Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ملک العلماء اور اصلاحِ معاشرہ

ملک العلماء اور اصلاحِ معاشرہ
عنوان: ملک العلماء اور اصلاحِ معاشرہ
تحریر: علامہ قمر الزماں مصباحی اعظمی
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

بہار کی زمین نہایت زرخیز واقع ہوئی ہے، جہاں کی مٹی سے صاحبِ فضل و کمال، جامعِ شریعت و طریقت، اربابِ فکر و بصیرت اور دانائے راز شخصیتیں پیدا ہوئیں، جنہوں نے علمی، ادبی، مذہبی، فقہی، روحانی اور سماجی ہر شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ انہی میں ایک معتبر اور روشن نام ملک العلماء حضرت علامہ سید محمد ظفر الدین بہاری قدس سرہ کا ہے۔ 10 محرم الحرام 1303ھ مطابق 19 اکتوبر 1885ء کو رسول پور، میجرہ (موجودہ ضلع نالندہ) میں پیدا ہوئے۔

والدِ گرامی حضرت سید عبد الرزاق اشرفی علیہ الرحمہ نے اپنے مرشدِ پاک حضرت سید شاہ چاند بیتھوی رحمۃ اللہ علیہ سے 1307ھ میں بسم اللہ خوانی کی رسم ادا کروائی۔ اپنی نانہال، بین میں مدرسہ غوثیہ حنفیہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1902ء میں مدرسہ حنفیہ پٹنہ آ گئے اور مشکوٰۃ اور جلالین تک کی کتابیں پڑھیں۔ وہاں سے کانپور گئے، کانپور سے پیلی بھیت دار الحدیث میں حضور محدثِ سورتی علیہ الرحمہ سے درسِ حدیث لیا۔ پھر 1321ھ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضری دی، اور آپ ہی کی کاوشوں سے 1322ھ میں دار العلوم منظرِ اسلام کا قیام عمل میں آیا، جس کے سب سے پہلے طالبِ علم آپ ہوئے۔ تقریباً چار سال تک دار العلوم میں مختلف اساتذۂ فن سے اکتسابِ فیض کرتے رہے اور بخاری شریف کا خصوصی درس امام احمد رضا قادری سے لیا۔

1325ھ ماہِ شعبان المعظم میں خانقاہِ ردولی کے صاحبِ سجادہ حضرت شاہ التفات احمد قدس سرہ کے مبارک ہاتھوں آپ کے سر پر فضیلت کی دستار سجائی گئی۔ اسی موقع پر اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلسلۂ عالیہ کی اجازت و خلافت، اور ”ملک العلماء فاضلِ بہاری“ کے خطاب سے سرفراز فرمایا، اور اسی سال ماہِ شوال میں اپنے مادرِ علمی سے تدریسی زندگی کا آغاز فرمایا۔

1912ء میں مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں تفسیر و حدیث کے استاذ مقرر ہوئے۔ 1915ء میں خانقاہِ کبیر یہ سہسرام میں منصبِ صدارت کو زینت بخشی۔ 1920ء میں دوبارہ مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ آ گئے۔ 1950ء میں پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، اور 1951ء سے جامعہ لطیفیہ کٹیہار میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی خدمات پر مامور ہوئے۔

اس طرح آپ کا تدریسی، تصنیفی اور قلمی سفر 1905ء سے شروع ہو کر 1962ء پر ختم ہوتا ہے۔ گویا آپ کی دینی، مذہبی اور تبلیغی خدمات کا دائرہ نصف صدی سے زائد پر محیط ہے۔ تصنیف و تالیف کا ذوق اٹھارہ سال کی عمر سے ہی آپ کے اندر جاگ چکا تھا، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے فکر و قلم کی حسین چھاؤنی مل گئی، پھر تو کندن بننا ہی تھا۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کے بیان و زبان، لب و لہجہ، تحریر و تقریر اور تصنیف و تالیف میں رنگِ رضا صاف طور پر نمایاں ہے۔ تصنیفی دنیا میں آپ کی تحریر کے وقار و معیار کا ہر ایک کو اعتراف ہے۔ سوانحی خاکہ ہو یا فقہ و افتاء، فکر و اعتقاد کی بحث ہو یا اصلاحِ عمل کی—ہر جگہ علمی صداقت، قلمی گہرائی اور دلائل کی فراوانی ہر سطر سے جھانکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ نیز بے تکلفی، سادگی اور برجستگی کا عنصر بھی گہرا نظر آتا ہے۔

جب باطل عقیدے کے رد میں قلم اٹھاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قلم کی سیاہی کے ہر قطرے سے حضرت عمر کا جلال برس رہا ہے، اور جب سماج و معاشرے کے سدھار کی بات کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سنجیدہ لب و لہجے کی زیریں لہروں سے کوئی زندہ دل انسان مسکرا رہا ہے۔ حرف حرف سے اصلاح کے نور کی بارش ہو رہی ہے، ہمدردی کے پھول جھڑ رہے ہیں اور محبتوں کی کلیاں تبسم ریز ہیں اور ایک اچھے مصلح کی یہی پہچان ہے۔

کبھی وعظ و نصیحت کی شکل میں قوم کے اندر حسنِ عمل کی جوت جگائی، کبھی درسِ قرآن کی محفل سجا کر ان کی طہارتِ باطنی کا سامان فراہم کیا، اور کبھی قلمی جہاد کر کے معاشرے میں پھیلی برائیوں کا خاتمہ کیا۔ ”الظفر الجید“، ”شکستِ سفاہت“ اور ”گنجینۂ مناظرہ“—ان تینوں کتابوں کا تعلق اصلاحِ فکر و اعتقاد سے ہے۔ 1947ء میں جب ملک کی آزادی کا آفتاب طلوع ہوا، وہیں اگتے سورج کے بدن سے ہجرت کی سیاہ رات بھی نمودار ہوئی۔ پورے ملک میں ظلم و ستم کی کالی کالی بدلیاں چھا گئیں، محافظ ڈاکو بن گئے، لاشیں خاک و خون میں تڑپنے لگیں، آخرکار لوگ اپنا وطن چھوڑ کر پاکستان جانے لگے۔

ایسے روح فرسا اور خوفناک حالات میں ترکِ وطن کرنے والوں کے خلاف ”سد الفرار“ کے نام سے ایک رسالہ لکھا، اور اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان جانے والوں سے کہا کہ یہ ہجرت نہیں اصل میں فرار ہے۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں اور ایک دردمند دل کی پکار کو آپ بھی محسوس کریں:

”آپ خوف و ہراس سے بھاگ کر اپنے اسلاف کے کارناموں پر پانی پھیر رہے ہیں، اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و خوار کر رہے ہیں، مسلمانوں کو جو قلت میں ہیں، انہیں اقلیت در اقلیت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ کیا آپ کی غیرت اس کی متقاضی ہے کہ آپ کے آباء و اجداد نے تو دار الکفر میں آ کر اسلام کا چراغ روشن کر کے خدا کے یہاں سرخروئی حاصل کی تھی اور آپ اپنے اس فعل سے دار الاسلام سے اسلام کا چراغ بجھا کر دار الکفر بنا رہے ہیں؟ کیا آپ کی غیرت اس کی اجازت دیتی ہے کہ وہ مساجد، جہاں آپ اور آپ کے آباء و اجداد اپنی پیشانیاں گھسا کرتے ہیں، ان کو ویران چھوڑ کر جائیں؟ کیا آپ کی غیرت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ بزرگوں کے مزارات جن پر صندل لگا کر اپنی سعادت اور قلب و ایمان کی ٹھنڈک محسوس کرتے رہے بھاگ کر ان کو کفار و مشرکین کی پامالی اور تذلیل کے لیے چھوڑ جائیں کہ ان کے جانور انہیں ناپاک کریں؟“ [تذکرۂ ملک العلماء، ص: 29]

آج سے پچاس سال پہلے گاؤں دیہات میں علما کی کمی کی وجہ سے کم خواندہ افراد میلادِ پاک کی محفل میں بلائے جاتے، جو موضوع اور غیر مستند روایات پڑھتے، جس سے محفل کا اصل عرفان رخصت ہو جاتا۔ انہی حالات کے تناظر میں حضرت شاہ ارزاں علیہ الرحمہ کے صاحبِ سجادہ سید شاہ حامد حسین قدس سرہ کی فرمائش پر ”میلادِ رضوی“ کے نام سے ایک مستند کتاب ترتیب دی، جس نے معاشرے کی اصلاح میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا۔

پورے پٹنہ شہر میں درسِ قرآن کی شروعات آپ ہی نے کی، جس کا مقصد لوگوں کو قرآن و سنت سے قریب کرنا، ان کے اندر ایمانی حرارت پیدا کرنا اور غیر شرعی حرکات سے مسلمانوں کو باز رکھنا تھا، اس اصلاحی اقدام میں بہت زبردست کامیابی ملی، اور عوام الناس سے لے کر عصری علوم سے آراستہ طبقہ بھی آپ کے اصلاحی بیانات کو سن کر اسلام سے قریب ہوتا چلا گیا۔

آج کل تعزیہ داری میں جن خرافات کا مظاہرہ ہوتا ہے شریعتِ مطہرہ ان خرافات کی قطعی اجازت نہیں دیتی ہے۔ جب آپ سے تعزیہ بنانے، مرثیہ پڑھنے، تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنے کے بارے میں سوال ہوا تو ارشاد فرماتے ہیں:

”تعزیہ داری قطعاً بدعت و ناجائز و حرام ہے۔ ہاں روضۂ اقدس حضور سید الشہداء کے صحیح نقشے بقصدِ تبرک بے آمیزشِ منہیات اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ ذکرِ شہادتِ شریف نظم ہو یا نثر میں جبکہ روایتِ صحیحِ مقبولہ سے ہو اور منکراتِ شرعیہ مثلِ کلماتِ توہینِ انبیاء و مرسلین و ملائکۂ مقربین و اہلِ بیتِ طاہرین و صلحائے مکرمین وغیرہ محرمات سے بالکل خالی ہو، بلاشبہ جائز و مستحسن و موجبِ ثواب و نزولِ رحمتِ وہاب ہے۔ اگر تعزیہ میں پری یا براق وغیرہ تصویریں ہوں تو حرام و گناہ ہے۔ یہ مرثیے کہ رائج ہیں مطلقاً حرام حرام ہیں اور ان کا پڑھنا سننا اور سینہ کوبی و ماتم اور نوحہ سب حرام ہیں۔ حدیث میں ہے:

نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرَاثِي.

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا مرثیوں سے۔“

طوالت کے خوف سے انہی چند باتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے، ورنہ ان کے فتاویٰ اور دیگر تصنیفات میں اصلاح کے پہلو وافر مقدار میں موجود ہیں۔ پروردگارِ عالم ان کی قبر پر رحمتوں کے پھول برسائے اور ان کے علمی خزانوں سے ہم سب کو استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

حوالہ: ماہنامہ سنی دنیا اپریل 2018ء، ص: 57

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!