| عنوان: | اصلاح معاشرہ کا اسلامی تصور |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | اکرام رضوی |
اصلاحِ معاشرہ کا اسلامی تصور یہ ہے کہ انسان عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات سب میں راہِ راست پر ہو۔ ہر فرد جب درست ہوگا تو معاشرہ بھی درست ہوگا اس لیے کہ معاشرہ افراد ہی کی اجتماعی شکل کا نام ہے۔ کون سی خوبیوں سے معاشرہ صالح ہوتا ہے اور کون سی خرابیوں سے معاشرہ فاسد ہوتا ہے؟ ان سب کی کافی تفصیل کتاب و سنت میں موجود ہے سب کو یکجا کرنا بہت دشوار ہے، ایک آیتِ کریمہ پر اکتفا کرتا ہوں۔ ارشادِ ربانی ہے:
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
ترجمہ: بے شک اللہ انصاف اور نیکی اور قرابت دار کو دینے کا حکم فرماتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ دھیان دو۔ [سورۃ النحل: 90]
مستدرک میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت خیر و شر کے بیان میں سب سے زیادہ جامع ہے۔ اس میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے:
- انصاف
- نیکی
- قرابت دار سے حسنِ سلوک
اور تین باتوں سے روکا گیا ہے:
- بے حیائی
- برائی
- سرکشی اور زیادتی
-
انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے۔ ارشادِ نبوی ہے: آتُوا كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ (ہر حق والے کو اس کا حق دو) [صحیح بخاری]۔ اسلام میں حقوق کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ ان کی ادائیگی سے صلاح و فلاح کا وجود ہوتا ہے اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے جبکہ ان کی پامالی سے فساد و بدنظمی اور جنگ و جدال کا ماحول گرم ہوتا ہے اور ایک کرب ناک منظر سامنے آتا ہے۔
اولاد پر والدین کے حقوق ہیں جن کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے یہاں تک کہ رب تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کا حق ذکر کیا ہے:
أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ
ترجمہ: حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔ [سورۃ لقمان: 14]
والدین پر اولاد کے بھی حقوق ہیں جن کی تفصیل ”مَشْعَلَةُ الْإِرْشَادِ إِلَى حُقُوقِ الْأَوْلَادِ“ (امام احمد رضا قدس سرہ) میں مذکور ہے۔ زوجین، بھائی بہن، پڑوسیوں اور قرابت داروں کے بھی ایک دوسرے پر حقوق ہیں، ہر مسلم کا دوسرے مسلم پر، ہر شہری کا دوسرے شہری پر حق ہے۔ رعایا اور حکام کے بھی ایک دوسرے پر حقوق ہیں، ان سب حقوق کی جتنی ہی زیادہ رعایت ہوگی اتنی ہی زیادہ خوشگواری پیدا ہوگی اور ان سے جس قدر انحراف ہوگا اسی قدر خرابیاں جنم لیں گی۔ آج نااتفاقی اور باہمی تعلقات کی خرابی کے مناظر جو شب و روز سامنے آتے رہتے ہیں وہ ایک دوسرے کے حقوق کو اچھی طرح نہ سمجھنے اور نہ ادا کرنے ہی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ باہم عدل و انصاف ہوگا تو حقوق کی ادائیگی بھی ہوگی اور انصاف کی پرواہ نہ ہو تو حقوق سے بھی بے فکری ہوگی اور دلخراش نتائج بھی سامنے آئیں گے۔ امانتوں کی ادائیگی اور لوگوں کے درمیان اقامتِ عدل کا ذکر ایک آیتِ کریمہ میں یکجا آیا ہے۔ ارشاد ہے:
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ
ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو اور یہ کہ جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ [سورۃ النساء: 58]
عدل کے فقدان سے معاشرہ بھی تہ و بالا ہوتا ہے اور شہری و ملکی نظام بھی درہم برہم ہوتا ہے۔
-
اب آئیے ”احسان“ پر نظر کریں۔ احسان کے معنی اچھائی لانا، نیکی کرنا، بھلائی کرنا، اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ بندے اور رب کے معاملات میں احسان یہ ہے کہ بندہ رب کے عائد کردہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کرے، عبادت کرے تو اس طرح کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ تصور حاوی ہو کہ رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ یہ صورت صرف نماز ہی کی نہیں تمام فرائض و واجبات کی ادائیگی میں ہو سکتی ہے۔ بندوں کے معاملے میں احسان صرف یہ نہیں کہ بھلائی کرنے والے سے بھلائی کی بلکہ پوری نیکی وہ ہے جس کا ذکر اس حدیثِ پاک میں ہے:
صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ.
اور ایک روایت میں ہے:
صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَحْسِنْ إِلَىٰ مَنْ أَسَاءَ إِلَيْكَ وَقُلِ الْحَقَّ وَلَوْ عَلَىٰ نَفْسِكَ.
اس سے رشتہ جوڑو جو تم سے قطع تعلق کرے، اسے عطا کرو جو تمہیں محروم کرے، اس سے اعراض کرو جو ظلم کرے، اس کے ساتھ بھلائی کرو جو تمہارے ساتھ برائی کرے، اور حق بولو اگرچہ بات اپنے خلاف جائے۔
اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّىٰ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.
اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، کوئی بندہ پورا مومن نہ ہوگا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ کمالِ احسان ہے اگر انسان اتنا نہیں کرتا بلکہ عام نیکی ہی کا عادی ہو تو معاشرے کی درستی یقینی ہے، کمزوروں کی دستگیری، ضرورت مندوں کی حاجت روائی، مظلوموں کی فریاد رسی، غربت و مفلسی والوں کی خبر گیری جیسے اوصاف ہی اگر لوگ اپنا لیں تو ایک کرب ناک ماحول کی جگہ بڑا فرحت بخش ماحول وجود میں آ سکتا ہے۔
-
قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی عدل اور نیکی کے ضمن میں شمار کیا جا سکتا ہے مگر اسے خاص طور سے مستقلاً ذکر کیا گیا اس لیے کہ یہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ انسان اجنبی اور دور والوں کے ساتھ بدسلوکی کرے تو یہ بھی بری ہے مگر قرابت دار سے بدسلوکی، بلکہ غفلت و بے پرواہی بھی بڑی اذیت رساں ہے۔ آدمی غیروں سے وہ امید نہیں رکھتا جو اپنوں سے رکھتا ہے، اگر اپنے ہی غیر بن جائیں تو انسان کے اوپر کیا گزرے گی، اس کا تصور کیا جا سکتا ہے لفظوں میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔
منہیات:
اب ان تین چیزوں کو دیکھیں جن سے روکا گیا ہے:
- فحشاء: حد سے بڑھی ہوئی برائی جیسے زنا۔
- منکر: ہر وہ کام جو ناجائز ہے۔
جیسے سرقہ، غصب، شراب نوشی، سود خوری، جھوٹ، چغلی، غیبت، امانت میں خیانت، کسی بھی واجبی ذمہ داری میں خیانت، ناپ تول میں کمی، فریب کاری، بدعہدی، اسراف، فضول خرچی یعنی ناحق میں صرف کرنا اگرچہ ایک ہی پیسہ ہو، جیسے دیکھا جاتا ہے کہ نام و نمود اور اپنی بڑائی دکھانے کے لیے شادیوں میں بے دریغ لاکھوں صرف کر دیتے ہیں اور غریبوں، مفلسوں کی حاجت روائی کے لیے ہزار دو ہزار بلکہ سو دو سو دینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے ناروا کاموں میں دولت لٹا کر فخر کرتے ہیں اور مصارفِ خیر میں دینے سے بھاگتے ہیں اگر کسی نے تقاضا کیا تو بڑی ترش روئی اور بدخلقی سے پیش آتے ہیں۔
بیٹوں کا باپ کی پوری میراث پر قبضہ کر لینا اور بیٹیوں کو یکسر محروم کر دینا یہ وبا عام ہوتی جا رہی ہے۔ ارث جبری ہے اختیاری نہیں کہ جو چاہے لے جو چاہے چھوڑ دے، مورث کے مرتے ہی میراث میں ورثہ کا حق لازم ہو جاتا ہے، ہاں میراث تقسیم ہونے اور ہر وارث کا حصہ متعین ہو جانے کے بعد وارث کو اختیار ہے کہ خود لے یا کسی دوسرے کو دے دے مگر تقسیم و تعین سے پہلے یہ کام نہیں ہو سکتا۔
کسی کا مال یا جائیداد ناحق لینا، ناجائز قبضے کے لیے حکام کو رشوت دینا، جھوٹے گواہ تیار کرنا، جھوٹی دستاویز بنانا، ناجائز مقدمہ بازی میں اپنا اور اپنے فریق کا مال برباد کرنا کرانا۔ فرائض و واجبات ترک کرنا، اپنے اوپر دوسروں کے جو حقوق لازم ہیں انہیں ادا نہ کرنا۔ یہ اور اس طرح کی ساری برائیاں منکر کے تحت آتی ہیں جن سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح باطنی برائیاں، ریا، عجب، حسد، کینہ، تکبر، حرص، بخل، حبِ دنیا، حبِ مدح وغیرہ، یہ سب منکر کے تحت داخل ہیں۔
- بغی: سرکشی، ظلم و زیادتی۔ یہ بھی منکر کے تحت داخل ہے مگر اسے خصوصیت سے ذکر کیا گیا اس لیے کہ اس کے نتائج بڑے خطرناک ہیں۔ ظلم اگر گھر تک ہو تو گھر برباد ہوتا ہے، محلہ اور شہر میں ہو تو محلہ اور شہر ویران ہوتے ہیں، ملک بھر میں ہو تو پورا ملک شعلوں کی زد پر ہوتا ہے۔
اصلاحِ معاشرہ کا اسلامی تصور اسی وقت مکمل ہوگا جب ان سارے امور کی بجا آوری ہو جن کا حکم دیا گیا ہے اور ان سارے امور سے پرہیز ہو جن سے روکا گیا ہے۔ ربِ قدیر و کریم خیر کو عمل میں لانے اور شر سے دور رہنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔
