| عنوان: | قیامت کی نشانیاں احادیث کی روشنی میں (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | بشیر مدنی |
غیر اللہ کی قسم کھانا ممنوع
علامتِ قیامت میں سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ بھی بتایا کہ لوگ غیر اللہ کی قسم کھائیں گے اور غیر اللہ کی قسم کھانا شرعاً ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے:
”مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللّٰهِ فَقَدْ أَشْرَكَ“
یعنی جو غیر اللہ کی قسم کھائے وہ مشرک ہے۔
یعنی حقیقتاً مشرک ہے اگر غیر اللہ کی وہ تعظیم مراد لے جو اللہ کے لیے خاص ہے۔ اسی قبیل سے ہے بتوں کی قسم کھانا، حضرت ابو ہریرہ سے حدیث ہے جو قسم کھائے تو قسم میں یوں کہے ”لات و عزیٰ کی قسم“ تو وہ کلمۂ توحید پڑھے اور جو اپنے دوست سے کہے ”آؤ تم سے جوا کھیلوں“ تو وہ صدقہ دے، حدیث کے اس فقرے سے معلوم ہوا کہ گناہ کا ارادہ جب دل میں پختہ ہو جائے تو یہ بھی گناہ ہے اور اس کو ظاہر کرنا دوسرا گناہ صدقہ دینے کا حکم اس گناہ کے کفارے کے لیے بطورِ استحباب ہے، حدیث میں ہے:
”الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ“
یعنی صدقہ اللہ کے غضب کی آتش کو بجھا دیتا ہے۔
اس حدیث میں ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ پڑھنے کا جو حکم دیا اس میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ نو مسلم سے عادتِ سابقہ کی وجہ سے سہواً سبقتِ لسانی سے بتوں کی قسم صادر ہو تو اس کے لیے مستحسن ہے کہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ ان برے کلمات کے کفارے کے طور پر پڑھے۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ لات و عزیٰ اور بتوں کی تعظیم مقصود ہو۔ اس صورت میں وہ شخص مرتد ہو جائے گا اور کلمۂ خلافِ اسلام سے تبری کے ساتھ تجدیدِ ایمان لازم ہوگی اور کلمۂ توحید پڑھنا ضروی ہوگا۔
اور اگر غیر اللہ کی قسم میں وہ تعظیم مراد نہیں جو اللہ کے لیے خاص ہے تو یہ حقیقتاً شرک نہیں، لیکن صورتاً اہلِ شرک کے فعل سے مشابہ ہونے کی صورت کی وجہ سے اس پر بھی شرک کا اطلاق آیا اور زجر و تشدید کے طور پر اس کے مرتکب کو بھی مشرک کہا گیا، اس صورت میں مراد یہ ہے کہ اس شخص نے مشرکوں جیسا فعل کیا، اس قبیل سے باپ، دادا، بیٹے وغیرہ کے نسب پر تفاخر کے طور پر قسم کھانا ہے جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں رواج تھا، حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی。
أَقُوْلُ:- ہمارے طرزِ بیان سے صاف معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا ایک اعرابی کے متعلق أَفْلَحَ وَأَبِيْهِ إِنْ صَدَقَ فرمانا (یعنی یہ فلاح کو پہنچا، اپنے باپ کی قسم اگر سچا ہے) ممانعت کے تحت داخل نہیں بلکہ بیانِ جواز کے لیے ہے گویا سرکار علیہ الصلاۃ والسلام اپنے فعل سے یہ بتا رہے ہیں کہ باپ کی قسم کھانا ناجائز نہیں، جب کہ رسمِ جاہلیت کے طور پر تفاخر کے لیے نہ ہو، نہ اس سے تعظیم مفرط کہ ممنوع ہے، مقصود ہو۔ اور ایک احتمال یہ ہے کہ ایسی جگہ تاکیدِ کلام اور تقویتِ بیان مقصود ہوتی ہے تو اس صورت میں قسم شرک نہیں۔
تنبیہ:- غیر اللہ سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جنھیں شرعاً اللہ و رسول جل وعلا و ﷺ سے کوئی علاقہ نہیں، نہ شرعاً ان کی کوئی حرمت ہے نہ ان کی تعظیم کا حکم۔ نبی و رسول کعبہ و ملائکہ اس معنی کر غیر اللہ میں داخل نہیں (اگرچہ بابِ حلف میں یہ بھی غیر اللہ ہیں مگر یہ مندرجہ بالا کے لحاظ سے غیر اللہ نہیں) کہ شرعاً ان کی تعظیم کا حکم ہے۔ ازاں جا کہ اللہ نے ان کی تعظیم کا حکم دیا تو ان کی تعظیم اللہ ہی کی تعظیم ہے، ان کی قسم کھانا حرام نہیں مگر علما نے بہ مقتضائے احتیاط اس طرح کی قسم کھانے کو مکروہ کہا، بلکہ اس سے ممانعت خود حدیث میں آئی قسم شرعی جس کا کفارہ لازم ہے، وہ اللہ کی وہ قسم ہے جو اللہ کی ذات سے یا اس کی صفات سے متعارف طور پر کھائی جائے۔
غیر اللہ کی قسم قسمِ شرعی نہیں، علما فرماتے ہیں اگر غیر اللہ کی قسم کو قسمِ شرعی جانے اور اس کا پورا کرنا لازم سمجھے اس صورت میں آدمی کافر ہو جائے گا۔ امام رازی نے فرمایا ”میری جان کی قسم تیری جان کی قسم“ کہنے والے پر مجھے کفر کا اندیشہ ہے اور لوگ عام طور پر یہ نادانی میں کہتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کہتا یہ شرک ہے۔
امام رازی کے اس قول سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کو قسمِ شرعی جاننے میں علما کے دو قول ہیں۔ ایک میں آدمی مطلقاً کافر ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ اس میں اندیشۂ کفر ہے، یہ دوسرا قول متأخرین متکلمین کی روش پر ہے اور ان کا مذہب مختار و معتمد ہے۔ جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
أَقُوْلُ:- یہ اس صورت میں ہے کہ کہنے والا اسے قسمِ شرعی سمجھے اور اس کا پورا کرنے ضروری جانے اور قسم پوری نہ ہونے کی صورت میں کفارہ دینا ضروی قیاس کرے۔ جیسے بعض جاہل اپنے بچے کی قسم کھاتے ہیں اور اس کا پورا کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور نہ کرنے کی صورت میں کفارہ لازم خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ صورت نہ ہو یعنی قائل اسے قسم شرعی نہ جانے نہ تعظیم مفرط کا قصد کرے تو اس پر یہ محذور لازم نہیں آتا كَمَا لَا يَخْفَى.
اور اس حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے والے کو جو مشرک فرمایا گیا اس سے اس شخص کا بھی حکم ظاہر جو یوں قسم کھائے ”اگر میں یہ کام کروں (وَالْعِيَاذُ بِاللّٰهِ تَعَالَى) تو یہودی یا نصرانی یا ملتِ اسلام سے بری و بیزار ہو جاؤں“ ایسی قسم کھانا سخت حرام، بدکام، کفر انجام ہے۔ بعض علما نے اس پر مطلقاً قائل کو کافر کہا مگر صحیح یہ ہے کہ اس مسئلے میں وہی تفصیل ہے جو: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللّٰهِ فَقَدْ أَشْرَكَ (یعنی جو غیر اللہ کی قسم کھائے وہ مشرک ہے) میں بیان ہوئی، اس تفصیل کی طرف خود دوسری حدیثوں میں اشارہ ہے، ارشاد ہوا:
مَنْ حَلَفَ عَلَىٰ مِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ. [مِرْقَاةُ الْمَفَاتِيْحِ شَرْحُ مِشْكَاةِ الْمَصَابِيْحِ، ج: 6، ص: 581،]
یعنی جو مذہبِ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم کھائے در آں حالیکہ وہ اس قسم میں جھوٹا ہو تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا。
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ: کسی کے سوگند خورد بر دین کہ جزء اسلام است چناں کہ گوئید اگر ایں کار کنم یہودی باشم یا نصرانی شوم یا بیزارم از دین اسلام یا از پیغمبر یا از قرآن (کاذبا) در حال کہ بدروغ خورندہ است ایں سوگند را چناں کہ بکند ایں کار را زیرا کہ ایں سوگند برائے منع فعل است کہ نکند و پس صدق وے بآںست کہ نکند اگر بکند کاذب باشد (فھو کما قال) پس آں کسے چناں است کہ گفت یعنی یہودی و نصرانی و بری از دین اسلام ظاہر حدیث آںست کہ قائل ایں حدیث کافر می گردد بجز دو حلف یا بعد از حنث از جہت اسقاط حرمت اسلام الخ۔ [أشعة اللمعات شرح مشكاة، ج: 3، ص: 211،]
دینِ اسلام کے علاوہ قسم کھائے
یعنی اگر کوئی دینِ اسلام کے علاوہ کسی دین کی قسم کھائے مثلاً یوں کہے کہ اگر وہ یہ کام کرے تو یہودی نصرانی یا دینِ اسلام سے بے زار یا پیغمبر یا قرآن سے بری ہو جائے اور حال یہ ہو کہ وہ جھوٹی قسم کھائے، یعنی وہ کام کر بیٹھے اس لیے کہ قسم کھانا اس فعل سے بغض رہنے کے لیے ہے۔ تو قسم کا سچا ہونا یہ ہے کہ وہ کام نہ کرے جس کے نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، اگر وہ کام کرے گا تو جھوٹا ٹھہرے گا، حدیث میں اس شخص کے متعلق فرمایا کہ: وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا یعنی یہودی یا نصرانی یا دینِ اسلام سے بری۔ اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ ایسی قسم کھانے والا قسم سے کافر ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اس جہد سے کہ اس نے حرمتِ اسلام کو ساقط کیا اور کفر پر راضی ہوا۔
بعض علما نے نظر بر ظاہرِ حدیث ایسی قسم کھانے والے کو مطلقاً کافر کہا اور بعض علما نے فرمایا کہ مراد اس قسم سے یہ ہے کہ وہ شخص اپنے نفس کو تہدید اور اس کی وعید میں مبالغہ کر رہا ہے تاکہ اس کام سے اپنے آپ کو بغض رکھے تو مقصود قسم سے بشدت زجرِ نفس و تحدید ہے، لہٰذا ہمارے نزدیک وہ جب تک قسم نہ توڑے محض اس قول سے کافر نہ ٹھہرے گا، اس طرح اگر فعلِ ماضی پر دینِ اسلام سے برأت کو معلق کیا تو محتاطین کے نزدیک کافر نہ رہے گا اور بعض مشائخ کے نزدیک فعلِ ماضی پر معلق کرنے کی صورت میں کافر ہو جائے گا۔ مگر صحیح یہی ہے کہ اس صورت میں بھی کافر مطلق نہ ہوگا، اس لیے کہ کافر اعتقادِ کفر سے ہوتا ہے اور یہاں ظاہر یہ ہے کہ اس کی مراد قسم سے زجرِ نفس اور تحدید ہے، یعنی جب کہ کسی فعلِ مستقبل پر اس حکم کو معلق کرے یا برأت کو مؤکد طور پر یقین دلانا ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ فعلِ ماضی پر معلق کرے گویا وہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ کام اس کے نزدیک ایسا ہی مکروہ و ناپسند ہے جیسا کہ اس کا یہودی یا نصرانی یا اسلام سے بری ہونا اس لیے تحدیدِ نفس کے لیے ایسی چیز پر معلق کیا جو اس کے نزدیک مکروہ و محذور ہے۔
(مترجماً و ملخصاً)
أَقُوْلُ:- حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اس باب میں جو دوسرا قول ذکر کیا وہ متأخرین کا ہے جو متکلمین کی روش پر ہے، اور ان کی روش یہ ہے کہ وہ محض ظاہر پر حکمِ کفر نہیں لگاتے اور کلام میں ادنیٰ احتمال مانعِ تکفیر ہو اس کا لحاظ کرتے ہیں، اور قائل کو جب تک اس کی مراد ظاہر نہ ہو جائے کافر کہنے سے گریز کرتے ہیں۔ اور یہ احتمال جو ان علما کو ایسی قسم کھانے والے پر حکمِ کفر لگانے سے باز رہنے کا مقتضیٰ ہوا وہ خود حدیث سے ظاہر ہے کہ فرمایا ”اگر وہ اس قسم میں جھوٹا ہو تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا“ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس قسم میں سچا ہے اور اسی معنیِ کفر کا ابتداءً ارادہ نہ کیا ہو (یعنی یہودی یا نصرانی ہونے پر اب اس سے راضی ہونا) تو وہ ایسا نہیں جیسا کہا اور اس احتمال کی تصریح دوسری حدیث میں ارشاد ہوئی جو حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا، جو یہ کہے کہ وہ اسلام سے بری ہے (اگر یہ کام کرے) تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا اور اگر وہ اس قسم میں سچا ہے تو اسلام میں گناہ سے سلامتی کے ساتھ نہ رہے گا۔
امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ اس قسم سے اس کا اسلام ظاہر ہو جائے گا، اور وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ اس کافر ہونے کو قسم ٹوٹنے پر معلق کرے۔
اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت بریدہ نے روایت کی کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ”وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا........ اور وہ اسلام سے بری ہے“ اور شاید اس سے قائل کی مراد نفس کی تحدید اور خود کو وعیدِ شدید ہے، نہ یہ کہ یہ حکم لگانا کہ وہ ابھی سے یہودی ہو گیا یا اسلام سے بری ہو گیا تو گویا کہ وہ یوں کہہ رہا ہے کہ وہ قسم ٹوٹنے کی صورت میں اسی عقوبت کا سزاوار ہے جس کا یہودی مستحق ہے اور اس کی نظیر حضور کا یہ قول ہے ”جو نماز چھوڑے وہ کافر ہو جائے“ یعنی وہ کافر کی عقوبت کا سزاوار ہے۔
حضرت امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی طرح یہاں دو قول ذکر کیے مگر صراحتاً کسی قول کی صحت کا افادہ نہ فرمایا، البتہ دوسرے احتمال کی توضیح و تعلیل ارشاد فرمائی، جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک بھی یہی مختار ہے کہ قائل مطلقاً کافر نہ ٹھہرے گا بلکہ قسم ٹوٹنے کی صورت میں رضا بالکفر کے تیقن کی وجہ سے کافر ہوگا اور یہی حدیث کا ظاہر مفاد ہے کہ اس کے اسلام سے بری ہونے کو کاذب ہونے پر معلق فرمایا تو وہ اس باب میں نہ صرف ارشادِ علما سے، بلکہ خود حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر مسلم کے کلام میں اگر متعدد احتمالات ہوں جو اس کے کفر کے مقتضی ہوں اور ایک وجہ سے اس کے اسلام کے متقاضی ہوں تو ہم پر لازم ہے کہ ایک وجہ کی طرف میلان رکھیں اور جب تک احتمال قائم ہو مسلمان کو کافر نہ کہیں، اس لیے رد المحتار میں فرمایا:
لَا يُكَفَّرُ مُسْلِمٌ إِنْ حُمِلَ كَلَامُهُ وَفِعْلُهُ عَلَىٰ مَحْمَلٍ حَسَنٍ أَوْ كَانَ فِيْ كُفْرِهِ اخْتِلَافٌ وَلَوْ كَانَ ذٰلِكَ رِوَايَةً ضَعِيْفَةً.
یعنی مسلمان کے کافر ہونے کا فتویٰ نہ دیا جائے گا جب کہ اس کے قول و فعل کو اچھے پہلو پر رکھنا ممکن ہو، یا اس کے کفر میں اختلاف ہو اگرچہ روایت ضعیف ہو۔
ثُمَّ أَقُوْلُ:- ہمارے کلمات جو بھی گزرے ان سے صاف ظاہر ہے کہ حدیث کا ظاہر مفاد اس قائل کا بصدقۂ حنث (جب قسم توڑے) کافر ہونا ہے نہ کہ مطلقاً کافر ہونا، تو اس صورت میں ظاہرِ حدیث بھی اس دوسرے قول کے قائلین کے ساتھ ہے، اور قائل کے مطلقاً کفر کے ظاہر ہونے کا دعویٰ محلِ نظر ہے۔
اس کو ظاہراً تسلیم بھی کر لیں تو اس پر قائل کی تکفیر اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ ظاہری معنی کے مراد ہونے کا احتمال آشکار ہو اور اگر قرینۂ عرف یا اور کوئی قرینہ اس بات پر قائم ہو کہ قائل نے وہ معنیِ کفری اصلاً مراد نہ لیے تو اس صورت میں وہ احتمال بھی نہ رہے گا اور ظاہر متروک ٹھہرے گا، اس کی بہت مثالیں ممکن ہیں۔ عام بول چال میں کہتے ہیں کہ ”فصلِ بہار میں سبزہ اگایا“، ”حاکم نے بچایا“، ”اس مرض کا یہ شافی علاج ہے“، ”یہ زہرِ قاتل ہے“، یہاں ان سب مثالوں میں مومن کا ایمان عرف سب گواہ ہیں کہ اس کی مراد حقیقی معنی جو لفظ سے ظاہر ہے نہیں، بلکہ ان تمام مثالوں میں سبب کی طرف اسناد کی گئی ہے کہ اعتقاد مومن کا یہ ہے کہ مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور یہ چیزیں خود مؤثر نہیں بلکہ اللہ کے قائم کردہ اسباب ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے۔
یہ وہابیہ کا ظلم ہے کہ انعامِ محاورات سے آنکھیں میپتے ہیں اور ان کے بولنے کو تو مسلمان جانتے ہیں، مگر اسی طور پر اولیاء، انبیاء کے لیے جو مسلمان تصرف و مدد ثابت کرے تو اسے مشرک گردانتے ہیں، جس میں راز یہ ہے کہ ان کے نزدیک اولیاء تو درکنار رسول ہی کی تعظیم شرک ہے جیسا کہ ”تقویۃ الایمان“ کے مطالعے سے ظاہر ہے۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت انھی کے حق میں فرماتے ہیں:
شرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ رسول
اس برے مذہب پہ لعنت کیجیے
قائل کی مراد کیا ہے؟
آمدم بر سرِ مطلب! اب اس مسئلۂ ظاہرہ کی طرف لوٹیے اور تقریر مندرجہ بالا کو مدِ نظر رکھ کر سوچیے جب کہ قائل کی مراد اپنے نفس کو زجر و تحدید اور وعید شدید اور اس مکروہ و محذور کام پر معلق کرنے سے اس کام سے امتناع و اجتناب کی تعقید ٹھہری تو یہ اگر عرف عادت سے معلوم ہو تو ایسی صورت میں وہ ظاہری معانی جن کا مفاد مطلقاً کافر ہونا ہے نہ محتمل نہ مراد، بلکہ قطعاً متروک ہیں، اور اس کے حق میں ظاہر بلکہ فوق الظاہر قائل کی وہی مراد ہے جو عرف و اسلوب معتاد سے معلوم ہوئی۔ لہٰذا قائل جب تک حانث نہ ہو کافر نہ ٹھہرے گا، ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسی قسم کھانا سخت شنیع، اشد حرام ہے جس سے قائل پر توبہ لازم ہے اور احتیاطاً تجدیدِ ایمان بھی ضرور۔ درمختار میں ہے:
فَيَكُوْنُ كُفْرًا اتِّفَاقًا يَبْطُلُ الْعَمَلُ وَالنِّكَاحُ وَأَوْلَادُهُ أَوْلَادُ الزِّنَا، وَمَا فِيْهِ خِلَافٌ يُؤْمَرُ بِالِاسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ وَتَجْدِيْدِ النِّكَاحِ (أَيْ تَجْدِيْدِ الْإِسْلَامِ وَتَجْدِيْدِ النِّكَاحِ). [ج: 4، ص: 246-247،]
رہی یہ بات کہ بصورتِ حنث اس پر کفارہ ہے یا نہیں، تو ائمۂ حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ قسم توڑنے کی صورت میں اس پر کفارۂ قسم لازم ہوگا، جب کہ کسی فعلِ آئندہ پر قسم کو معلق کیا ہو۔ اور اس کی نظیر تحریم مباح ہے، یعنی کسی فعلِ مباح کو اپنے اوپر بذریعۂ قسم حرام کر لے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ الصلاۃ والسلام سے فرمایا: يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ [التحریم: 1] یعنی اے غیب بتانے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کیے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمھارے لیے حلال کی۔
سیدِ عالم ﷺ حضرت ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے محل میں رونق افروز ہوئے، وہ حضور کی اجازت سے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کو تشریف لے گئیں، حضور نے حضرت ماریہ قبطیہ کو سرفرازِ خدمت فرمایا، یہ حضرت حفصہ پر گراں گزرا، حضور نے ان کی دلجوئی کے لیے فرمایا: ”میں نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کیا اور میں تمھیں خوش خبری دیتا ہوں کہ میرے بعد امت کے مالک ابو بکر و عمر ہوں گے“، وہ اس سے خوش ہو گئیں اور نہایت خوشی میں انھوں نے یہ تمام گفتگو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سنائی اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ اس آیت کے متصل سرکار سے یہ ارشاد ہوا:
قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ [التحریم: 2]
بے شک اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا اتار مقرر فرما دیا۔
اس طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ قائل نے اس طرح قسم کھا کر کہ وہ اگر یہ کام کرے ”تو وہ یہودی یا نصرانی ہے“، اپنے اعتقاد میں مباح کو حرام ٹھہرا لیا، لہٰذا بصورتِ حنث یہاں بھی کفارہ لازم ہو گا، یہ اس صورت میں ہے جب کہ کسی فعلِ آئندہ پر ایسی قسم کھائی جائے اور اگر فعلِ ماضی پر ایسی قسم کھائی اور اس قسم میں وہ شخص جھوٹا تھا تو اس صورت میں کفارہ نہیں محض توبہ لازم ہے اور احتیاطاً، اس قسم کی قسم عرفِ شرع میں ”یمینِ غموس“ کہلاتی ہے اور احتیاطاً تجدیدِ ایمان تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے۔ اور اس میں بھی حسبِ سابق دو قول ہیں، پہلا یہ کہ وہ شخص مطلقاً کافر ٹھہرے گا اور اس صورت میں ظاہرِ حدیث کہ فرمایا کہ اگر وہ جھوٹا الیٰ آخرہ اس کا قول شدید ہے اور دوسرا قول یہ کہ محض قسم مراد لی تو کافر نہ ہوگا۔
یہاں تک قسم کی دو قسمیں بیان ہوئیں اور تیسری قسم ”یمینِ لغو“ ہے یعنی غلط فہمی میں کسی بات پر قسم کھائی اور واقعہ اس کے گمان کے خلاف ہو مثلاً یوں کہے ”خدا کی قسم میں نے زید سے بات نہ کی“ یا ”خدا کی قسم میں گھر میں داخل ہوا“، اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں نہ گناہ، نہ کفارہ。
قال اللہ تعالیٰ: لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْۤ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ [المائدۃ: 89]
یعنی تمھیں نہیں پکڑتا تمھاری غلط فہمی کی قسموں پر، ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنھیں تم نے مضبوط کیا۔
یہاں تو غیر اللہ کی قسم کے متعلق تفصیلِ احکام بوجہِ تمام ہوئی اور خود اللہ کے اسما و صفات کی قسم کھانا سخت محلِ احتیاط ہے، لہٰذا اس میں بھی زیادتی نہ چاہیے، حدیث شریف میں آیا:
مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللّٰهِ أَوْ لِيَصْمُتْ.
جو قسم کھانے کا ارادہ کرے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔
اور اکثر احوال میں اللہ کی قسم کھانے سے باز رہنا اور نامِ الٰہی کو ابتذال سے بچانا مقتضائے احتیاط ہے اور بکثرت اللہ کی قسم کھانا جرأت و بے باکی ہے، اس لیے قرآنِ کریم میں فرمایا:
وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ [البقرۃ: 224]
یعنی اور اللہ کو اپنی قسم کا نشانہ نہ بنا لو。
مفسرین نے اس آیت کے معنی یہ بتائے کہ اللہ کے نام کو نشانہ نہ بناؤ اور جا و بے جا اس کو مبتذل نہ کرو کہ تم نیکو کار رہو جب نادراً قسم کھاؤ اور گناہ سے بچو جب کہ تمھاری قسمیں کم ہوں، اس لیے کہ قسموں کی کثرت نیکی اور تقویٰ سے دور کرتی ہے اور گناہ اور اللہ کے حضور بے باکی سے قریب کرتی ہے۔ [احکام القرآن للرازی، ج: 1،]
تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تم کو کثرتِ قسم سے منع کرتا ہے اور بے باکی سے باز رکھتا ہے، اس لیے اس سے باز رہنے میں ہی نیکی، پرہیزگاری اور تمھاری اصلاح ہے۔ اور آدمی گواہی میں سبقت کرے بغیر اس کے کہ گواہی طلب کی جائے۔ یعنی باطل گواہی دے، جیسا کہ مجمعِ بحار الانوار میں ہے قرینہ و مقام اس کا مقتضیٰ ہے۔
عہدے میراث کی شکل اختیار کریں
مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو محض باپ دادا کی وراثت سے امیر والی بن بیٹھیں، اور مسلمانوں کے معاملات اور ان کے بلاد کے خود ساختہ حاکم ہو جائیں بغیر اس کے کہ خواص، اشراف و اہلِ علم کہ اربابِ حل و عقد ہیں بے جبر و اکراہ اپنے اختیار سے ان کے معاون ہوں، نہ ایسے لوگوں سے مشورہ لیا جائے نہ یہ امیر بیٹھنے والے اس کے مستحق ہوئے، یہ شرعاً مذموم و ممنوع ہے اور اس میں حکمِ منع و مذمت کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جن کو عوام اربابِ حل و عقد کو نظر انداز کر کے چن لیں اور بدرجۂ اولیٰ وہ لوگ اس کے مصداق ہیں جو خود کو چنوانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، مجمع البحار میں ایک حدیث لکھی جس کا مضمون بھی یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر بڑا خائن کوئی نہیں جو غیر اصحابِ رائے عوام کا منتخب امیر ہو۔
اس حدیث کی تصدیق زمانۂ حال میں چنندہ اور چنیدہ کے احوال سے خوب ظاہر ہے۔ لہٰذا اس پر مزید تبصرے کی ضرورت نہیں، اور حدیث مندرجہ بالا کے مصداق وہ لوگ بھی ہیں جو بزرگوں کے جانشین محض وراثت کے بل پر بغیر استحقاق و بے انتخابِ شرعی بن بیٹھے ہیں جیسا کہ زمانۂ حال میں مشاہدہ ہے۔
مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے بے نیاز ہوں
اس کی تفصیل دوسری حدیث میں ارشاد ہوئی جس کو خطیب اور ابنِ عساکر نے حضرت واثلہ اور انس سے روایت کیا کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ”دنیا اس وقت تک فنا نہ ہوگی جب تک عورتیں عورتوں سے، اور مرد مردوں سے بے نیاز نہ ہو جائیں، اور (السحاق) عورت کا عورتوں سے باہم مباشرت کرنا عورتوں کا آپس میں زنا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّىٰ يَسْتَغْنِيَ النِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ وَالرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالسِّحَاقُ زِنَا النِّسَاءِ فِيْمَا بَيْنَهُنَّ. [کنز العمال، ج: 14، ص: 226،]
اور تیسری حدیث حضرت ابی سے مروی ہے، فرمایا کہ: ہم سے کہا گیا اس امت کے پچھلے لوگوں میں قیامت کے قریب کچھ چیزیں ظاہر ہوں گی، ان میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے یا کنیز سے اس کی دبر میں صحبت کرے اور یہ ان کاموں میں سے ہے جن کو اللہ و رسول نے حرام کیا اور اس پر اللہ و رسول کا غضب ہے اور انھی میں سے مرد کا مرد کے ساتھ صحبت کرنا اور یہ ان باتوں میں سے ہے جن کو اللہ و رسول نے حرام کیا اور انھی میں سے عورت کا عورت کے ساتھ مباشرت کرنا، اور یہ ان اعمال میں سے ہے جن کو اللہ و رسول نے حرام کیا اور اس پر اللہ و رسول کی ناراضگی ہے الیٰ آخرہ。
حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
عَنْ أُبَيٍّ قَالَ قِيْلَ لَنَا أَشْيَاءُ تَكُوْنُ فِيْ آخِرِ هٰذِهِ الْأُمَّةِ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ فَمِنْهَا نِكَاحُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهٗ وَأَمَتَهٗ فِيْ دُبُرِهَا وَذٰلِكَ مِمَّا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَيَمْقُتُ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَرَسُوْلُهٗ وَمِنْهَا نِكَاحُ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَذٰلِكَ مِمَّا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَرَسُوْلُهٗ وَمِنْهَا نِكَاحُ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ وَذٰلِكَ مِمَّا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَيَمْقُتُ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَرَسُوْلُهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [کنز العمال، ج: 14، ص: 575،]
[ماہنامہ سنی دنیا، مارچ اپریل ۲۰۰۵ء]
