| عنوان: | روزہ! طبی اور روحانی فوائد کا سرچشمہ (قسط: 1) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عبد الرحیم نشتر فاروقی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
طلوعِ صبح سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے باز رہنے کا نام روزہ ہے، روزہ رب کی رضا میں راضی رہنے کا ایک پاکیزہ عمل ہے، روزہ اپنے دامن میں جہاں بے پناہ دینی و اخروی فوائد و برکات لیے ہوئے ہے، وہیں اس کے اندر جسمانی اور طبی فوائد کے کئی اسرار و رموز پنہاں ہیں۔
قرآنِ حکیم میں روزے کی حکمت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
یعنی تمہارے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے اگر تم جانو۔ [سورۃ البقرہ: 184]
دراصل یہاں ”اگر تم جانو“ سے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا کہ اگر تم علمِ حیاتیات کو سمجھو تو تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم روزے رکھو، کیونکہ روزہ اپنے اندر بے شمار روحانی، نفسیاتی اور طبی فوائد رکھتا ہے۔
حکیمِ حاذق نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے طبی فوائد نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان فرمائے ہیں، چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں:
صُومُوا تَصِحُّوا
یعنی ”روزے رکھو، تندرست ہو جاؤ گے“۔ [مجمع الزوائد، ج: 5، ص: 344]
دوسری جگہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا:
لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ، وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ
یعنی ہر شے کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔ [المعجم الکبیر، ج: 6، ص: 238]
جس طرح زکوٰۃ مال کو پاک کر دیتی ہے، اسی طرح روزہ جسم کو تمام امراض سے پاک کر دیتا ہے۔
خالقِ کائنات نے تین طرح کی مخلوق پیدا کی ہے، نوری یعنی فرشتے، ناری یعنی جن اور خاکی یعنی انسان جس کے سر اشرف المخلوقات کا تاجِ زریں رکھا گیا، انسان روح اور جسم کے مجموعے کو کہا جاتا ہے اس کا جسم مٹی سے بنایا گیا ہے اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی، جسم کی ضروریات کا سامان زمینی اشیا اناج، غلہ، پھل اور پھول سے کیا گیا، جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا، ہم سال کے گیارہ مہینے اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیا سے پورا کرتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں، جبکہ روح کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے خالقِ کائنات نے ہمیں سال میں ایک مبارک مہینہ رمضان المبارک عطا فرمایا ہے۔
روحانی اور جسمانی طور پر صحت یاب رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان شریف کے روزے عطا فرمائے، یقیناً اس میں اللہ تعالیٰ کی کریمانہ حکمتِ عملی شامل ہے، اعضائے رئیسہ خاص طور سے دل و دماغ اور جگر کو روزہ رکھنے سے تقویت ملتی ہے اور ان کے افعال میں درستگی پیدا ہوتی ہے، روزہ رکھنے سے اضافی چربی ختم ہو جاتی ہے، روزہ ذہنی تناؤ کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے، وقت پر سحر اور افطار کر کے موٹاپے کے شکار لوگ اس سے نجات پا سکتے ہیں، وہ عورتیں جو موٹاپے کا شکار اور اولاد کی نعمت سے محروم ہیں ان کے لیے روزہ نہایت ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ جدید میڈیکل سائنس کا ماننا ہے کہ وزن کم ہونے کے بعد بے اولاد خواتین کے یہاں اولاد کی پیدائش کے امکانات زیادہ روشن ہو جاتے ہیں، جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہمارے معدے کے فاسد مادے زائل ہو جاتے ہیں، روزے کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ منشیات، شراب اور تمباکو نوشی جیسی تباہ کن بیماریوں کے عادی ہو چکے ہیں، وہ روزے کی مدد سے ان برائیوں پر قابو پا سکتے ہیں، تجربات بتاتے ہیں کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے انسان کی زندگی میں اضافہ ہوتا ہے، روزہ رکھنے کی وجہ سے ہمارا دل نظامِ ہضم میں اپنی توانائی صرف کرنے سے آزاد ہو جاتا ہے اور وہ اس توانائی کو ”گلوبن“ پیدا کرنے پر صرف کرتا ہے، گلوبن ہمارے جسم کی حفاظت کرنے والے مدافعتی نظام کو تقویت پہنچاتا ہے، روزہ قوتِ مدافعت کے نظام کو بہتر بناتا ہے، روزہ رکھنے کی وجہ سے دماغی خلیات کو فاضل مادوں سے نجات مل جاتی ہے اور اسی طرح سے دماغی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔
ویسے تو مسلمان اسلامی احکام کی روشنی میں حکمِ خداوندی کی تعمیل کے لیے روزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ جسمانی صحت پر بھی کئی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصاً ڈاکٹر مائیکل، ڈاکٹر جوزف، ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر، ڈاکٹر ایم کلائیو، ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ، ڈاکٹر جیکب، ڈاکٹر ہینری ایڈورڈ، ڈاکٹر برام جے، ڈاکٹر ایمرسن، ڈاکٹر خان یمرٹ، ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز کے بعد تسلیم کیا ہے۔
روزے کی اہمیت و افادیت کا اندازہ پروفیسر نیکولائی کے اس بیان سے ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب ”صحت کی خاطر بھوک“ میں ذکر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
”ہر انسان خاص طور پر بڑے شہروں میں رہنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سال میں تین چار ہفتے تک کھانا کھانے سے باز رہیں تاکہ وہ پوری زندگی صحت یاب رہیں“۔
