Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

کسی کی جے وجے ہم کیوں پکاریں، کیا غرض ہم کو؟

کسی کی جے وجے ہم کیوں پکاریں، کیا غرض ہم کو؟
عنوان: کسی کی جے وجے ہم کیوں پکاریں، کیا غرض ہم کو؟
تحریر: محمد سجاد علی قادری ادریسی
پیش کش: لباب اکیڈمی

اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے حد احسان و کرم ہے کہ اس نے ہمیں ایمان جیسی عظیم دولت عطا فرمائی۔ یہ وہ نعمتِ عظمٰی ہے جو انتہائی قیمتی اور ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضامن ہے۔ دستور یہی ہے کہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے، اس کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے، خاص کر جب ہمیں معلوم ہو کہ اس کا لٹیرا بہت طاقت ور ہے اور شاطر اتنا کہ:

”آنکھ سے کاجل صاف چرا لے
یاں وہ چور بلا کے ہیں“

تو پھر اس کی حفاظت کا بندوبست کیسا ہونا چاہیے؟ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا کتنا ضروری ہے؟ یہ کسی صاحبِ فہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مگر افسوس، صد افسوس! اس پُر فتن دور میں لوگوں کے اعمال اتنے بگڑ گئے کہ یہ بھی خیال نہیں رہا کہ کس کام سے خارج از اسلام ہو جائیں گے اور کس سے نہیں۔ غیروں کی محفلوں میں بیٹھنے کی لت، ان کی نقل کرنے کا جنون ایسا چھایا کہ اب یہ بھی ہوش نہ رہا کہ بحیثیت مسلمان ہمارے کام کیا ہیں، ہمارا شان و مرتبہ کیا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ؕ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ [الحشر: ۱۹]

اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے اُنہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں، وہی فاسق ہیں۔ اس آیت کے تحت صراط الجنان میں ہے: ”یعنی اے ایمان والو! ان یہودیوں اور منافقوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بھلا دیا اور جیسی اس کی قدر کرنے کا حق تھا ویسی قدر نہ کی، اور اس کے احکامات و ممنوعات کی ان کے حق کے مطابق رعایت نہ کی، تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جانوں کو بھول جانے والا بنا دیا (جس کا نتیجہ یہ ہوا) کہ وہ اس چیز کو نہیں سنتے جو انہیں نفع دے اور وہ کام نہیں کرتے جو انہیں نجات دے، اور یہ بھول جانے والے ہی کامل فاسق ہیں۔“ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے غافل ہونے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بندے کو اس بات کی کبھی فکر نہیں ہوتی کہ وہ دنیا میں کیوں آیا اور اسے کیا کرنا چاہیے۔ جس کا نتیجہ ہے کہ اب مسلمان کسی مشہور لیڈر، سلیبریٹی کافر، مشرک یا مرتد کی موت پر عجیب طرح کی حرکتیں کرنے لگے ہیں۔ کوئی شردھانجلی کا اسٹیٹس لگاتا ہے تو کوئی R.I.P. کا، معاذ اللہ، صد بار معاذ اللہ۔ بعض تو بتوں اور تصویروں کو ہار یا پھول تک چڑھانے سے نہیں چکتے، العیاذ باللہ تعالیٰ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بحیثیت مومن ہمیں یہ زیب دیتا ہے؟ یا یہ کہاں تک درست ہے؟ اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے یہ واضح ہو جائے کہ شردھانجلی کسے کہتے ہیں؟ ”شردھانجلی یعنی کافر کے موت کے بعد اس کی تصویر کو عزت کے ساتھ کسی بلند جگہ پر رکھ کر، اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر اس کے لیے دعا کرنا تاکہ اسے سورگ (آرام کی جگہ یا بلفظِ دیگر جنت) ملے، اور اس کی عزت افزائی کے لیے اس کی مورتی یا فوٹو پر پھول چڑھانا“ — معاذ اللہ رب العالمین۔ یوں ہی R.I.P. کا فل فارم ہے (Rest in Peace)، یعنی یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کا معنی ہے: امن و سلامتی میں رہو، سکون سے آرام کرو، جس کا مفہوم بنتا ہے: مرحوم و مغفور۔ حکمِ شرع یہ ہے کہ کسی مسلمان کا مردہ کافر کی تصویر (مورتی) پر پھول چڑھانا حرام، حرام، حرام، اشد حرام ہے۔ ایسے شخص پر توبہ لازم ہے۔ اور اگر کوئی جانتے ہوئے بہ نیتِ تعظیم یہ کام کرے، تب تو کفر ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر، فتاویٰ ظہیریہ، الاشباہ والنظائر، تنویر الابصار اور مختار وغیرہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: ”اگر کسی نے ذمی کو تعظیماً سلام کہا تو یہ کفر ہے، کسی نے مجوسی کو بطورِ تعظیم یا استاد کہا تو یہ بھی کفر ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۴، ص: ۶۷۴،] لہٰذا ثابت ہو گیا کہ کافر کو جب بحالتِ حیات برائے تعظیم سلام کرنے کو علماء کفر کہتے ہیں، تو بعدِ موت برائے تعظیم اس پر یا اس کی تصویر پر پھول چڑھانا تو بدرجۂ اولیٰ کفر، اشد کفر ہو گا، اور ساتھ ہی کفار کے عقیدۂ کفر کو بڑھاوا دینا بھی ہے، جو اشد کفر ہے، اور شعارِ کفار کو اختیار کرنا اور اس پر راضی ہونا بالاجماع کفر ہے۔ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ تو مطلقاً کسی کافر کی مورتی پر پھول چڑھانے کو کفر و شرک لکھتے ہیں، جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے: ”مورتیوں پر پھول مالا چڑھانے والے کافر و مرتد ہیں، خواہ وہ کسی کی مورتی ہو۔ ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کریں، اور جو بیوی والے ہوں وہ تجدیدِ نکاح بھی کریں۔“ [فتاویٰ فقیہ ملت، ج: ۱، ص: ۲۵،] دوسری جگہ سرکار اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”کافر کے لیے دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کفرِ خالص و تکذیبِ قرآنِ عظیم ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۱، ص: ۲۲۸،] اور حضور صدر الشریعہ تحریر فرماتے ہیں: ”جو کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی (جنتی) کہے، وہ خود کافر ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: ۱، ص: ۱۸۵، مکتبۃ المدینہ] اللہ اکبر کبیر! مسلمانو! ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا کر رہے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ [التوبة: ۱۱۳]

نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں، اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں، جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں، اگر وہ جانتے ہوئے کرتے ہیں تو ان پر توبہ، تجدیدِ ایمان و بیعت و نکاح لازم ہے، اور جنہوں نے انجانے میں کیا ہے تو جس طرح اعلانیہ کیا، اسی طرح اعلانیہ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسی حرکتِ مذمومہ سے پرہیز کریں۔ یہ سچ ہے کہ ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں۔ آپس میں بھائی چارگی اور وطن کی محبت ضروری ہے، مگر سب سے پہلے ہم مسلمان ہیں۔ ہم پر ہر ایسے کام سے بچنا لازم ہے جس سے ہمارے عقیدہ و ایمان پر آنچ آئے۔ اور ہماری زبان پر یہی صدا ہو:

انہیں جانا، انہیں مانا، نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد! میں دنیا سے مسلمان گیا

حضور سید العلماء کیا خوب فرماتے ہیں:

”کسی کی جے وجے ہم کیوں پکاریں، کیا غرض ہم کو؟
ہمیں کافی ہے، سید! اپنا نعرہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“

اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے، علماءِ حق سے جڑنے اور حق و باطل کو سمجھنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم و آلہ و صحبہ اجمعین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!