| عنوان: | تسلیم و انقیاد اور رضا بالقضا فلاحِ دارین کا ضامن (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
ہر رنگ میں راضی بہ رضا ہو تو مزا دیکھ
حیاتِ انسانی کی معراج تسلیم و انقیاد اور رضا بالقضا میں مضمر ہے۔ یہی وہ راز ہے جس نے حیاتِ فانی کو انعامِ سرمدی سے سرفراز کیا۔ یہی وہ سرِّ نہاں ہے جو اولیائے حق پر آشکار ہو کر انہیں زمان و مکان کی قید سے آزاد کر گیا۔ یہی وہ طلسمِ ہوش ربا ہے جسے اپناتے ہی کائنات کی تمام تر رعنائیاں اور جلوہ سامانیاں زندگی کے دامن میں سمٹ آئیں۔
چشمِ بصیرت وا ہو تو نظر آئے کہ بندگی کا حقیقی معنی جبینِ شوق خم کر دینا نہیں بلکہ ”سپردگی“ ہے، اپنے تمام تر ارادوں، خواہشوں اور تقاضوں کی سپردگی، یہی توحید کا حقیقی مفہوم ہے اور اسی میں انسانی عظمت و رفعت کا راز پنہاں ہے۔
تسلیم و انقیاد قلبِ مومن کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں وہ چوں چرا سے ناآشنا ہوتا ہے۔ اس کی نظروں کے سامنے محض تسلیم و رضا کے جلوے رونما ہوتے ہیں۔ اس کے قلب کی گہرائیوں میں محض هُوَ کی صدائیں رقصاں ہوتی ہیں۔ جمالِ یار کے دیدار کا شوق اور اس شوق سے اٹھنے والی آتشِ سوزاں کے شرارے اس کی روح کو گرما رہے ہوتے ہیں۔ اور عشقِ الٰہی کی یہی تپش اس کی حیات کا کل سرمایہ اور گراں قدر اثاثہ ہوتی ہے۔
یہ صفتِ عالیہ محبوبانِ بارگاہِ ایزدی کا خاصہ ہے۔ جس کے لیے چنیدہ نفوس ہی مخصوص کیے جاتے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ اس صفت سے متصف نفوس تقربِ حق کے لیے منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ بات کہنے کی نہیں محض غور کرنے کی ہے۔
تقربِ الٰہی کی منزل پر قدم رکھتے ہی ان کی نظریں چشم کشا، قلب کشا اور عقدہ کشا بن جاتی ہیں۔ وہ ہر شے میں جلوہ اور ہر مجاز میں حقیقت تلاش کر لیتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ماسوا میں ماورا کے جلوے ہیں۔ اور جلوہ آشنائی بھی اسی کی دین، عطائے بے بہا، اور فضلِ بے کراں ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ زندگی راحت و مصیبت سے عبارت ہے مگر فی الواقع راحت و مصیبت ایک ہی میکدے کے جام ہیں ایک میں جلال کی سرخی کارفرما ہے تو دوسرے میں جمال کی تابانی۔ اور جب انسان اس راز سے آشنا کر دیا جاتا ہے تو وہ مادی تغیر و تبدل سے مرعوب نہیں ہوتا。
موسم بدلتے ہیں، زمان و مکان تبدیل ہوتے ہیں، زمین و آسمان کے جلووں میں تبدیلی آتی ہے، وقت اور حالات میں تغیرات رونما ہوتے ہیں مگر اس شخص کا وجود تغیر پذیر نہیں ہوتا۔
جو تسلیم و انقیاد اور رضا بالقضا کی قبا پہن لیتا ہے اسے نہ گردشِ ایام کا خوف باقی رہتا ہے اور نہ حوادثِ دہر کا ملال۔ اس کی ذات اس شعر کی کامل مصداق ہوتی ہے:
سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
اور لطیف امر تو یہ ہے کہ جب وہ اپنی مرضی کو رضائے الٰہی میں فنا کر دیتا ہے تو اس کائناتِ ہست و بود کی ہر گردش اسے رقصِ بسمل نظر آتی ہے جس میں سوائے جمالِ الٰہی کی تابانیوں کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ چہار جانب اسی بے رنگ کے نیرنگ جلوے پوری آب و تاب کے ساتھ اس کی آنکھوں میں رنگ بھر کے اس کے دل کو شاد کام کرتے ہیں۔ تسلیم و انقیاد اور رضا بالقضا کا یہ فلسفہ جس نے سمجھ لیا کائنات کے سربستہ راز کو اس نے پا لیا اور خرد کی پیچیدہ گتھیاں اس نے سلجھا لیں۔
یہی وہ لطیف جوہر ہے جسے اپناتے ہی جہانِ رنگ و بو کی تمام تر سرفرازیاں اس کے حیطۂ تصرف میں آجاتی ہیں۔
زندگی کا حسن دیکھنا ہو تو ”تسلیم و رضا“ کے آئینے میں دیکھو، جہاں حیات، مسرت و غم، امروز و فردا، خلوت و جلوت، عروج و زوال، نقص و کمال، فراق و وصال، منصب و امارت، شہرت و ستائش، فقر و غنا، سود و زیاں، نام و نمود اور حشم و خدم کی قید سے آزاد ہو کر حقیقی بے نیازی کا لطف پاتی ہے۔
حکمتِ غامضہ پر مبنی اس قول مُوتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا میں اسی راز کی نشاندہی ہے کہ اپنی مرضی اور اپنے تمام ارادوں اور تقاضوں کو فوت کر کے رضائے الٰہی کے سپرد کر دینا انسانیت اور بندگی کی معراج ہے۔
تسلیم و انقیاد کی حقیقت کو حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے جس جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس کے معانی کی وسعت کا عالم یوں ہے جیسے قطرے میں قلزم سمٹ آیا ہو، فرماتے ہیں:
”میں تسلیم کے معاملے میں اس منزل پر پہنچ گیا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو میری جگہ اعلیٰ علیین میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جگہ دے دے اور مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسفل السافلین یعنی جہنم کے انتہائی نچلے درجے میں پھینک دے تو میں اس شخص سے بھی بڑھ کر خدا سے راضی ہوں گا۔“
آپ کا یہ فرمان تسلیم و انقیاد کی کامل تصویر ہے۔ بقول ڈاکٹر اقبال:
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی
(جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
