| عنوان: | خدایا شام کی صبح کب ہوگی؟ |
|---|---|
| تحریر: | صابر رضا رہبر مصباحی |
| پیش کش: | محمد الطاف برکاتی |
برکتوں کی سرزمین شام، لیکن انسانوں کے قبرستان میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ آسمان سے آگ برس رہی ہے اور انسانی دشمنوں نے زمین کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔ ہسپتال، اسکول اور پناہ گاہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ راکٹ اور میزائلوں کی یلغار میں فتح و کامرانی کی امید انسانی ناکامیوں کے پردے چاک کر رہی ہے۔ یہ مہذب دنیا شام کے مظلوموں کے تئیں پراسرار مجرمانہ خاموشی کا شکار ہے۔ یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ اس جنگ میں لاکھوں بچوں کا بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے، مگر اقوامِ متحدہ اور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلانے والی طاقتوں کا دل تک نہیں پگھل رہا ہے۔ ان کے لبوں کو جنبش تک نہیں ہو رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی کے لیے لفظی طور پر چند قراردادیں پاس کر کے تنقید سے بچ نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ سرزمین والوں کے شہر آج بھی میدانِ قیامت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے پناہ ہجرت کر کے اپنا سب کچھ چھوڑ گئے ہیں۔ ٹینٹ ہاؤس کیمپوں میں ویران ہو چکے ہیں، مگر عالمِ اسلام، یورپ، اور دنیا شام کی خونریزی کو روکنے کے لیے سنجیدگی اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ حلب اجڑ گیا، غوطہ ویران ہو گیا، مردہ قافلوں کے سامنے قہقہے بکھیر رہے ہیں، آخر انسانیت کا ضمیر کب بیدار ہوگا اور کب شام کی صبح ہوگی؟
15 مارچ 2011ء کو صدر بشار الاسد کی جانب سے پرامن احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن سے شروع ہونے والی خونریزی کے بعد یہ ملک انتہائی پیچیدہ جنگ کا شکار ہو چکا ہے۔ لاکھوں افراد ہجرت کر کے شدید بمباری کے بعد مرکزی شہر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب اسد کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے باغیوں کے زیرِ قبضہ مشرقی غوطہ کا نصف علاقہ بازیاب کرا لیا ہے۔ باغیوں کے زیرِ قبضہ اس علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کے لیے 18 فروری سے حکومتی فورسز نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے جس کے نتیجے میں اب تک 320 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اکیسویں صدی کی سب سے خونریز جنگ روکنے کے لیے کی گئی کوششیں کہیں کامیاب نہیں رہیں۔ یہ جنگ اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد اموات اور ملک کی 20 ملین آبادی میں سے نصف کی ہجرت کے باوجود بھی جاری ہے۔ گو کہ گزشتہ چند مہینوں میں جہادی تنظیم داعش اور دیگر عسکری گروپوں کا اثر و رسوخ اس ملک میں کم ہوا ہے لیکن اب اس خطے میں دیگر ممالک اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں ہیں۔
امریکہ کے حمایت یافتہ باغیوں نے ملک میں تیل کی دولت سے مالا مال شمال مشرقی علاقے پر اپنا کنٹرول قائم رکھا ہوا ہے جبکہ ترکی کے حمایت یافتہ عرب باغی شمال مغربی خطے میں اپنے قدم جمانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ترکی کی جانب سے کردوں کے اکثریتی علاقے عفرین پر بمباری اور شدید دھمکیاں جاری ہیں، اور اب ترک صدر نے اعلان کیا ہے کہ بہت جلد مرکزی شہر کا محاصرہ مکمل کر لیا جائے گا۔
فتح و شکست کے اس کھیل میں بچوں، خواتین اور بے گناہ شہریوں کو ہی قربانی بنا دیا جا رہا ہے۔ بچوں کے خلاف کیمیکل اسلحے کا استعمال کر کے سیکڑوں بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی دردناک ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں کہ وہاں کے مناظر دیکھتے ہی ذہن کی چیخیں، آگ اور خون میں لت پت بے گناہ شہریوں کی لاشیں اور سسکتی سانس کی آہ و بکا دیکھنے کو ملتی ہے۔ لکھنے میں بہت تکلیف ہو رہی ہے، حواس باختہ ہو جاتا ہوں اور حوصلے جواب دے جاتے ہیں۔
حالانکہ شام میں جاری اس جنگ پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی سطح کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ترکی، روس اور ایران کے صدور شام کی صورتِ حال پر ہونے والی ایک سمٹ میں ملاقات کریں گے۔ ترک حکومت کے مطابق 30 اپریل کو یہ سمٹ استنبول میں منعقد کی جائے گی۔ تینوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔ خدا کرے یہ کوششیں بارآور ہوں اور مظلوم شامیوں کے لیے یہ پیغام امن کا سورج ثابت ہو سکے۔ شام کے حوالے سے ترقی یافتہ ممالک اپنا جائز کردار ادا کرنے میں ناکام رہے اور تحفظِ انسانی کے لیے ان ممالک نے مقدور بھر سعی کرنے کے بجائے اپنا ہاتھ صاف کرنے پر توجہ مرکوز کی، یہی وجہ ہے کہ داعش کے خاتمے کے نام پر دہشت گردی کا جھنڈا اٹھائے اسرائیل بھی میزائل داغ کر بے گناہ شہریوں کا قتل کر رہا ہے مگر سب خاموش ہیں۔ حالانکہ دنیا اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ داعش کے وجود کے پیچھے خود اسرائیل اور امریکہ کا ہاتھ ہے۔ شام میں امن قائم کرنے کے لیے یورپی ممالک کے علاوہ ایران، سعودی عرب اور ترکی کو اپنے تمام تر اختلافات کو درکنار کر کے انسانیت کی خاطر سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ ماضیِ قریب میں ان کے ساتھ بھی ایسے ہی حالات ہوں گے۔ شام میں جاری خونریزی کا سلسلہ روکنے کے ساتھ سب سے سنگین انسانی مسائل عالمی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی حالت انتہائی قابلِ رحم ہے جبکہ یمن میں سعودی اتحاد کی جانب سے تھوپی گئی جنگ کا خمیازہ بھی وہاں کے بے گناہ عوام بھگت رہے ہیں۔ جنگ کے سبب پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے والے افراد وبائی امراض کے سبب اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ ادویات اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کا معاملہ بھی سنگین رخ اختیار کر چکا ہے اور اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کئی بار وارننگ دے چکی ہے کہ اگر اب بھی جنگ نہیں رکی تو ان کا نام دنیا کے نقشے سے ختم ہو جائے گا۔ مگر شام میں جاری شہریوں کے قتلِ عام کے سامنے سب بے بس ہیں، اور مسائل سنگین تر ثابت ہو رہے ہیں۔ ہم بحیثیتِ انسان صرف ان مظلوموں کے لیے دعائیں کر سکتے ہیں۔ ان کے حق میں صدائے احتجاج بلند کر سکتے ہیں اور سڑکوں پر اتر کر مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر اس سلسلے میں ہندوستانی عوام میں بھی بیداری قائم ہو جائے تو ہماری آواز بھی دور تک جائے گی اور تبدیلی بھی لا سکتی ہے، مگر احتجاج و مظاہرہ کا پرامن ہونا شرطِ اولین ہے۔
