Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

تعلیماتِ رضا کی روشنی میں قبروں کی زیارت

تعلیماتِ رضا کی روشنی میں قبروں کی زیارت
عنوان: تعلیماتِ رضا کی روشنی میں قبروں کی زیارت
تحریر: پروفیسر دلاور خان
پیش کش: صباحت طیبہ نوری

مفکرِ اسلام امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بت پرستی کے آغاز اور اس کے اثرات سے متعلق فرماتے ہیں: دنیا میں بت پرستی کی ابتدا یوں ہوئی کہ صالحین کی محبت میں ان کی تصاویر گھروں اور مسجدوں میں رکھی گئیں، ان سے لذتِ عبادت کی تائید سمجھی، پھر آہستہ آہستہ وہی معبود ہو گئے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:

وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا

اور کافروں نے کہا کہ ہرگز اپنے خداؤں کو نہ چھوڑو اور ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر کو کبھی نہ چھوڑو۔ [سورۃ نوح: 23]

اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ ابو جعفر نے فرمایا: ”ود“ ایک مسلمان شخص تھا جو اپنی قوم میں ایک پسندیدہ اور محبوب بھی تھا، جب وہ مر گیا تو سرزمینِ بابل کے لوگ اس کی قبر کے آس پاس جمع ہوئے اور اس کی جدائی پر بے قرار ہوئے۔ جب شیطان نے اس کی جدائی میں لوگوں کو بے تاب پایا تو وہ انسانی صورت میں ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اس شخص کے مرنے پر تمہاری بے قراری دیکھ رہا ہوں، کیا تمہارے لیے ایک ایک فوٹو تیار کر دوں؟ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس کا تیار کردہ فوٹو دیکھ کر اسے یاد کرتے رہے۔ راوی نے کہا کہ ان کی اولاد نے یہ دور پا لیا پھر وہ دیکھتے رہے جو ان کے بڑے کرتے رہے، پھر نسل آگے بڑھی اور آنے والی نسلوں نے اسے خدا بنا لیا اور اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت میں مصروف ہو گئے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 24، ص: 574]

الشیخ احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، بخاری سے حدیث نقل کرتے ہیں: جب ان لوگوں میں کوئی نیک اور صالح آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کرتے، پھر ان کی تصاویر کو اس میں سجاتے، وہی اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ص: 575]

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفاتِ اقدس کے مرض میں فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو محلِ سجدہ بنا لیا اور فرمایا ایسا کرنے والے اللہ عزوجل کے نزدیک روزِ قیامت تک بدترین مخلوق ہیں۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: یہ نہ ہوتا تو قبرِ اطہر کھول دی جاتی، مگر اندیشہ ہوا کہ کہیں سجدہ نہ ہونے لگے لہٰذا احاطے میں مخفی رکھا۔ [فتاویٰ رضویہ، ص: 453]

شیخ الاسلام امام احمد رضا حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں شخصیت پرستی، تصویر پرستی، قبر پرستی اور بت پرستی کا تدریجی جائزہ پیش کیا کہ سابقہ امتوں نے اپنے صالحین کے ساتھ کس قدر غلو کا مظاہرہ کرتے ہوئے معبود کے درجے پر فائز کر دیا۔ دوسری طرف اس حقیقت کی جانب رہنمائی فرمائی کہ اس دور کے علماء عقیدۂ توحید کے فروغ میں سستی اور کاہلی کے مرتکب ہوئے جس کی وجہ سے ان میں عقیدۂ توحید کا علم اٹھ گیا، علماء کی اس کوتاہی کے سبب سابقہ امتوں میں قبر پرستی اور بت پرستی کی راہ ہموار ہوتی چلی گئی۔

یہی وجہ ہے کہ مفکرِ اسلام نے امتِ مسلمہ میں عقیدۂ توحید کو راسخ کرنے کے لیے بت پرستی اور قبر پرستی کی تمام راہیں مسدود کرنے کے لیے فتاویٰ رضویہ میں کئی احادیث نقل فرمائی ہیں، مثلاً:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

  1. قبروں کی طرف نماز نہ پڑھو۔
  2. الٰہی! میرے مزارِ کریم کو بت نہ ہونے دینا، اللہ تعالیٰ کی لعنت ان پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبریں مسجد کر لیں۔
  3. بدترین لوگوں میں وہ ہیں جو قبروں کو محلِ سجود قرار دیں۔

[فتاویٰ رضویہ، جلد: 22، ص: 454، 455]

ان احادیث کی روشنی میں امتِ مسلمہ کو قبر پرستی سے دور رکھنے کے لیے کئی فتاویٰ بھی جاری فرمائے مثلاً:

قبر کے سامنے نماز پڑھنا گناہِ کبیرہ ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 41، ص: 476]

مزار کو سجدہ درکنار کسی قبر کے سامنے اللہ عزوجل کو سجدہ جائز نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 22، ص: 476]

خود قبر کو سجدہ کرنا یا اس سجدے میں (قبر کو) قبلۂ توجہ بنانا کس درجہ سخت ممنوع و حرام ہوگا۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 14، ص: 299]

اگر طواف بہ نیتِ عبادتِ غیر ہے تو مطلقاً کفر و شرک ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 22، ص: 392]

زمین بوسی، بالائے طاق کو رکوع کے قریب تک جھکنا منع ہے۔ مزارات کو سجدہ یا ان کے سامنے زمین چومنا اور حدِ رکوع تک جھکنا منع ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 14، ص: 474]

بوسۂ قبر میں اختلاف ہے، بکثرت اکابر جواز و منع دونوں طرف ہیں اور عوام کے لیے احتیاط منع میں ہے، خصوصاً مزاراتِ طیبۂ اولیائے کرام کے اتنا قریب جانا خلافِ ادب ہے، کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 22، ص: 419]

کسی ولی اللہ کا مزارِ شریف فرضی اونچا بنانا اور اس کے ساتھ اصل سا معاملہ کرنا ناجائز و بدعت ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 9، ص: 425]

آپ سے سوال کیا گیا کہ قبر اونچی کر کے بنانا کیسا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”خلافِ سنت ہے۔ میرے والدِ ماجد، میری والدہ ماجدہ اور میرے بھائی کی قبریں دیکھیں ایک بالشت سے اونچی نہ ہوں گی“۔ [الملفوظ، حصہ سوم، ص: 248]

مفکرِ اسلام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قبروں پر سجدہ، رکوع، طواف کرنے سے منع فرمایا، یہاں تک ہی نہیں بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ اخلاصِ عبادت یہ ہے کہ عبادتِ غیر کی مشابہت سے بچیں۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 22، ص: 505]

قبر پرستی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے فرماتے ہیں:

لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ وَإِنْ حُرِّقْتَ

اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اگرچہ تجھے جلا بھی دیا جائے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 12، ص: 13]

آپ ایک اعتدال پسند مفکرِ اسلام ہیں، آپ ایک طرف قبر پرستی کی تمام راہیں قرآن و سنت کی روشنی میں مسدود کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف قرآن و حدیث سے ماخوذ حرمتِ قبر کی دعوت و فکر عام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تناظر میں کئی احادیث رقم کرتے ہیں۔

حضرت عمارہ بن حزم راوی ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: ”اے قبر والے! قبر سے اتر آ، نہ صاحبِ قبر کو ایذا دے نہ وہ تجھے“۔ نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”مردے کی ہڈی کو توڑنا اور اسے ایذا پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے زندہ ہڈی کو توڑنا“۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 19، ص: 441]

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبروں کے درمیان جوتیاں پہن کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ: ”خرابی ہو تیری اے جوتیوں والے، اپنی جوتیاں اتار دے“ (ابوداؤد)۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 9، ص: 444]

آپ نے فرمایا کہ: ”چنگاری یا تلوار پر چلنا یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی قبر پر چلوں“۔ حضرت ابنِ مسعود فرماتے ہیں کہ: ”بے شک مجھے آگ پر پاؤں رکھنا زیادہ پسند ہے مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھنے سے“۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 9، ص: 446]

الشیخ احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ بحمد اللہ تعالیٰ حکم مسئلہ مثلِ آفتاب روشن ہو گیا کہ جب حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اور اس سے تکیہ لگانے اور مقابر میں جوتا پہن کر چلنے والوں کو منع فرمایا اور علماء نے اس خیال سے قبور پر پاؤں نہ پڑے گورستان جو راستہ جدید نکالا گیا ہو اس میں چلنے کو حرام بتایا ہے اور حکم دیا کہ قبر پر پاؤں نہ رکھیں بلکہ اس کے پاس نہ سوئیں، سنت یہ ہے کہ زیارت میں بھی وہاں نہ بیٹھیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ بلحاظِ ادب پاس بھی نہ جائیں بلکہ دور ہی سے زیارت کرائیں اور مقابر میں چرائیں (؟) اور تصریح فرمائی کہ مسلمان زندہ و مردہ کی عزت برابر ہے، جس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے مردے کو بھی اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور انہیں تکلیف دینا حرام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد: 9، ص: 453]

آپ فرماتے ہیں کہ: ”نفسِ قبر کی تعظیم نہیں بلکہ مقبورِ معظم کی تعظیم ہے“۔

قبر سے متعلق آپ کی تعلیمات کے تنقیدی جائزے سے حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپ احادیثِ مبارکہ پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جس میں قبروں پر سجدہ کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے، اور ان احادیث سے حرمتِ قبر ثابت ہے۔ اسی طرح آپ زیارتِ قبور کے تحت رقم کی گئی احادیث پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ہم مفکرِ اسلام کی ان تعلیمات پر عمل کریں تو معاشرے سے فرقہ واریت کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ [حوالہ : ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور، فروری 2018ء ص: 16]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!