Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

ذمہ دارانِ مدارس کے لیے لمحۂ فکریہ

ذمہ دارانِ مدارس کے لیے لمحۂ فکریہ
عنوان: ذمہ دارانِ مدارس کے لیے لمحۂ فکریہ
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: اکرام رضوی

اس میں شک نہیں کہ آج جو بھی علم کی روشنی نظر آ رہی ہے اس میں درسگاہوں کا بہت بڑا حصہ ہے، خصوصاً دینی درسگاہوں کا علم کے ساتھ صالح فکر و خیال اور پاکیزہ اخلاق و عمل کی ترویج میں جو اہم کردار ہے اسے ہرگز فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں جس قدر متحرک و فعال ہونا چاہیے زیادہ تر درسگاہیں اس سے ابھی تک بہت دور ہیں۔ جو درسگاہیں نسبتاً زیادہ فعال ہیں ان کے لیے بھی ترقی کے میدان ابھی کافی وسیع ہیں اور بڑی محنت و جاں فشانی کے بعد ہی وہ دنیا کی عظیم دانشگاہوں کے مقابلے میں قابلِ ذکر ہو سکتی ہیں۔

میرا سابقہ طلبہ اور تعلیم یافتہ افراد سے اکثر پڑتا رہتا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو عموماً دین کی ضروری معلومات اور مذہبی افکار و اعمال کے لازمی علم سے بہت دور پاتا ہوں اور یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ آخر ان تک دینی و مذہبی علم کی روشنی کیسے پہنچائی جائے؟ ان میں بعض طلبہ اور فراغت یافتہ افراد ایسے بھی ملتے ہیں جن کو بہت سے دنیاوی محکموں کی بھی عام معلومات نہیں ہوتی اور صحیح ہندی، انگریزی سمجھنا سمجھانا بھی ان کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے۔‌ ایسے افراد پر اور زیادہ تعجب ہوتا ہے کہ آخر اس علم کی تحصیل میں انہوں نے عمر بسر کی ہے، اس میں اس قدر کمزور کیوں ہیں؟ اس طرف ان طلبہ کے اساتذہ، سرپرستوں، درسگاہوں کے ذمہ داروں اور خود ان طلبہ کو انصاف و اخلاص کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مذکورہ طلبہ سے زیادہ میرا تعلق مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ سے رہتا ہے۔ ان کے علم و عمل، اخلاق و تہذیب اور فکر و خیال کو قریب سے دیکھنے کے مواقع بھی میسر ہیں۔ اسی طرح جو حضرات کسی درسگاہ سے فارغ ہو چکے ہیں ان سے گفت و شنید بھی صبح و شام ہوتی رہتی ہے۔ طلبہ کا تو بعض اوقات باضابطہ امتحان بھی لینا پڑتا ہے اور زیادہ تر عام گفتگو اور ملاقاتوں میں طلبہ اور فارغین کی صلاحیتوں کا مختلف جہتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلاشبہ ان میں بعض کی علمی و عملی حالت بڑی مسرت بخش ہوتی ہے مگر اکثر کی جو عام حالت پائی جاتی ہے، ذیل میں اس کو ذکر کر کے میں اپنا اصل مدعا پیش کرنا چاہتا ہوں۔

عام حالت یہ ہے کہ آج دینی درسگاہوں سے نکلنے والے فارغین کے متعلق تحریر و قلم سے دوری، تقریروں میں دلائل و حقائق کی کمی، غیر مسند واقعات و روایات کی زیادتی، صحیح روایات میں بھی افسانوی اور اختراعی خیالات و بیانات کی بے جا ملاوٹ، عصرِ حاضر کے دینی و علمی تقاضوں سے بے خبری اور ان کی تکمیل سے بے اعتنائی کی شکایت عام ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن مدارس کے ذمہ داروں کو اپنے طلبہ کی خامیوں کا یا تو بالکل احساس ہی نہیں یا اگر احساس ہے تو ان کے ازالے کی کوئی فکر اور کارگر جدوجہد نہیں۔ جبکہ ان کا فرض ہوتا ہے کہ اس فکری پستی اور علمی محدودیت کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے فوراً ان کے علاج کی طرف متوجہ ہوں اور اپنی جہدِ مسلسل اور ہمت کے ذریعے حالات کا رخ بدل دیں۔ اس سلسلے میں درجِ ذیل نکات پر غور کرتے ہوئے مناسب تجاویز کو فوراً زیرِ عمل لانے کی ضرورت ہے:

  1. ایک وقت وہ تھا جب اسلامی شہروں میں معتزلہ و خوارج جیسے فرقے اپنا سکہ جمائے ہوئے تھے۔ وہ اپنے پاس ظاہری زہد و تقویٰ، شجاعت و دلیری، علم و مکالمہ، زبان و بیان کی دلکشی، تحریر و قلم کی دلاویزی، عربی و ادبیات میں مہارت و امامت، حکومتوں کے عہدوں پر تسلط، مالداروں اور حاکموں کے یہاں اثر و رسوخ جیسے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے آلات و وسائل سے لیس تھے۔ ان کے علمی کمالات و محاسن کی وجہ سے ان کی بہت سی کتابیں بھی عام نصاب میں شامل تھیں، بعض آج بھی شامل ہیں۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ باطل فرقے اسی وقت ناپید ہو جائیں گے۔ لیکن علمائے اہلِ سنت اپنی منصبی ذمہ داریوں سے غافل نہ تھے۔ انہوں نے اعتزالی تفسیروں کے مقابل تفسیریں، کلام کے مقابل کلام، حدیث و فقہ کے مقابل حدیث و فقہ، اسی طرح تاریخ و بلاغت وغیرہ فنون کے مقابل ہر فن میں خود کتابیں لکھیں اور اہلِ باطن کی تلبیسوں اور گمراہیوں کا پردہ چاک کیا۔ اربابِ حکومت اور اہلِ مناصب تک بھی اپنا آوازۂ حق اور نورِ حقیقت اس قدر عام کیا کہ ظلمتوں نے خود دم توڑ دیا۔

اس کے ساتھ یہودیت و نصرانیت کی جانب سے جو حملے ہو رہے تھے ان کا بھی انہوں نے مقابلہ کیا اور اسلام کی صداقت و حقانیت کا جلوہ ہر دور میں جہاں تاب کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج جب بھی کوئی فتنہ سر اٹھاتا ہے تو اہلِ نظر کو قدیم علماء کی تحریروں سے اس کا جواب بھی کسی نہ کسی شکل میں دستیاب ہو جاتا ہے۔

  1. آج ہم جس ماحول سے گزر رہے ہیں اس میں مدارسِ اسلامیہ کی ذمہ داریاں پہلے سے زیادہ سخت اور مشکل ہو چکی ہیں کیونکہ آج کچھ نئے علوم و فنون پیدا ہو چکے ہیں جو ہماری درسگاہوں میں داخل نہیں لیکن ایک عالمِ دین کو میدان میں اترنے کے بعد ان کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف قدیم اسلامی علوم و فنون بھی اس قدر ضروری ہیں کہ ان کی کامل تحصیل کے بغیر اسلام کی ٹھوس وکالت اور ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ ادا ہی نہیں ہو سکتا۔

اس لیے آج عصری تقاضوں کے مطابق قدیم و جدید سے ہم آہنگ نصابِ نو کی ترتیب اور مدارس میں اس کی تنفیذ کی ضرورت اتنی اہم ہو چکی ہے کہ اس سے صرفِ نظر کسی جانی و مالی خسارے سے کم نہیں، بلکہ اس سے فزوں تر ہے۔

  1. نصابِ تعلیم کوئی بھی نافذ ہو، اس سے ہرگز یہ تصور نہیں کر لینا چاہیے کہ اب طلبہ و علماء کو مزید کچھ دیکھنے اور لکھنے پڑھنے کی ضرورت نہ رہی، ہم نے اپنے نصاب میں اتنا کچھ سمو دیا ہے کہ وہی ساری ضروریات و مطالبات کے لیے کافی ہے۔ ایسا نہ تو کبھی ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی نصابِ تعلیم صرف لازمی استعداد اور صحیح فکر و مزاج پیدا کرتا ہے، اس کی بنا پر مزید تحقیق و مطالعہ کی راہیں کھل جاتی ہیں اور انسان تمام ضروری آلات و وسائل سے آراستہ ہونے کے قابل بن جاتا ہے۔

نصابِ علم میں بھی وسعت و مہارت اور پختگی و مضبوطی خارجی مطالعے کے بغیر نہیں آ سکتی، اس لیے کہ کسی بھی نصاب میں گنی چنی محدود کتابیں، محدود مضامین اور محدود علوم و فنون ہی داخل کیے جا سکتے ہیں جبکہ علم و فن کی دنیا اور زمانے کے حالات و مطالبات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اسے کوئی خاص نصاب اپنے دامن میں سمیٹنے سے عاجز ہے۔

آپ اربابِ کمال اور اصحابِ تصنیف علماء و محققین کے حالاتِ زندگی پر نظر ڈالیں تو ہر ایک کے بارے میں آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ صرف اپنے نصابِ تعلیم کی بنیاد پر صاحبِ فضل و کمال اور شناورِ تحقیق و تدقیق نہ بن گئے، بلکہ انہوں نے نصابی کتابوں سے باہر بھی بے شمار کتابوں کا بڑی دیدہ ریزی اور جگر کاوی سے مطالعہ کیا تب کہیں وہ اپنے زمانے میں امتیازی شان کے حامل اور زمانۂ مابعد میں عقیدتِ عوام کے قابل ہو سکے۔

  1. ایک ستم یہ بھی ہے کہ عصری نصاب والا اپنے نصاب سے باہر معلومات و مضامین کے سلسلے میں یہ کہہ کر چھٹی پا جاتا ہے کہ یہ میرا موضوع نہیں رہا، میں تو فلاں سبجیکٹ کا ماہر ہوں، مگر ایک عالمِ دین اگر یہی بات کہے تو اس کی گلو خلاصی نہیں ہو سکتی۔ مزید براں یہ صرف اس عالم کی کمی شمار نہیں ہوتی بلکہ اس کے مذہب، اس کی درسگاہ، اس کے تعلیمی نصاب، اس کے اساتذہ سبھی کا قصور شمار کیا جاتا ہے۔ عصری نصاب والے خود بے شمار ضروری معلومات و علوم سے نابلد ہوں جب بھی وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور عالمِ دین اگر چند دنیاوی علوم سے بے بہرہ ہے یا کچھ دینی مسائل اسے مستحضر نہیں تو وہ سب سے بڑا جاہل ہے۔ اس دنیا کے اندر علم و جہل کو ناپنے کے پیمانے بھی بڑے عجیب و غریب ہیں۔

اب لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ و اساتذہ کو ضروری علوم سے آراستہ کیسے کیا جائے؟ نئے فتنوں کے رد میں مضبوط، وزنی کتابیں منظرِ عام پر کیسے آئیں؟ جدید نصاب کی تدوین کرنے والے اہلِ علم و قلم کو کہاں تلاش کیا جائے؟ تقریروں کی غلط بیانیوں کا سدِ باب کیسے ہو؟ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنا اور اسباب و وسائل کو ترک کر کے آسمان سے رجال الغیب کے نزول اور ساری ذمہ داریوں کی کفالت کے وقت کا انتظار کرتے رہنا اہلِ خرد کا کام نہیں۔ ربِ کریم نے خود علمائے عصر اور اسلامیانِ زمانہ کے کاندھوں پر دین و علم کی اشاعت اور فروغ و ترقی کی ذمہ داری رکھی ہے، اسباب و وسائل بھی پیدا فرمائے ہیں، عقل و علم اور کمال و ہنر سے بھی نوازا ہے۔ انہیں خود اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کا سامان کرنا ہے اور آج ہی اپنے فرائض کی ادائیگی کی تدبیر کرنی ہے۔

  1. ان حالات میں ضروری ہے کہ خارجی طور پر طلبہ کو تقاضائے وقت کے مطابق لازمی معلومات سے آراستہ کیا جائے اور ان میں قلمی صلاحیت کو بھی فروغ دیا جائے۔ اس کے لیے ہر ادارے میں ایک ایسی لائبریری اور دار المطالعہ ہونا ضروری ہے جس میں مختلف جرائد و رسائل آتے رہیں اور مختلف علوم و فنون مثلاً عقائد و کلام، تفسیر و حدیث، فقہ و اصول، تاریخِ عالم، تاریخِ مذاہب، تاریخِ علوم، تقابلِ ادیان، ردِ فرقِ باطلہ، سیر و سوانح، جغرافیہ و سائنس وغیرہ کی کتابیں طلبہ و اساتذہ کے لیے فراہم کی جائیں اور انہیں مطالعے کا عادی بنایا جائے۔ تقریری مقابلے کرائے جائیں اور اس بات کی پابندی کی جائے کہ جو کچھ بھی لکھیں اور بولیں وہ مستند کتابوں سے ماخوذ اور صحیح و مقبول ہو۔

اس طرح انہیں وہ علوم بھی حاصل ہو سکیں گے جو نصاب کی گرفت میں نہیں آتے اور قوم کو ایسے افراد بھی مل جائیں گے جو اپنی تقریروں میں معتبر اور صحیح مواد موثر انداز میں پیش کر کے دین کی تبلیغ اور ملت کی رہنمائی کا فریضہ بجا طور پر انجام دیں۔

دوسری طرف تعلیم یافتہ افراد کی رہنمائی کے لیے قابلِ اعتماد مصنفین کا ایک گروہ پیدا ہو سکے گا۔

تیسری طرف ہر دور میں تقاضائے عصر کے مطابق جدید اور جامع نصاب تیار کرنے والے وسیع النظر اہلِ قلم بھی مستعد اور تیار ملیں گے اور وسیع النظر اہلِ قلم کی نایابی یا کمیابی کے باعث جدید نصاب کی تدوین کا مسئلہ تعویق میں نہ پڑ سکے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اہلِ مدارس جس طرح دوسرے تمام مصارف کے لیے سرمایے کی فراہمی کر لیتے ہیں لائبریری اور دار المطالعہ کے لیے بھی بخوبی کر سکتے ہیں۔ ضرورت اور اس کی اہمیت کا احساس اولین شرط ہے۔ اگر دین و ملت اور علم و ادب کی اس اہم ضرورت کا احساس پیدا ہو گیا، دین و علم کے فروغ و ارتقا کی سچی تڑپ دلوں میں موجزن ہو گئی اور سطحی و غیر علمی ماحول میں انقلاب لانے کا مخلصانہ جذبہ بیدار ہو گیا تو ذمہ دارانِ مدارس درسیات کی فراہمی اور تعمیرات کے انتظام کے ساتھ دار المطالعہ کے قیام، لائبریری کی توسیع اور اساتذہ و طلبہ کے لیے اسے مفید سے مفید تر بنانے کا مسئلہ بھی خود ہی بہت جلد حل کر لیں گے۔

  1. اس کے ساتھ چند باتیں اور ہیں جن کی طرف توجہ ضروری ہے:

الف۔ قواعد کی کتابیں مکمل پڑھائی جائیں۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے طلبہ علم الصیغہ، ہدایت النحو، پنج گنج جیسی کتابیں مکمل نہیں کرتے اور آگے کی کتابیں انہیں شروع کرا دی جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی قواعد سے ناواقفیت کے باعث عبارت خوانی اور ترجمہ بھی ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے پھر وہ کسی لائق نہیں رہ جاتے۔

ب۔ عربی، فارسی شروع کرانے سے پہلے ابتدائی حساب اور اردو لکھنے پڑھنے کی قدرت پیدا کی جائے، املا درست کرایا جائے، چھوٹے چھوٹے مضامین اور خطوط لکھنے کی مشق کرائی جائے ورنہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض طلبہ حساب و املا میں کمزور ہونے کے باعث بعدِ فراغت بھی بہت سی مشکلات کا سبب بنتے ہیں اور یہ کمزوری خود ان کی رسوائی کا سامان فراہم کرتی ہے۔

ج۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابتدائی فارسی، عربی کے ساتھ حساب اور اردو املا، مضمون نویسی کی ضروری تعلیم دی جائے تاکہ نو داخل طلبہ کی بنیادی کمزوریوں کی تلافی ہو سکے۔

د۔ تجویدِ قرآن سے غفلت عام ہے، ناظرہ کی تعلیم عموماً ایسے مدرسین کو سپرد کی جاتی ہے جو طلبہ کو صحتِ مخارج کے ساتھ حروف کی ادائیگی کا عادی نہیں بنا پاتے بلکہ بعض تو خود بھی اس پر قادر نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید ختم کرنے اور اعادہ کرنے کے بعد بھی سو فیصد بچے صحیح ادائیگی سے عاجز ہوتے ہیں، اب یہ عربی درجات کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی قرآن غلط پڑھتے ہیں اور عموماً امامت بھی کرتے ہیں جس سے ان کی نمازوں کے ساتھ دوسروں کی نمازیں بھی باطل ہوتی ہیں۔ اس لیے ایک طرف تو ناظرہ کی تعلیم صحیح خواں اور ذمہ دار، محنتی مدرسین کے حوالے ہونی چاہیے دوسری طرف ابتدائی عربی کے کسی درجے میں تجوید لازم کر دینا چاہیے تاکہ دوسری درسگاہوں سے آنے والے نئے طلبہ کی کمزوری دور ہو سکے اور سبھی اس قابل بن سکیں کہ صحتِ قراءت کے ساتھ اپنی نمازیں صحیح کر سکیں اور دوسروں کی نمازیں بھی ان کی اقتدا میں درست ہوں۔

  1. اس طرح کے بہت سے مسائل پر میں اپنے مضمون ”مدارسِ اسلامیہ کے انحطاط کے اسباب و علاج“ میں گفتگو کر چکا ہوں اسے ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں دار المطالعہ، لائبریری اور چند ضروری باتوں کا تذکرہ شدتِ احساس اور جذبۂ اخلاص کے تحت زیرِ قلم آیا ہے۔

قوی امید ہے کہ مخلص و دردمند اور سنجیدہ و وسیع الظرف حضرات مذکورہ نکات پر غور کر کے انہیں بروئے کار لانے کی کوشش کریں گے اور ربِ کریم اپنی توفیق و ہدایت اور نصرت و اعانت سے ہمکنار بھی فرمائے گا۔

وَمَا ذٰلِكَ عَلَيْهِ بِعَزِيزٍ۔

الحمد للہ اس سلسلے کے کئی مشوروں کو اب جامعہ اشرفیہ مبارک پور اور متعدد اداروں میں عملی شکل مل چکی ہے اور ابتدائی درجات کے لیے ایک جدید نصاب بھی تیار کر کے شاملِ درس کیا جا چکا ہے۔ [حوالہ: مقالاتِ مصباحی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!