| عنوان: | سفرِ عشق ہے حجِ بیت اللہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا خلیل احمد فیضانی |
| پیش کش: | محمد سجاد علی قادری ادریسی |
دین سراپا سوختن اندر طلب
انتہایش عشق و آغازش ادب
[اقبال]
ایک مومن کے دل میں ہمیشہ یہ آرزو مچلتی رہتی ہے کہ کاش وہ زندگی میں کبھی حرمین طیبین کی زیارت سے مشرف ہو جائے اور پھر وہاں پہنچ کر خانۂ کعبہ کا طواف کرے، روضۂ رسول کی زیارت سے قلب و نگاہ کو شاد شاد کرے، الٰہی نشان صفا و مروہ کے درمیان سعی کر کے عاشقانہ اداؤں کو دہرائے، عطیۂ الٰہی اور یادگارِ اسماعیل و ہاجرہ سلام اللہ علیہا یعنی زمزم شریف بار بار نوش کرے، مہبطِ وحیِ الٰہی کی زیارت کر کے قلب و روح کو سکون پہنچائے، مراکزِ روحانیت کو بار بار تکتا رہے، عرفات و مزدلفہ میں وقوف کر کے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے، منیٰ میں قربانی پیش کر کے قربِ ربانی حاصل کرے۔
لاریب! اس سفرِ مسعود کا ایک ایک لمحہ عشق و عرفان اور سوز و گداز سے عبارت ہوتا ہے، وہاں ہر سو نور ہی نور نظر آتا ہے، زائرین کا ہر ہر لمحہ سوز و گداز میں ڈوبا ہوا گزرتا ہے، کیا نہیں ہے اس سفر، موجِ ظفر کی پہنائیوں میں؟ محبت ہے، رقت ہے، سسکیاں ہیں، آہیں ہیں، کرب ہے، درد ہے، مناجات ہے، گریہ و زاری ہے، تپشِ عشق ہے۔ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر، آلِ اولاد کو چھوڑ کر، نجی کام دھندوں کو چھوڑ کر، سچ پوچھیے تو ہر ایک کو چھوڑ کر اور ہر ایک سے کٹ کر صرف دو چادروں میں ملبوس بارگاہِ مولیٰ و کوچۂ جانِ جاناں کے پروانے بن جاتے ہیں، شمع کا پروانہ نہیں کہ جو حدودِ ادب کو لانگھ کر جلوۂ محبوب کی تابش سے خاکستر ہو جائے۔
یہاں ادب ہے، تلقینِ ادب ہے، سانس بھی گن گن کے لیا جا رہا ہے، پیر ساکت ساکت اور جسم جامد جامد ہے، سراپا تصویرِ ادب بنا ہوا ہے، آنکھیں اشک بار ہیں، دل احساسِ گناہ سے بیٹھا جا رہا ہے، ماضی کی ساری لغزشیں پردۂ ذہن پر آ رہی ہیں، جا رہی ہیں، مگر ادھر رحمتِ الٰہیہ کی صدائیں بھی غمزدوں کو مژدۂ مغفرت سنا رہی ہیں، فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بلکتے ہوؤں کو ڈھارس بندھا رہے ہیں کہ جس کا حج قبول ہوا اس کی مثال نوزائیدہ بچے کی طرح ہے، بارِ گناہ حاجی کے سر سے اتار لیا جاتا ہے، رحمتِ الٰہی بڑھ کر اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔
جیسا کہ حجِ مبرور کے حوالے سے آتا ہے، حجِ مبرور یعنی کہ جو حج شرفِ قبولیت حاصل کر جائے، اس کی فضیلت کے سلسلے میں حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ:
الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ
ترجمہ: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کا کفارہ ہے، جو ان دونوں کے درمیان ہوئے ہیں اور حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔“ [بخاری شریف، حدیث: 1773]
لکھا ہے کہ حج بظاہر ایک سفر ہی ہے مگر اس کی پہنائیوں میں عشق و الفت، وارفتگی و دیوانگی موجزن ہیں، حج کیا ہے؟ حج عشق و عرفان میں ڈوبے ہوئے اس سفر کا نام ہے جس میں ایک عاشق، بحکمِ الٰہی اپنے محبوب وطن کو چھوڑ کر سفر کی کمر توڑ صعوبتیں برداشت کر کے ہواؤں، خلاؤں، دریاؤں، صحراؤں اور بیابانوں کو روندتا ہوا کوچۂ جاناں میں داخل ہو جاتا ہے، بکھرے ہوئے بال، بڑھے ہوئے ناخن، مرجھایا ہوا چہرہ، گرد آلود سر، تارکِ مال و زر، گھر سے بے گھر، کھانے کی پروا نہ پینے کی خبر، نہ وضع دار لباس اور نہ ہی ظاہری رکھ رکھاؤ، نہ کلاہ و پاپوش کا احساس اور نہ ہی لومۃ لائم کی پروا، نہ چال میں سکون، نہ انداز میں قرار، آثارِ محبت سے وارفتہ، خانۂ محبوب کے تصور سے از خود رفتہ، آہ و بکا سے سوختہ اور رسمی وقار و تمکنت سے دل گرفتہ، دل و دماغ عظمتِ بیتِ الٰہی سے معمور، آنکھیں زیارتِ روضۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخمور، قلب و جگر انوار و برکات سے موفور۔
بس ایک ہی دھن میں مشغول، کشاں کشاں کوچۂ محبوب میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں، کبھی مکہ، کبھی مدینہ، کبھی عرفات، کبھی منیٰ، غرض یہ کہ حج ان عاشقانہ اعمال اور والہانہ افعال کا نام ہے جو بے ساختہ ایک عاشقِ زار سے اس انداز میں صادر ہوتے ہیں کہ گویا وہ جذبۂ محبت سے سرشار، محبوب کے جلوؤں میں سرمست ہے۔ یقیناً یہ مبارک سفر جس کو ہم نے سفرِ عشق لکھا ہے بڑی ہی سعادتوں، کرامتوں اور برکتوں والا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس سفرِ عشق کا بار بار مسافر بنائے، آمین۔ [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، جون 2023ء، ص: 7، 8]
