| عنوان: | مجلس شرعی کا تیسرا فقہی سیمینار |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | اکرام رضوی |
٢٣/ جمادی الآخرہ ١٤١٣ھ مطابق ١٩/ دسمبر ١٩٩٢ء کو جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے تحت مجلسِ شرعی کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ نئے مسائل جن کے صریح احکام کتبِ فقہ میں دستیاب نہیں، بحث و تنقید اور تلاش و جستجو کر کے ان کے جوابات متعین کیے جائیں اور اس باب میں مسلمانوں کو شرعی رہنمائی کی جائے۔
اس مقصد کے تحت مجلس کا پہلا فقہی سیمینار ١٨/ تا ٢١/ اکتوبر ١٩٩٣ء منعقد ہوا، جس میں درج ذیل مسائل زیرِ بحث آئے:
- انگریزی دواؤں کا حکم
- بیمہ کے احکام
- مشترکہ سرمایہ کمپنی سے متعلق احکام
- انگریزی دواؤں سے متعلق ابتلائے عام اور مذہبِ صاحبین کے پیشِ نظر جواز کا حکم دیا گیا۔
- بیمہ سے متعلق بتفصیلِ ذیل فیصلہ ہوا: الف۔ انجن سے چلنے والی گاڑیوں کا جبری بیمہ حکومت کی جانب سے ایک جبری ٹیکس ہے، اس کا ادا کرنے والا معذور ہے گنہگار نہیں۔ ب۔ ریل گاڑی، ہوائی جہاز کے ٹکٹوں میں جو جبری بیمہ کی رقم دینی پڑتی ہے وہ بھی ٹیکس کے قبیل سے ہے، بوجہِ جبر اس میں گناہ نہیں۔ مزید تفصیل ”صحیفہ فقہ اسلامی“ میں دیکھیں جو ایک سال قبل شائع ہو چکا ہے۔
- مشترکہ سرمایہ کمپنی پر کچھ مقالات و مباحث سامنے آئے مگر فیصلہ دوسرے سیمینار کے لیے ملتوی ہو گیا۔
دوسرا فقہی سیمینار ١٩/ تا ٢٢/ رجب ١٤١٥ھ مطابق ٢٣/ تا ٢٦/ دسمبر ١٩٩٤ء منعقد ہوا جس کے موضوعات یہ تھے:
- مشترکہ سرمایہ کمپنی
- دوامی اجارہ اور پگڑی کا مسئلہ
- دیون اور ان کے منافع پر زکوٰۃ
- چیک کی خرید و فروخت۔
اس سیمینار میں مذکورہ موضوعات کے تحت مقالات اور بحثوں کے بعد بھی کچھ ضروری امور تنقیح طلب رہ گئے، جن کے لیے مندوبین کو مزید تلاش و جستجو کر کے جوابات فراہم کرنے کی دعوت دی گئی اور مقالات و ابحاث کو تنقیح طلب امور کے ساتھ ان کے یہاں چند ماہ کا موقع دے کر ارسال کیا گیا، پھر تقاضے بھی ہوئے مگر صرف پانچ چھ حضرات نے جوابات لکھے جبکہ ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ اس لیے ارکانِ مجلس نے طے کیا کہ فقہ و فتاویٰ سے دلچسپی رکھنے والے مقامی اور قریبی علماء کو جامعہ اشرفیہ میں مدعو کر کے ان تنقیحات اور تنقیح طلب امور پر باقاعدہ مباحثے ہوں تاکہ کام آگے بڑھے۔ اس تجویز کے تحت ١١/ تا ١٣/ جمادی الاولیٰ ١٤١٨ھ مطابق ١٤/ تا ١٦/ دسمبر ١٩٩٧ء تیسرا فقہی سیمینار منعقد ہوا جس میں چھ نشستیں ہوئیں، روزانہ صبح آٹھ بجے سے ڈیڑھ بجے دوپہر تک، پھر بعدِ مغرب سے 10 بجے رات تک۔ ان نشستوں کی صدارت بترتیب درج ذیل شخصیات نے فرمائی:
- شارحِ بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، سرپرستِ مجلسِ شرعی
- عزیزِ ملت مولانا عبدالحفیظ صاحب دام ظلہ، سرپرستِ مجلسِ شرعی
- فقیہِ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی دام ظلہ، رکنِ فیصل بورڈ، مجلسِ شرعی
- محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری دام ظلہ، صدرِ مجلسِ شرعی
- بحر العلوم حضرت مفتی عبدالمنان اعظمی دام ظلہ، شیخ الحدیث شمس العلوم گھوسی
- شارحِ بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی دام ظلہ
ان نشستوں میں علمائے کرام نے بڑی دلچسپی سے حصہ لیا اور اہم بحثیں ہوئیں۔ بعض امور فیصل بھی ہوئے لیکن کچھ باقی رہ گئے جن پر گفتگو کے لیے ٢١/ ٢٢/ رجب ١٤١٨ھ مطابق ٢٣/ ٢٤/ نومبر ١٩٩٧ء (اتوار، پیر) کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ مدعو حضرات کے علاوہ بھی جو اہلِ علم فقہ و فتاویٰ سے دلچسپی رکھتے ہوں اور تنقیح طلب امور پر اپنی مدلل آراء بھیج سکتے ہوں ان سے گزارش ہے کہ یکم رجب ١٤١٨ھ تک اپنے جوابات ارسال فرما دیں۔
ممکن ہے جوابات موصول ہونے کے بعد مجلس انہیں بحث میں شرکت کے لیے دعوت نامہ بھی جاری کرے، اس لیے اپنے اوقات میں اس کی بھی گنجائش رکھیں تو کرم بالائے کرم ہوگا۔
اسی مقصد کے تحت تنقیح طلب امور یہاں درج کیے جا رہے ہیں تاکہ جن حضرات تک دعوت نامہ نہ جا سکے ان کے جوابات سے استفادہ کی بھی راہ نکل سکے۔
تنقیح طلب امور:
- مشترکہ سرمایہ کمپنی جس کے ذرائع آمدنی تین ہیں: الف۔ ترجیحی حصص ب۔ قرض تمسکات ج۔ مساواتی حصص۔ ان میں سے پہلے دونوں تو قرض مع سود ہونے کے باعث ناجائز ہیں، تو ان حصص والوں کی شرکت جائز ہے یا نہیں؟
دیون اور ان کے منافع پر زکوٰۃ:
- زرِ پیشگی کرایہ میں وضع ہونے سے پہلے قرض ہے یا کچھ اور؟
- مالِ معصوم کی تعریف۔
- زرِ ضمانت قرضِ محض ہے یا رہنِ محض ہے یا دونوں؟
- اگر دونوں سے مشابہ ہے تو حکمِ زکوٰۃ مشابہتِ قرض سے متعلق ہوگا یا مشابہتِ رہن سے؟
- کیا زرِ ضمانت مالِ ضمار کے حکم میں ہو سکتا ہے؟
- لیجر بک میں منافع کا اندراج قبضہ ہے یا ملک ہے یا نہیں؟
- زرِ ضمانت اگر دینِ محض نہیں تو رہنِ محض بھی نہیں، تو جس طرح دینِ محض کے احکام اس پر جاری نہیں ہوتے اسی طرح رہنِ محض کے احکام بھی جاری نہ ہوں گے؟
چیک سے متعلق:
- چیک مالِ متقوم ہے یا نہیں؟ عامۃ الناس کے تعامل اور ”الأمور بمقاصدها“ کے پیشِ نظر اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔
- چیک حوالہ ہے یا قبالہ یا وکالت؟
- عوام کے چیک اور شاہی چیک کے درمیان فرق ہے یا نہیں؟
إن شاء المولى تعالىٰ تفصیلی رپورٹ اگلے مذاکرات کے بعد شائع پذیر ہوگی، اس میں طے شدہ مسائل کا بھی تذکرہ ہوگا، پھر جملہ مقالات و مباحث یا ان کی مناسب تلخیص الگ کتابی شکل میں شائع کرنے کی بھی کوشش ہوگی تاکہ ان کی افادیت زیادہ عام ہو سکے۔ خدا کرے مجلسِ شرعی صحت و سلامتی اور تیز روی کے ساتھ اپنے مقاصدِ حسنہ سے ہمکنار ہوتی رہے۔
حوالہ: [مقالات مصباحی]
