| عنوان: | علم اور علماء کی اہمیت و فضیلت |
|---|---|
| تحریر: | مفتی بدر عالم مصباحی پرنسپل الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور |
| پیش کش: | محمد کامران رضا گجراتی |
یہ مضمون حضور مفتی صاحب قبلہ نے اپنے زمانہ طلب علمی کے دوران لکھا تھا جو ماہ نامہ اشرفیہ میں شائع ہوا تھا {alertInfo}
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ. [امام ابن ماجه، ابن ماجه، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم، رقم الحديث 224، ص: 49، دارالكتب العلمية، بیروت]
حصول علم ہر مسلمان پر (مرد ہو یا عورت) فرض ہے علم سے مراد ضروریات دین کا علم ہے مثلا نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ وغیرہ کا علم۔ کیونکہ یہ ارکان اسلام سے ہیں۔ قرآن مقدس میں سب سے پہلے علم ہی کی جانب رغبت دلائی گئی بلکہ امر کے ذریعہ خطاب کیا گیا۔ ارشاد رب العزت ہے:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ [پارہ: 30، سورۃ العلق، آیت: 1، 2]
ترجمہ کنزالایمان: پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔
یہ اسلام کا سب سے پہلا اعلان ہے۔ اسلام نے دنیا میں قدم رکھتے ہی تحصیل علم کا اعلان کر دیا۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ دنیا کا کوئی بھی نظام علم کے بغیر مکمل طور سے صحیح و سالم نہیں رہ سکتا۔ کوئی بھی انسان ہو سب سے پہلے اسے علم کی ضرورت پڑتی ہے۔ علم کے بعد ہی کسی دستور و قانون کی صحیح طریقے سے پابندی کر سکتا ہے۔ اسلام نے جگہ جگہ تحصیل علم پر کافی زور دیا ہے۔
فضیلت علم
الله عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ- وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ [پارہ: 28، سورۃ المجادلہ، آیت: 11]
ترجمہ کنزالایمان: اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ. [امام ابن ماجه، ابن ماجه، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم، رقم الحديث 220، ص: 48، دارالكتب العلمية، بیروت]
اللہ عزوجل جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا عالم بناتا ہے۔ حضرت عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ یارسول الله ”ای الأعمال أفضل“۔ سب سے افضل عمل کیا ہے۔ فرمایا! معرفت الہی۔ پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ عمل کے متعلق سوال کر رہا ہوں پھر حضور ﷺ نے جواب میں معرفت الہی فرمایا۔ اس نے جب تیسری بار یہی کلمات دہرائے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ علم کے ساتھ عمل قلیل تو مفید ہو سکتا ہے لیکن جہل کے ساتھ عمل کثیر بھی نافع نہیں ہو سکتا۔ [امام غزالی، احیاء علوم الدين، كتاب العلم، فضيلة العلم، ص: 14، دار ابن حزم، بیروت]
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی بارگاہ عالی میں دو ایسے آدمیوں کا تذکرہ ہوا جن میں ایک عالم تھا ایک عابد۔ تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ. [الترمذي، سنن الترمذي، ابواب العلم، باب ماجاء في فضل الفقه على العبادة، رقم الحديث 2685، ص: 632، دار الكتب العلمية، بیروت]
عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے تمہارے ادنیٰ پر میری فضیلت ہے۔ پھر حضور ارشاد فرماتے ہیں:
إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ. [ایضاً]
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور تمام زمین و آسمان والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں معلم کے لئے دعائے خیر کرتی ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے:
فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ. [امام ابن ماجه، ابن ماجه، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم، رقم الحديث 222، ص: 49، دارالكتب العلمية، بیروت]
ایک فقیہ شیطان لعین پر ہزار عابدوں سے بھاری ہے۔
جیسا کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق مشہور و معروف ہے کہ شیطان نے آپ کو پتہ نہیں کتنی بار دھوکا دینا چاہا۔ لیکن آخر میں عاجز آکر کہتا ہے کہ عبدالقادر کو عبدالقادر کے علم نے بچا لیا ورنہ میں نے اپنے اس مکر و فریب سے بہت سے عابدوں کو گمراہ کر دیا۔
دوسری جگہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَ بِهِ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ. [الترمذي، سنن الترمذي، ابواب العلم، باب ماجاء في فضل الفقه على العبادة، رقم الحديث: 2682، ص: 631، دار الكتب العلمية، بیروت]
عالم کی فضیلت عابد پر مثل چاند کے ہے ستاروں پر، بیشک انبیاء درہم و دینار کا وارث نہیں بناتے ہیں۔ ہاں علم کا وارث بناتے ہیں جس نے اسے حاصل کیا تو اس نے ایک بڑا حصہ پالیا۔
حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا:
إِنَّهُ يَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ. [امام ابن ماجه، ابن ماجه، باب ثواب معلِّم الناس الخير، رقم الحديث 239، ص: 51، دارالكتب العلمية، بیروت]
عالم کے لئے زمین و آسمان والے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ. [امام ابن ماجه، ابن ماجه، باب ثواب معلِّم الناس الخير، رقم الحديث 240، ص: 51، 52، دارالكتب العلمية، بیروت]
جس نے کسی علم کی تعلیم دی۔ اس کے لئے اس کا بھی اجر ہے جس نے اس پر عمل کیا اور عامل کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ طلب علم نماز نفل سے افضل ہے۔ [ابو نعیم الاصبهاني، حلية الاولياء، امام شافعی رحمه الله، ص: 119، ج: 9، دار الفكر، القاهره]
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نیت نیک ہو تو طلب علم سے افضل کوئی عمل نہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ علم مال سے بہتر ہے کیونکہ مال کی حفاظت تمہارے ذمہ ہے اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، دوسری بات مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، علم حاکم ہے مال محکوم ہے۔ مالدار چل بسے لیکن علم والے زندہ ہیں، ان کے اجسام مٹ گئے مگر ان کے کارنامے مٹنے والے نہیں۔ [امام غزالی، احیاء علوم الدين، كتاب العلم، فضيلة العلم، ص: 14، دار ابن حزم، بیروت]
عون ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ کمال تقویٰ یہ ہے کہ نیا علم حاصل کرتے رہو، یہ علم پر ظلم ہے کہ اس میں اضافہ کا خیال نہ ہو۔
لقمان حکیم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل کون؟ تو جواب دیا: مومن عالم۔
ابن مقفع کہا کرتا تھا کہ علم حاصل کرو۔ اگر بادشاہ ہوئے تو اور بلند مرتبہ ہو جاؤ گے اور اگر عام آدمی رہے تو کم از کم زندہ تو رہ سکو گے۔
حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ علم سیکھ کر اس پر عمل کرنا دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے۔
یہ ایک حقیقت واضحہ ہے کہ علم سب سے بڑی شرافت ہے اور ادب و انسانیت سب سے اعلی نسب اور اعلیٰ کردار ہے۔ اسی لئے ہر شخص چونکہ بے علم اگر آپ سے علم والا اور عقلمند سمجھیں تھیں تو وہ ضرور خوش ہوگا اور جس کے متعلق آپ نادانی اور جہالت کا گمان کریں وہ یقینا ناراض ہوگا یہ انسان کی فطرت ہے۔ حاصل کلام علم ایک ایسی نعمت ہے جس کا ہر شخص امیدوار اور لالچی ہوتا ہے علم ایسی زینت ہے جس سے ہر شخص مزین ہونے کی تمنا اور آرزو کرتا ہے۔ علم ہی سے حرام و حلال کے مابین تمیز پیدا ہوتی ہے۔
علم ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتگان قدس پر فضیلت حاصل ہوئی۔ جس سے خداوند قدوس و سبوح نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اپنا خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا۔ تو فرشتوں نے استدلالاً پیش کیا تھا:
قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ [پارہ: 1، سورة البقرة، آیت: 30]
ترجمہ کنزالایمان: بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں۔
تو اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا [پاره: 1، سورة البقرة، آیت: 30، 31]
ترجمہ کنزالایمان: فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔
اہمیت علم
بانی اسلام سرکار رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اہمیت علم کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ. [امام البيهقى، شعب الايمان، باب في طلب العلم، رقم الحديث: 1663، ص: 254، ج: 2، دارالكتب العلمية، بیروت]
علم حاصل کرو اگر چہ چین میں ہو۔ یعنی تحصیل علم میں اگر تمہیں چین جیسے دور دراز ملک کا بھی سفر کرنا پڑے تو تم اسے ضرور کرو۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام تحصیل علم میں کئی کئی دن و رات بلکہ سالہا سال سفر کی زندگی گزار دیتے تھے۔ صحابہ کرام کی سیرتوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سارے صحابہ کرام نے ایک ایک حدیث کے لئے لمبے لمبے سفر کا اہتمام کیا۔
حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینے سے مصر کا سفر محض ایک حدیث کے لئے کیا۔ [العلم والعلماء للعلامة ابن عبد البر]
سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں ایک ایک حدیث کے لئے کئی کئی دن کئی کئی راتیں سفر کیا کرتا تھا۔
کتنا علم سیکھنا فرض ہے؟
حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرضیت علم کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو فرمایا کہ انسان پر اتنا علم فرض ہے کہ جب اسے کسی دینی معاملے میں شک ہو تو رفع شک کیلئے سوال کرلے، یہی سوال فرض ہے۔ [ابن عبد البر، جامع بيان العلم وفضله، طلب العلم فريضة علی کل مسلم، رقم الحديث: 33، ص: 53، ج: 1، دار ابن الجوزي]
حضرت امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرضیت علم کی مقدار کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا آدمی کو اتنا علم ضرور حاصل کرنا چاہئے کہ اپنے دینی معاملات میں فائدہ اٹھا سکے۔ [ایضاً]
جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فرائض دین کا اجمالی علم سب لوگوں پر فرض ہے اس سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔ جیسے کلمہ شہادت زبان سے ادا کرنا اور قلب سے اقرار کہ اللہ عزوجل وحدہ لاشریک ہے اور مع جملہ صفات ازلی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کی شہادت کہ حضور اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے، رسول اور خاتم النبیین ہیں اور ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک حق اور اللہ کا کلام ہے۔
سفر برائے تحصیل علم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللّٰهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ. [الترمذي، سنن الترمذي، ابواب العلم، باب ماجاء في فضل الفقه على العبادة، رقم الحديث: 2682، ص: 631، دار الكتب العلمية، بيروت]
جو شخص حصول علم کے لئے سفر کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی راہ چلائے گا اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لئے اپنے پر بچھائیں گے۔
اسی مضمون کی دوسری حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوں مروی ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللّٰهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. [الترمذي، سنن الترمذي، ابواب العلم، باب فضل طلب العلم، رقم الحديث: 2646، ص: 624، دار الكتب العلمية، بيروت]
رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حصول علم کیلئے سفر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی راہ آسان کر دے گا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ حَتَّى يَرْجِعَ. [ایضاً]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تحصیل علم میں سفر کرے وہ واپسی تک اللہ کے راستے میں ہے۔
ایک روایت میں ہے:
مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ. [مسند الدارمي، باب: في فضل العلم و العالم، ج 1]
جسے اس حالت میں موت آئی کہ وہ علم طلب کر رہا ہو تاکہ اسلام کا احیاء کرے تو اس میں اور انبیاء کے درمیان جنت میں صرف ایک درجے کا فرق ہوگا۔
حضرت سَخْبَرَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى. [ترمذي، سنن الترمذي، ابواب العلم، باب: فضل طلب العلم، رقم الحديث: 2648، ص: 624، دار الكتب العلمية، بیروت]
جس نے علم حاصل کیا تو وہ طلب علم اس کے گزشتہ صغائر گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتا ہے۔
زر بن حبیش سے مروی ہے کہ میں صفوان بن عسال کے یہاں پہنچا تو انھوں نے فرمایا: تم کیسے آئے؟ میں نے علم کو ظاہر کرتے ہوئے کہا یعنی میں طلب علم کے سلسلے میں آیا ہوں تو انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَا مِنْ خَارِجٍ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ. [امام ابن ماجه، ابن ماجه، باب فضل العلماء والحث على طلب العلم، رقم الحديث 226، ص: 49، دارالكتب العلمية، بیروت]
جو کوئی طلب علم میں اپنے گھر سے نکلتا ہے۔ فرشتے اس کے لئے اس کے عمل پر خوش ہو کر اپنے بازوؤں کو بچھا لیتے ہیں۔
