Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

شہری زندگی

شہری زندگی
عنوان: شہری زندگی
تحریر: علامہ سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ
پیش کش: محمد سجاد علی قادری ادریسی

عام طور پر شہر میں رہنے کو شہری زندگی کہا جاتا ہے، مگر فنی اصطلاح کی رو سے اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اصطلاحی اعتبار سے اس کی تعریف حسبِ ذیل الفاظ میں کی جائے گی:

شہری زندگی کی تعریف:

کسی ملک کے معاشرے اور اس کی شہریت کو قبول کر کے اس کے تحفظ و بقا اور اسے ترقی دینے کے لیے نظم و ضبط کے ماتحت باہمی تعاون کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرنا شہری زندگی کہلاتا ہے۔

شہری زندگی کی بنیاد چونکہ معاشرہ اور شہریت پر ہے، اس لیے ان دونوں کا مفہوم سمجھ لینا ضروری ہے۔

معاشرہ:

کسی خاص مقصد کی تکمیل کے لیے انسانی گروہ کا مل جل کر زندگی بسر کرنا معاشرہ کہلاتا ہے۔ معاشرے کی بنیادی اچھائی اور برائی مقصد پر موقوف ہے۔ اچھے مقصد کے لیے مل جل کر زندگی بسر کرنا اچھا معاشرہ ہے اور برے مقصد کے لیے مجتمع ہونا بنیادی طور پر بدترین معاشرہ ہے۔ معاشرے کے بعد شہریت ہے۔ اس کی تعریف اس طرح کی جائے گی:

شہریت:

کسی ملک کا بنیادی مقصد، اس کا معاشرہ اور نظام، اس ملک کی شہریت ہے، اور اسے قبول کر کے اس میں شامل ہونے والے اس ملک کے شہری کہلاتے ہیں۔ اس تعریف کی مدد سے ہر ملک کا باشندہ اس کا شہری کہلائے گا، یہاں تک کہ اگر وہ کسی دوسرے ملک میں بھی چلا جائے تو وہ اپنے ہی ملک کا شہری کہلائے گا۔ اسی لیے ہر حکومت غیر ممالک میں سفیروں کے ذریعے اپنے شہریوں کی حفاظت کا انتظام کرتی ہے۔

اجتماعیت

شہری زندگی، معاشرہ اور شہریت تینوں کا بنیادی نقطہ اجتماعی زندگی ہے، اس لیے اس کا مختصر خاکہ اور اس کی ضرورت کا ذہن نشین ہونا مناسب ہے۔

اجتماعی زندگی اور اس کی ضرورت:

مل جل کر رہنا انسانی فطرت کا طبعی تقاضا ہے۔ کسی انسان کے لیے لاکھوں اسبابِ راحت و آسائش مہیا کر دیے جائیں اور اسے بے شمار نعمتیں حاصل ہوں، مگر اسے اس کے ہم جنسوں سے علیحدہ کر دیا جائے، وہ نہ کسی سے مل سکے، محض تنہائی کے عالم میں رہے، تو یقیناً یہ تنہائی اس کے لیے سخت اذیت اور تکلیف کا موجب ہوگی، اور وہ یہ چاہے گا کہ جملہ اسبابِ راحت و آسائش باقی رہیں یا نہ رہیں، لیکن تنہائی کی اس قید سے مجھے نجات مل جائے اور میں آزاد ہو کر اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کروں۔

اس طبعی تقاضے سے معلوم ہوا کہ اجتماعی زندگی انسان کی قلبی راحت اور ذہنی سکون کے لیے کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، اجتماعی زندگی کے بغیر کسی صاحبِ کمال کی خوبیاں قوت سے فعل میں نہیں آ سکتیں۔ کوئی کاریگر اجتماعی زندگی کے بغیر اپنی صناعی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا، نہ کوئی عالم و فاضل اپنے علم و فن کے جوہر دکھا سکتا ہے، نہ طبیبِ حاذق اپنی فنی حذاقت و مہارت کو کام میں لا سکتا ہے۔ غرض، کوئی انسان اجتماعیت کے بغیر کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتا اور دنیا کا کوئی ارتقائی نظریہ پورا نہیں ہو سکتا۔

صرف یہی نہیں بلکہ کسی شخص کی مادی ضرورتیں بھی اجتماعی زندگی کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔ بڑی ضرورتوں کو چھوڑ کر ایک چھوٹی سی ضرورت اپنے سامنے رکھ لیجیے اور اس کے پورے ماحول پر ایک نظر ڈالیے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اجتماعی زندگی کو ہماری ضروریات میں کتنا دخل ہے۔ مثلاً آپ کسی کو خط لکھنا چاہیں تو آپ کو قلم، روشنائی اور پوسٹ کارڈ کی ضرورت ہوگی۔ خط لکھنا ایک ضرورت ہے، مگر اس ایک ضرورت کے ساتھ تین ضرورتیں آپ کو اور لاحق ہو گئیں۔ ان تینوں میں سے ہر ایک ضرورت کے ساتھ آگے کتنی ضروریات متعلق ہیں اور ان کا پورا ہونا افرادِ انسانی کی کس قدر عظیم تعداد سے وابستہ ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ذرا اس تفصیل کو ملاحظہ فرمائیں:

قلم:

اگر آپ چوبی قلم بھی استعمال کریں، تاہم تسلیم کریں گے کہ اس قلم کی لکڑی کو درخت سے کاٹ کر لانے کا کام کسی نے انجام دیا ہے۔ پھر اس قلم کو بنانے اور ہموار کرنے کے لیے چاقو بھی استعمال کرنا پڑے گا۔ اس کا لوہا کسی کان سے نکالا گیا ہے۔ اس لوہے کو کان سے حاصل کرنے میں کتنے مزدوروں نے کام کیا؟ پھر وہ لوہا جو کان سے نکالا گیا تھا، اسے ایک خاص طریقے سے صاف کیا گیا۔ اس کام میں بھی بہت سے ہاتھ لگے ہیں۔ پھر اس کی باربرداری میں کتنے مزدوروں نے محنت کی۔ اس کے بعد وہ تاجروں کے پاس آ کر فروخت ہوا اور رفتہ رفتہ کسی لوہار کے پاس پہنچا، اس نے اسے چاقو کی شکل میں تیار کیا۔ پھر اسے دستہ لگایا گیا اور چاقو بن کر آپ کے ہاتھ میں آیا۔ ان تمام مراحل میں کتنے ہاتھوں کا دخل ہے، آپ ان کی تعداد نہیں بتا سکتے، لیکن اتنا تو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک آدمی کا کام نہیں، بلکہ بہت سے آدمیوں کی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔

روشنائی:

اب روشنائی کی طرف آئیے۔ اس کا بھی یہی حال ہے کہ ہر مرحلے پر اس کی تیاری میں کثیر انسانوں کی کارکردگی شامل رہی ہے۔

پوسٹ کارڈ:

اس کے بعد پوسٹ کارڈ کو دیکھیے۔ مثلاً وہ روئی سے بنایا گیا۔ روئی کھیت میں کاشت کی گئی، کاشت کاری کے آلات استعمال ہوئے۔ ان آلات کو بنانے میں کتنے کاریگروں نے کام کیا؟ پھر کاشت کے سلسلے میں کتنے آدمیوں کے ہاتھ شامل رہے؟ کپاس چنی گئی، اس کے بنولے نکالنے میں کتنے مرحلے پیش آئے؟ پھر وہ روئی کارخانے میں لائی گئی، جہاں تیار ہو کر کاغذ کے کارخانے میں پہنچی۔ کاغذ بننے میں کتنے کاریگروں اور مزدوروں کی ضرورت ہوئی، اور اس کے بعد اس نے کارڈ کی صورت اختیار کی۔ پھر وہ کارڈ پریس میں پہنچا، جہاں اسے حکومت کے قانون کے مطابق چھاپا گیا اور وہ پوسٹ کارڈ بن کر ڈاک خانے میں آیا، اور آپ نے خریدا۔ اتنے مرحلوں کے بعد وہ کارڈ آپ کے ہاتھ میں پہنچا اور آپ نے اسے لکھ کر لیٹر بکس میں ڈالا۔ لیٹر بکس سے آپ کا وہ کارڈ ڈاک خانے کے ملازموں نے نکالا اور اسے ڈاک خانے پہنچایا۔ وہاں پہنچ کر مہر لگانے والوں کے ہاتھ میں آیا۔ الغرض، اسی طرح ہاتھوں ہاتھ آپ کا وہ خط آپ کے مکتوب الیہ کے ہاتھ میں پہنچا اور آپ کی ضرورت پوری ہوئی۔ باقی تمام ضروریاتِ زندگی کا بھی یہی حال ہے۔ معلوم ہوا کہ اجتماعی زندگی کے بغیر ہماری کوئی ضرورت پوری نہیں ہو سکتی۔

نظم و ضبط

کوئی اجتماعی زندگی اور معاشرہ کسی باقاعدہ طور طریقے اور قانون و ضابطے کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ہر معاشرے کے لیے اس کا نظام، قواعد و ضوابط اور مجلسی آداب نظم و ضبط کہلاتے ہیں، لیکن شہری زندگی کا تعلق چونکہ ملکی معاشرے سے ہے، اس لیے ہر ملک کا ملکی قانون اور حاکمانہ نظام ہی اس کی شہری زندگی کا بنیادی نظم و ضبط ہے۔

نظم و ضبط کی ضرورت:

انسان میں جس طرح مل جل کر رہنے کی طبعی خواہش پائی جاتی ہے، اسی طرح اس میں یہ تقاضا بھی بالکل فطری طور پر موجود ہے کہ اس کی ہر خواہش بلا روک ٹوک پوری ہوتی رہے۔ ظاہر ہے کہ تمام انسانوں کی جملہ خواہشات یکساں نہیں ہوتیں، اس لیے اگر ہر شخص اپنی ہر خواہش بلا روک ٹوک پوری کرنا چاہے تو یہ ممکن نہیں، بلکہ ایسی صورت میں مخالف خواہشات باہم متصادم ہوں گی، جس کا لازمی نتیجہ فتنہ و فساد اور تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ اس طرح اجتماعیت باقی نہ رہ سکے گی اور معاشرہ برباد ہو کر ختم ہو جائے گا۔ چونکہ معاشرے کا باقی رہنا بھی انسان کا فطری مقتضا ہے، اس لیے اس کو بحال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ باہم مخالف خواہشات کو متصادم ہونے سے روکا جائے۔ اسی تصادم کو روکنے کا نام نظم و ضبط ہے۔ ہمہ گیر تصادم کا روکنا ہمہ گیر طاقت کے بغیر ناممکن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پورا معاشرہ ایک مستحکم نظام اور حاکمانہ قوت کے ماتحت ہو۔ اسی قوت اور نظام کا نام ملکی قانون ہے، جس کے بغیر شہری زندگی کا قیام متصور نہیں ہو سکتا۔

باہمی تعاون

نظم و ضبط کے بعد باہمی تعاون اور ہمدردی کا مقام ہے۔ شہری زندگی میں جس تعاون کو دخل ہے، اس کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ کسی معاشرے کو قبول کر لینے کے بعد افرادِ معاشرہ پر جو فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان کے احساسِ تام اور عزمِ محکم کے ساتھ ان کی مکمل بجا آوری کا نام تعاون ہے۔

باہمی تعاون کی ضرورت:

کسی ملک کے باشندوں کے دل میں جب تک اخلاص، ہمدردی، ایثار اور باہمی تعاون کا جذبہ نہ ہو، اس وقت تک نظم و ضبط کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے، چہ جائے کہ کامیاب شہری زندگی بسر کی جا سکے۔ شہری زندگی اور معاشرے میں ایسے بے شمار مراحل ملیں گے جن پر ملکی حکومت کا کوئی قانون لاگو نہیں ہو سکتا۔ مثلاً غریبوں، بے کسوں اور ضرورت مندوں کی بعض ضرورتوں کے پورا نہ ہونے کی صورت میں ان کی زندگی ان کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے۔ قانوناً ان کا پورا کرنا کسی کے ذمے نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں اگر معاشرے کے وہ افراد، جن کے ساتھ ان ضرورتوں کے پورا ہونے کا تعلق ہے، قانون کی آڑ لے کر خاموش بیٹھے رہیں اور کسی غریب، بے کس، حاجت مند کے ساتھ کوئی ہمدردی اور کسی قسم کا تعاون نہ کریں، تو یقیناً معاشرے کو سخت نقصان پہنچے گا اور اس کے نتائج نظم و ضبط کے لیے بھی بے حد مضر ثابت ہوں گے۔ اس لیے نظم و ضبط کے ساتھ باہمی تعاون بھی شہری زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

شہری زندگی کا تجزیہ

اب تک جو کچھ کہا گیا ہے، اس کو ذہن نشین کر لینے کے بعد شہری زندگی کا تجزیہ واضح طور پر سامنے آ جاتا ہے، یعنی: اجتماعیت، معاشرہ اور شہریت۔ اجتماعیت معاشرے کا سنگِ بنیاد ہے اور معاشرہ شہریت کی اصل ہے، اور شہریت سے شہری زندگی وجود میں آتی ہے۔ ان تمام اجزاء اور ان کے مجموعے کے لیے نظم و ضبط اور باہمی تعاون رگِ جان کی حیثیت رکھتے ہیں، اور رگِ جان پورے جسم میں سب سے زیادہ اہم ہے، اس لیے اس کا تحفظ بھی سب سے زیادہ ضروری ہوگا۔ باہمی تعاون میں عوام اور نظم و ضبط میں حکومت کی حیثیت بنیادی ہے، اس لیے شہری زندگی کی گاڑی ان دو پہیوں کے بغیر کسی طرح نہ چل سکے گی۔

نظم و ضبط اور باہمی تعاون کی قدریں

جب تک اقتدار کا تعین نہ ہو، ان کا تحفظ ناممکن ہے۔ نظم و ضبط اور باہمی تعاون کی قدریں باہمی معاشرے پر ابھرتی ہیں، اس لیے سب سے پہلے معاشرے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اجتماعی تقاضوں کی بنا پر معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ چونکہ وہ تقاضے مختلف معاشرے، اجتماعی زندگی میں جنم لیتے ہیں، مثلاً گھریلو زندگی معاشرے کی ابتدا ہوتی ہے، اور اس کے تقاضوں کا لازمی نتیجہ تعلیمی، تجارتی، زراعتی اور صنعتی و دیگر مختلف معاشروں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان تمام معاشروں میں انہی کے مطابق جو قواعد و ضوابط، طور طریقے اور قاعدے قرینے وضع کیے جائیں گے، وہ ان کے لیے ابتدائی اور جزوی نظم و ضبط قرار پائیں گے۔ اسی طرح ہر معاشرے میں اس کے ماحول کے موافق افرادِ معاشرہ کا باہمی تعاون جزوی تعاون ہوگا۔ اگر تمام جزوی معاشروں میں جزوی نظم و ضبط اور جزوی تعاون نہ پایا جائے تو ہر معاشرہ اپنی جگہ تباہی کی نذر ہو جائے گا۔ علیٰ ہذا، اگر تمام مختلف معاشروں کے کل افراد میں شہری زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے مجموعی تعاون نہ پایا جائے اور اسی طرح ان سب معاشروں پر حکومت کا ہمہ گیر نظام قائم نہ رہے، تو شہری زندگی کسی صورت میں برقرار نہ رہ سکے گی۔ اس لیے نہایت ضروری ہے کہ کلی اور جزوی تعاون اور نظم و ضبط کی تمام اقدار کا ان کے مرحلوں پر پوری قوت کے ساتھ تحفظ کیا جائے۔

اس اجمال کی تفصیلات بہت طویل ہیں۔ اختصار کے ساتھ اتنا عرض کر دینا کافی ہوگا کہ باہمی تعاون اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ہر فرد اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس نہ کرے اور ان کی انجام دہی میں پوری سرگرمی سے کام نہ لے۔ ہر معاشرے کے افراد کے لیے فرائض اور ذمہ داریاں مختلف قسم کی ہیں، اس لیے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے میں، اس کے ماحول کے مطابق، اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے اور اپنے فرائض کو انجام دے۔

  • مثلاً گھریلو زندگی میں ہر ایک کی حق شناسی اور حق رسی لازمی سمجھی جائے اور اس پر پابندی کے ساتھ عمل کیا جائے، اور ہمسایوں کے حقوق صحیح معنی میں ادا کیے جائیں。

  • تعلیمی معاشرے میں طلباء آپس میں ہمدردی سے کام لیں، اساتذہ کے ساتھ ان کے شایانِ شان برتاؤ کریں، اور اساتذہ طلبہ کے ساتھ شفقت و عنایت برتیں، اور ان کے اخلاق و عادات، تعلیم و تربیت کا پورا خیال رکھیں اور عملی طور پر کوئی فروگزاشت نہ کریں۔

  • تجارتی معاشرے میں ایمانداری سے کام لیا جائے، عوام کی ضروریاتِ زندگی کی اشیاء چھپا کر نہ رکھی جائیں اور ناجائز نفع اندوزی سے اجتناب کیا جائے۔

  • زراعتی معاشرے میں اس بات کو اچھی طرح ملحوظ رکھا جائے کہ خوراک کی ذخیرہ اندوزی نہ ہونے پائے، جس سے عوام کو تکلیف ہو۔ ایسا نہ ہو کہ خوراک مہیا نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں جو خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں، وہ پیدا ہونے لگیں۔

  • طبی معاشرے میں ڈاکٹروں، معالجوں اور دوا فروشوں کو دولت کمانے کی حرص دل سے نکال دینی چاہیے اور مریضوں کے ساتھ ہمدردی اور ایثار کے جذبات سے کام لینا چاہیے۔

  • صنعتی معاشرے میں صرف اپنے ذاتی مفاد کو پیشِ نظر نہ رکھا جائے بلکہ عوام کی بہبودی اور ملکی صنعت کو ترقی دینے کا جذبہ کارفرما رہے۔

  • مذہبی معاشرے میں علما و مشائخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر خالص دینی اور مذہبی نقطۂ نظر سے عوام کی رہنمائی کی خدمت انجام دیں اور مذہب کو اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کا آلہ نہ بنائیں۔

اسی طرح باقی تمام معاشروں میں ہر قسم کی خرابیوں سے بچنے کی پوری کوشش کی جائے اور معاشرے کو کامیاب بنانے کے لیے تنظیم، اتحاد اور باہمی اعتماد کے اصولوں پر عمل کیا جائے، اور ہر مرحلے پر عوام کی بہبودی اور خدمتِ خلق پیشِ نظر رہے۔ پھر ان سب معاشروں کو مل کر حکومت کے ساتھ پورا تعاون کرنا بھی ضروری ہے، اس لیے کہ عوامی تعاون کے بغیر حکومت اپنے کاموں کو صحیح معنی میں انجام نہیں دے سکتی۔

حکومت اور عوام

جس طرح عوام کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنا شہری زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے، اسی طرح حکومت کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ عوام کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کرے۔ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا حکومت کے اولین فرائض میں سے ہے۔ عوام کی ضروریاتِ زندگی کا انتظام، ان کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت، ظلم و جور کی روک تھام، رشوت ستانی کا انسداد، جرائم کا استیصال—شہری زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔ شہری زندگی مستحکم نظامِ حکومت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی، اور یہ استحکام اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک کہ عوام کا اعتماد حاصل نہ کیا جائے، اور یہ اعتماد عوام کی خوشحالی میں مضمر ہے۔ لہٰذا عوام کی خوشحالی کے لیے حکومت کو پوری کوشش کرنی چاہیے تاکہ عوام اور حکومت کے باہمی اعتماد اور تعاون کے ذریعے شہری زندگی کامیاب ہو سکے۔

باہمی تعاون کا اعلیٰ مقام

معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کا بلند مقام یہ ہے کہ ہر فرد اپنی زندگی گزارنے میں یہ سمجھے کہ میں اپنے لیے زندہ نہیں ہوں بلکہ میرا زندہ رہنا دوسروں کے لیے ہے۔ جب معاشرے میں یہ جذبہ پھیل جائے تو وہ نہایت کامیاب معاشرہ قرار پائے گا، اور جو شخص یہ سمجھے کہ میری زندگی میرے اپنے ہی لیے ہے، وہ خود غرضی کا شکار ہو کر رہ جائے گا اور معاشرے کو اس سے کوئی معتدبہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔

عمدہ معاشرہ اور کامیاب شہری زندگی

جس معاشرے میں اپنی صلاحیتوں سے کام لینے والے افراد پائے جائیں گے، وہ نہایت عمدہ معاشرہ ہوگا، اور جہاں ایسے لوگ ہوں کہ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کام نہ لیں اور اپنی علمی و عملی قوتوں کو بروئے کار نہ لائیں، وہ اپنے معاشرے اور شہری زندگی کے لیے اچھے افراد نہیں، خواہ وہ جرائم کا ارتکاب نہ کریں اور ان سے کوئی حرکت خلافِ قانون سرزد نہ ہو۔ لیکن جب وہ جمود و خمود کا مجسمہ بن گئے تو شہری زندگی اور معاشرے پر ان کا وجود ایک بوجھ بن کر رہ گیا۔ اس لیے وہ لوگ شہری زندگی کے لیے مفید ہونے کے بجائے مضر ہیں۔

چونکہ شہری زندگی کا تعلق اولین ایک ہمہ گیر مقصد سے ہوتا ہے، اس لیے جس شہری زندگی میں اس بنیادی مقصد کے حصول کو نظر انداز کر دیا جائے، وہ کامیاب شہری زندگی قرار نہیں پا سکتی۔ اسے کامیاب اسی صورت میں کہا جائے گا کہ اس کا مطمحِ نظر بنیادی مقصد کا حصول ہو۔ مثلاً ہمارے ملک کی شہری زندگی پاکستانی شہری زندگی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آزاد وطن پاکستان میں اسلامی طرز کی زندگی بسر کی جائے۔ اس بنیادی مقصد کی روحِ رواں اسلامی طرز کی زندگی بسر کرنا ہے۔ جب تک یہ روح اصل مقصد میں کارفرما نہ ہو، مقصد متصور ہی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلامی طرز کی زندگی بسر کرنے کی طرف پوری توجہ مبذول کی جائے اور پاکستان کی شہریت کے تمام شعبوں میں یہی روح کارفرما نظر آئے۔

اجتماعی زندگی کے تمام اصول، معاشرے کا نظم و ضبط اور باہمی تعاون کی جو واضح اور روشن تعلیمات کتاب و سنت میں پائی جاتی ہیں، کسی دوسری جگہ تصور نہیں۔ مختصر طور پر چند اقتباسات پیش کرتا ہوں:

1۔ قرآنِ کریم اور اجتماعیت

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ.

ترجمہ: لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور (پھر) تمہاری ذاتیں اور برادریاں ٹھہرا دیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک تم میں زیادہ اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو تم سب میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ [سورۃ الحجرات: 13]

اس آیۂ کریمہ میں گھریلو زندگی، خاندانی اور قبائلی اجتماعیت اور اس کے معاشرے کا نہایت جامع اور مختصر بیان ہے، اور اچھے معاشرے کے لیے اعلیٰ کردار، تقویٰ اور پرہیزگاری کا ضروری ہونا مذکور ہے۔

2۔ زندگی کا بنیادی مقصد

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ۝

ترجمہ: کہہ دیجیے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔ [سورۃ الانعام: 162، 163]

اس آیۂ کریمہ میں جماعتِ مسلمین کی زندگی اور موت کا بنیادی مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی فرمانبرداری کو قرار دیا گیا ہے۔

3۔ باہمی تعاون اور قرآنِ مجید

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ إِنَّ اللّٰهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ.

ترجمہ: اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب والا ہے۔ [سورۃ المائدہ: 2]

4۔ نظم و ضبط اور قرآن

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ.

ترجمہ: تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی، نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔ [سورۃ آل عمران: 110]

5۔ اطاعتِ امیر اور قرآنِ کریم

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ.

ترجمہ: اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے صاحبِ امر لوگوں کی۔ [سورۃ النساء: 59]

6۔ ضبطِ معاشرہ اور قرآنِ کریم

وَأَطِيعُوا اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ.

ترجمہ: اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی، اور آپس میں نہ جھگڑو کہ تم کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ [سورۃ الانفال: 46]

احادیثِ مبارکہ

اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.

ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔ [بخاری]

یہ حدیث اجتماعیت، معاشرہ اور شہری زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ایک نہایت جامع اور زریں اصول پیش کرتی ہے۔

كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.

ترجمہ: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ [بخاری]

أَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ.

ترجمہ: تم لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے وہی ناپسند کرو جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو۔ [مسند احمد، مشکوٰۃ]

مختصر یہ کہ کتاب و سنت کی ہدایات کو سامنے رکھ کر اسلامی طرز کی زندگی بسر کرنا پاکستانی شہریت کا بنیادی مقصد ہے، اور اس کو نظر انداز کر دینا پاکستانی شہری زندگی کی تعمیر کو اس کی اصل بنیاد سے منہدم کر دینے کے مترادف ہوگا۔

بنیادی نکات:

معاشرہ، اجتماعیت، شہریت، بنیادی مقصد، نظم و ضبط، باہمی تعاون، عوام اور حکومت، اسلامی طرزِ زندگی، کتاب و سنت۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!