تفریق سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے سے گلے ملنے میں اس کا تحفظ و بقا ہے۔ اور تعلیم و معیشت کو فروغ دینے اور غربت و مفلسی کو ختم کرنے ہی میں اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

ہندوستان کی سرزمین دنیا کی واحد ایسی سرزمین ہے جہاں برسوں سے مختلف کلچر اور زبانیں رکھنے والی قومیں اور نسلیں آباد ہیں۔ یہاں مختلف رنگ و نسل، ذات پات اور کئی ایک مذاہب و ادیان کے لوگ بستے ہیں۔ ان سب کے باوجود ہندوستان کئی سالوں سے اتحاد و یکجہتی اور اخوت و بھائی چارگی کا بے مثال ملک رہا ہے۔ اپنی انہی ہمہ رنگ خوبیوں اور کثرت میں وحدت کے سبب اسے پوری دنیا کا ایک مثالی ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں آپس میں مل بیٹھ کر ملی، سماجی، معاشی اور ہر طرح کے معاملات کو بحسن و خوبی انجام دیا جاتا رہا ہے۔ یہ ملک پوری دنیا میں امن و محبت، اخوت و بھائی چارگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا بے مثال گہوارہ کہلاتا ہے۔ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو لوگ قدر و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ لیکن کچھ سالوں سے یہاں کے حالات یکسر طور پر بدل گئے، آج سے چند سال پہلے یہ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ملک کے اتنے برے دن آ جائیں گے، ملک کی اپنی قدیم تہذیبی اقدار و روایات کو انتہائی بے دردی کے ساتھ کچل دیا جائے گا۔ تعصب و نفرت کا ماحول پروان چڑھے گا۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے دہشت گرد، انتہا پسند یا پھر ملک دشمن قرار دے کر سزائے موت اور پھانسی دے دی جائے گی۔ پتا نہیں ان چند سالوں سے ہمارے وطنِ عزیز کو کس بدنگاہ کی نظر لگ گئی کہ ملک اور سماج میں تعصب و تنگ نظری کی آگ اس قدر بھڑک اٹھی کہ اس کی زد میں اب تک کتنے ہی طبقات اور قبیلے جھلس چکے ہیں۔ خاص طور پر شمالی ہند کی ریاستوں اور کم آبادی والے علاقوں میں مسلمان عدم تحفظ اور تعصب کے شکار ہیں۔ قتل و فساد اور ظلم و زیادتی کا غلبہ ہے۔ نفرت و تعصب اور ظلم و تشدد کا سلسلہ دادری کے اخلاق کی دردناک موت سے جو شروع ہوا تو وہ اب تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، اب تک کئی مسلمان قتل و فساد، نفرت و تعصب اور فرقہ وارانہ فساد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ گویا وطنِ عزیز ہندوستان میں ان دنوں تعصب و عدم رواداری کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہ تعصب خواہ قوم و نسل کی بنیاد پر ہو یا وطنیت و قومیت، یا پھر تہذیب و تمدن ہی کی بنیاد پر کیوں نہ ہو وہ ملک اور اس کے باشندوں کے حق میں ہلاکت و نقصان کا باعث ہے۔ یہ انسانیت کے لیے نہایت ہی مضر اور خطرناک ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا ہے اور نہ ہی کوئی تہذیب اسے پسند کرتی ہے۔

غور طلب امر یہ ہے کہ یہ سب ملکی آئین و دستور کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے، کھلے عام جمہوریت اور اس کے قوانین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ 1947ء سے 1949ء کے دوران جب ملکی آئین وجود میں آیا تو آئین کے حصہ سوم میں بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کو دفعہ 12 سے لے کر 35 تک ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں خاص طور پر دفعہ 15 میں حقِ مساوات (Right to Equality) کے تحت ”مذہب، نسل، ذات پات، جنس، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی ایک کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتنے پر پابندی“ کی بات کہی گئی ہے۔ اسی طرح آئین کے دفعہ 25 میں حقِ آزادیِ مذہب (Right to Freedom of Religion) کی بات اس طرح کہی گئی ہے کہ: ”ملک کے ہر شہری کو آزادیِ مذہب اور اس کی عبادت کا مکمل طور پر حق حاصل ہے“۔

آئینِ ہند میں تو مذہب و دھرم، ذات پات، نسل و جنس اور قومیت و وطنیت کی بنیاد پر امتیاز و تفریق (Discrimination) برتنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مکمل طور پر مذہبی آزادی اور اس پر عمل کرنے کا بھی حق دیا گیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود ملک میں حکومتی اور سماجی سطح پر ہر معاملے میں امتیاز برتا جا رہا ہے۔ دوسروں کے مذہب میں بے جا مداخلت کی جا رہی ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جو لوگ قانون و آئین کے محافظ کہلاتے ہیں، وہی مذہب و دھرم، قوم و نسل اور ذات پات کے نام پر اس کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں، آئین ساز اسمبلی کے تو یہ ذہن و دماغ میں بھی نہ آیا ہو گا کہ ہمارا تشکیل دیا ہوا قانون تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رہ جائے گا۔ موجودہ حکومت اس طرح کے دل سوز اور الم ناک واقعات پر قابو پانے میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خود حکومت بھی اقلیتی عوام کے ساتھ امتیاز و تفریق کا معاملہ برت رہی ہے، ان کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے۔ ان کے مذہب و عقیدے پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ نت نئے پروپیگنڈے بنا کر انہیں تعصب کی زنجیروں میں جکڑ رہی ہے۔ اس کے کئی ایک شواہد موجود ہیں، یہاں ہم حکومت کی چند جانبدارانہ و متعصبانہ کارروائیوں اور ملک میں عدم تحفظ و غیر مساوات کے واقعات کو پیش کر رہے ہیں، جن سے اندازہ لگانا آسان ہو جائے گا کہ ملک میں مسلمانوں کے لیے کس قدر عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

ملک کی موجودہ سنگین صورتِ حال اور عدم تحفظ جیسے واقعات سے متاثر ہو کر سابق نائب صدرِ جمہوریہ عزت مآب ڈاکٹر حامد انصاری صاحب کو اپنی الوداعی تقریب میں یہ کہنا پڑا تھا کہ: ملک کے مسلمانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس جاگزیں ہے، انہوں نے عدم برداشت کا مسئلہ وزیرِ اعظم اور ان کی کابینہ کے ساتھیوں کے سامنے بھی اٹھایا اور اپنے خدشات سے وزیرِ اعظم کو باخبر بھی کرایا۔

نائب صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر حامد انصاری کے اس اظہارِ تشویش پر حکومت کو تو چاہیے تھا کہ تحفظ و رواداری کا یقین دلاتی، لیکن چاروں طرف سے حامد انصاری پر بے جا تنقیدیں اور متعصبانہ تبصرے ہونے لگے، میڈیا جس کا کام غیر جانبدارانہ طور پر خبروں کو نشر کرنا ہے، وہ بھی دس سال تک ملک و قوم کی خدمت کرنے والے حامد انصاری پر تیر و نشتر برسانے لگا۔ اس ملک کے حالات اس سے زیادہ اور کیا خراب ہو سکتے ہیں کہ جہاں کے نائب صدرِ جمہوریہ کو اقلیتوں کے عدم تحفظ اور عدم رواداری کو لے کر اظہارِ تشویش کرنا پڑے۔ اور پھر ان کے اس اظہارِ تشویش پر ردِ عمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ ان حالات کو دیکھ کر ایسا لگنے لگا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں یہاں کے حالات ملک کے حق میں قدرے بہتر نہیں ہوں گے۔

ملک میں تعصب و عدم رواداری کے واقعات کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 2015ء میں بڑھتے ہوئے نسلی امتیازات اور عدم رواداری جیسے واقعات کے خلاف پرزور مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے 46 نامور ادیبوں، شاعروں، فلم سازوں، آرٹسٹوں اور سائنسدانوں نے حکومتی ایوارڈ واپس کر دیا تھا، جن میں نند بھردواج، چندر شیکھر، کاشی ناتھ امبلگی، ویرا بھدریا کے نیلا اور منور رانا کے اسما قابلِ ذکر ہیں۔ حکومت کے لیے یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ ملک میں امن و امان بحال کرنے اور تعصب و عدم مساوات کی روک تھام کے لیے اہم شخصیات کو حکومتی ایوارڈ واپس کر کے پرزور مہم چلانی پڑی۔

تین طلاق کا مسئلہ جو کہ شرعی و اسلامی ہے، وہ بھی تعصب و نفرت کی نذر ہو گیا۔ حکومت نے مسلم پرسنل لا میں بے جا مداخلت کر کے شریعتِ اسلامیہ کے خلاف ایک مہم چھیڑ رکھی تھی۔ 22 اگست کو سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا اور چھ ماہ کے لیے اس پر پابندی عائد کر کے حکومت کو قانون بنانے کی پیشکش کی۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ملک میں اقلیتوں کی ہر چیز ارزاں ہو گئی ہے، ان کے شرعی و اسلامی مسائل و معاملات کا تصفیہ و حل سپریم کورٹ کر رہی ہے، اور ان کے خانگی، عائلی اور شرعی مسائل پر حکومت کو قانون سازی کا حق دیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں صوبہ اتر پردیش میں پندرہ اگست کے دن مدارس میں پرچم کشائی کرنے، جن گن من کا ترانہ گانے اور اس کی ویڈیو گرافی کر کے ڈی ایم آفس پہنچانے کا سخت تاکیدی حکم نافذ کیا گیا تھا۔ گویا کہ حکومت کو مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ حکومت بھی مسلمانوں اور مدارس کے ساتھ متعصبانہ و متنفرانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ اسی طرح وندے ماترم گانے پر مسلمانوں کو مجبور کیا جا رہا ہے، مدرسوں اور اسکولوں میں اسے نافذ کرنے کی گھناؤنی سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں، جنہیں بین الاقوامی میڈیا بھی رپورٹ کر رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر ملک کی شبیہ داغدار ہو رہی ہے۔

15 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعظم نے لال قلعے کی فصیل سے اپنی 155 منٹ کی تقریر میں کہا کہ: عقیدت کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اور مزید کہا کہ: ”ملک عقیدت کے نام پر تشدد قبول نہیں کر سکتا، ذات پات اور فرقہ پرستی کا زہر ملک کا کبھی بھلا نہیں کر سکتا“۔ وزیرِ اعظم کے یہ الفاظ سننے اور پڑھنے میں تو بہت اچھے اور اچھوتے لگ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت و واقعیت کی رو سے دیکھا جائے تو یہ عملاً کچھ بھی نہیں ہیں۔ وزیرِ اعظم کو تو مظلوموں کے انصاف اور ظالموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بات کرنی چاہیے تھی۔ ملک سے عدم تحفظ، عدم مساوات اور تعصب و نفرت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کی بات کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ہندوستان کے معتدل مزاج اور سنجیدہ طبقے پر ان تمام حساس مسائل پر پردہ ڈالنے سے یہ بات اچھی طرح ظاہر و عیاں ہو گئی کہ وزیرِ اعظم کی یہ تقریر آئندہ الیکشن کی ایک مشق تھی۔

ایسے ہی ہمارے ملک کا بے لگام اور بدنامِ زمانہ میڈیا ہے، جسے جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے۔ جس کی ذمہ داری بلا تفریقِ مذہب و ملت ملک کے عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو اٹھانا، حقائق کو پیش کرنا اور خبروں کو نشر کرنا ہے۔ لیکن اقلیتوں کے حقوق کی بات ہو یا تشدد و عدم رواداری جیسے معاملات ہوں، ملکی میڈیا انہیں نظر انداز کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے۔ میڈیا اینکرز کے سروں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔

ہاں! اگر اسلام یا مسلمانوں کے اندرونی مسائل کی بات ہو تو میڈیا اس میں بہت زیادہ دلچسپی دکھاتا ہے، یہاں تک کہ آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ ڈیبیٹ پر ڈیبیٹ کرائے جاتے ہیں اور کھلے عام اسلام اور اس کے اصول و قوانین کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یقیناً ملک میں ایسے تشویشناک حالات کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی برابر کا ذمہ دار ہے، جو حقائق سے چشم پوشی کر کے افواہوں کو دکھاتا اور بتاتا ہے۔ ان تمام واقعات و حالات سے صاف طور پر پتا چلتا ہے کہ ملک کس قدر سنگین صورتِ حال سے گزر رہا ہے، جہاں مسلمانوں اور ان کے مذہب پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں بس اللہ ہی حامی و ناصر ہے!

ایک ہنگامۂ محشر ہو تو اس کو بھولوں
سینکڑوں باتوں کا رہ رہ کے خیال آتا ہے

ملک میں اس طرح کی بڑھتی عدم رواداری اور عدم تحمل کے خلاف سنجیدہ حلقوں سے پرزور آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لیکن کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں باہم مل کر ملک سے نفرت و تعصب اور تشدد و فرقہ واریت کو ختم کریں اور یہاں پھر سے امن و آشتی کی فضا بحال کریں؟ یاد رکھیں کہ ملک کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کا راز تحمل و رواداری اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے میں مضمر ہے۔ فرقہ پرستی، مذہبی بغض و عناد اور نسلی امتیاز و تفریق سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے سے گلے ملنے میں اس کا تحفظ و بقا ہے۔ اور تعلیم و معیشت کو فروغ دینے اور غربت و مفلسی کو ختم کرنے ہی میں اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ ملک اس وقت تک شاہراہِ ترقی پر گامزن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ انتہا پسند عناصر، شدت پسند نظریات اور نسلی امتیازات کو مکمل طور پر ختم نہ کر دیا جائے۔

اخیر میں صرف اتنا عرض ہے کہ جس قوم نے اس ملک میں ہمیشہ امن و آشتی کو فروغ دیا، گنگا جمنی تہذیب کو بے انتہا پروان چڑھایا، یہاں تک کہ پوری دنیا میں اسے معزز اور قابلِ فخر مقام دلانے میں ایک اہم اور بنیادی کردار ادا کیا، آج انہی کی وطن پرستی پر سوالیہ نشان داغا جا رہا ہے، ان کے لیے ”ملک دشمن“ اور ”غدارِ وطن“ جیسے جملوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ مسلمان ہی ہیں جو اصل میں اس ملک کے وفادار ہیں، تحریکِ آزادی سے لے کر ملک کی آزادی تک مسلمانوں نے اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر اس کو آزاد کرایا ہے، اس کی آزادی کی خاطر جتنا خون و لہو مسلمانوں کا بہا ہے، اتنا کسی کا نہیں بہا۔ وہ ہمیشہ ملک میں سبھی کے ساتھ رواداری اور بھائی چارگی کے ساتھ پیش آئے ہیں۔

لہٰذا ایسے انسانیت سوز اور تعصب زدہ حالات میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت اور اخوت و بھائی چارگی کا ماحول بنا کر رکھیں، اسلامی اصول و احکام پر کاربند رہیں، اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلاف و اکابر کے طریقۂ کار کو اپنائیں اور دنیا کو اپنے پرامن اور اعتدال پسند قوم ہونے کا پیغام دیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو اور ایمان و عقیدے کی حفاظت و صیانت فرمائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!