| عنوان: | مہر کا شرعی حکم |
|---|---|
| تحریر: | خلیفہ تاج الشریعہ مفتی عبدالرحمن صاحب قبلہ |
| پیش کش: | سلطانی رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
قرآن عظیم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا .
ترجمہ كنز الايمان: جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو اُن کے مہر مقرر شدہ انہیں دو اور قرار داد (مہر مقرر ہو جانے) کے بعد تمہارے آپس میں جو رضامندی ہو جائے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے بے شک اللہ تعالی علم و حکمت والا ہے۔ [النساء: 24]
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا
ترجمہ كنز الايمان: عورتوں کو اُن کے مہر خوشی سے دو پھر اگر وہ خوش دلی سے اس میں سے کچھ تمہیں دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا بچتا (خوش دلی کے ساتھ)۔ [النساء: 4]
نکاح کی شرطوں میں سے ایک شرط مہر ہے
نکاح میں جنسی فائدے کے بدلے جو مال شوہر کے ذمّہ واجب ہوتا ہے اسے مہر کہتے ہیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
إنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع بالنسبة أو بالعقد.
ترجمہ: مہر نام ہے اس مال کا جو عقدِ نکاح میں نسبت يا عقد سے شوہر کے ذمّہ واجب ہوتا ہے۔ [ج:، ص: ۲۳۰، مکتبہ زکریا بکڈپو]
نکاح ثابت ہو جانے کے بعد شوہر کے ذمّہ مہر ادا کرنا واجب ہے بلکہ مہر کے بغیر نکاح جائز نہیں، اگر کسی نے نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ کیا یا بغیر مہر ادا کیے ہی نکاح کر لیا پھر بھی مہر لازم ہوگا۔
مہر کی مقدار
کم سے کم شرعی مہر کی مقدار دس درہم ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا مهر أقل من عشرة دراهم.
ترجمہ: دس درہم سے کم مہر نہیں۔ [بیہقی شریف، ج: ۷، ص: ۲۴۰]
دس درہم کا وزن دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی کے برابر ہے۔
تنویر الابصار مع در مختار ”باب المہر“ میں ہے:
أقله عشرة دراهم لحديث البيهقي وغيره لا مهر أقل من عشرة دراهم فضة وزن سبعة مثاقيل كما في الزكاة مضروبة كانت أو لا ولو دينارا أو عرضا قيمته عشرة وقت العقد.
[ج: ۴، ص: ۲۳۰، زکریا]
مجدد اعظم اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمۃ و الرضوان فرماتے ہیں:
”کم سے کم مہر دس درہم ہے یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی، یا چاندی سے سوا (علاوہ) اور کوئی شے (چیز) اتنی ہو چاندی کی قیمت کی۔“ [فتاوی رضویہ قدیم، ج: ۵، ص: ۵۰۰، رضا اکیڈمی ممبئی]
دس درہم کا موجودہ وزن
دس درہم کا موجودہ وزن گرام اور ملی گرام کے اعتبار سے 32 گرام، ۶۵۹ ملی گرام ہے، نکاح میں اس سے کم مہر رکھنا صحیح نہیں ہے، اس سے کم مہر کی صورت میں بلکہ سرے سے اگر مہر کا ذکر ہی نہ ہو تب بھی نکاح تو ہو جائے گا لیکن ایسی صورت میں مہر مثل لازم آئے گا یا عورت کے خاندان میں مثلاً بہن، پھوپھی، چچا کی بیٹی وغیرہا کا جو مہر ہے وہی لازم آئے گا۔
بہار شریعت میں ہے:
عورت کے خاندان کی اس جیسی عورت کا جو مہر ہو وہ اس کے لیے مہر مثل ہے مثلاً اس کی بہن، پھوپھی، چچا کی بیٹی وغیرہا کا مہر۔ اس کی ماں کا مہر اس کے لیے مہر مثل نہیں جب کہ وہ دوسرے گھرانے کی ہو اور اگر اس کی ماں اس کے خاندان کی ہو مثلاً اس کے باپ کی چچا زاد بہن ہے تو اس کا مہر اس کے لیے مہر مثل ہے۔ اور وہ عورت جس کا مہر اس کے لیے مہر مثل ہے وہ کن امور میں اس جیسی ہو، ان کی تفصیل یہ ہے عمر، جمال، مال میں مشابہ ہو، دونوں ایک شہر میں ہوں، ایک زمانہ ہو، عقل و تمیز و دیانت و پارسائی و علم و ادب میں یکساں (برابر) ہوں، دونوں کنواری ہوں یا دونوں ثيب، اولاد ہونے نہ ہونے میں ایک سی ہوں کہ ان چیزوں کے اختلاف سے مہر میں اختلاف ہوتا ہے۔ شوہر کے حال کا بھی لحاظ ہوتا ہے، مثلاً جوان اور بوڑھے کے مہر میں اختلاف ہوتا ہے، عقد کے وقت ان امور (چیزوں) میں یکساں ہونے کا اعتبار ہے۔ بعد میں کسی بات میں کمی بیشی ہوئی تو اس کا اعتبار نہیں، مثلًا ایک کا جب نکاح ہوا تھا اس وقت جس حیثیت کی تھی دوسری بھی اپنے نکاح کے وقت اسی حیثیت کی ہے مگر پہلی میں بعد کو کمی ہو گئی اور دوسری میں زیادتی یا اس کے برعکس (الٹا) ہو تو اس کا اعتبار نہیں۔ [بہار شریعت، ج: ۲، حصہ: ۷، ص: ۶۱، قادری کتاب گھر بریلی شریف]
مہر کی قسمیں اور اس کا حکم
مہر تین طریقوں سے باندھا جاتا ہے:
- مہر معجل
- مہر مؤجل
- مہر مطلق یا موخر
مہر معجل
یہ ہے کہ عورت کی رخصتی سے پہلے مہر دینا قرار پا لیا ہو، اس کے لیے عورت کو اختیار ہے کہ جب تک مہر وصول نہ کر لے رخصت نہ ہو اور اگر رخصت ہو گئی تو اسے اب یہ اختیار ہے کہ جب چاہے مہر کا مطالبہ کرے اور اس کے وصول ہونے تک اپنے نفس کو شوہر سے روکے (یعنی وطی و صحبت سے منع کر دے) اگر رخصت کو بیس برس گزر گئے ہوں اور شوہر کو حلال نہیں کہ عورت کو مجبور کرے اگرچہ اس سے پہلے عورت کی رضامندی سے صحبت اور خلوت (تنہائی) ہو چکی ہو یعنی یہ حق عورت کو ہمیشہ حاصل رہے گا جب تک مہر وصول نہ کر لے۔
مہر مؤجل
یہ ہے کہ جس کی میعاد قرار پائی ہو یعنی مہر دینے کے لیے کوئی وقت مقرر کر دیا جائے مثلاً دس برس یا بیس برس یا پانچ دن کے بعد ادا کر دیا جائے گا اس صورت میں جب تک وہ وقت نہ گزرے عورت کو مہر کے مطالبے کا اختیار نہیں اور وقت گزر جانے کے بعد ہر وقت مطالبہ کر سکتی ہے اور عورت شوہر کو صحبت سے روک سکتی ہے۔
مہر مطلق یا موخر
یہ ہے کہ جس میں نہ رخصتی سے پہلے مہر دینے کی شرط ہو نہ ہی کوئی وقت مقرر کیا گیا ہو یوں ہی مطلق اور مبہم (پوشیدہ) طور پر بندھا ہو جیسا کہ آج کل عام مہر، یوں ہی بندھتے ہیں اس صورت میں جب تک موت یا طلاق نہ ہو عورت کو مہر کے مطالبے کا اختیار نہیں۔ مہر معجل یا مؤجل کے لیے شریعت مطہرہ نے کوئی تعداد متعین نہیں فرمائی ہے، جتنا پہلے دینا ٹھہرے اتنی مقدار معجل ہوگا باقی کی مقدار جس کا کوئی وقت مقرر ہوا ہو تو اتنا مؤجل ہوگا ورنہ مطلق یا مؤخر رہے گا۔
ہاں اگر کسی قوم یا شہر کا رواج عام ہو کہ اگر صراحت بھی نہ کریں مگر اتنا پہلے دینا ہوتا ہے تو بغیر صراحت کے بھی اتنا معجل ہو جائے گا باقی بدستور مؤجل یا مطلق رہے گا۔ اگر مہر مؤجل یا مطلق تھا اور طلاق یا موت واقع ہو گئی تو اب یہ بھی معجّل ہو جائے گا یعنی فی الحال عورت مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ [خلاصہ فتاوی رضویہ مترجم، ج: ۱۲، ص: ۱۷۱، فتاوی مصطفویہ، ص: ۳۲۴، مطبوعہ رضا اکیڈمی۔ بہار شریعت، ج: ۲، حصہ: ۷، ص: ۶۶، ۶۵، مطبوعہ قادری کتاب گھر]
حیثیت سے زیادہ مہر مقرر کرنا
کم سے کم مہر کی مقدار دس درہم (یعنی 32 گرام ۶۵۹ ملی گرام) ہے جیسا کہ ابھی اوپر گزرا لیکن زیادتی کی کوئی حد مقرر نہیں جتنی مقدار پر دونوں طرف کے لوگ راضی ہو جائیں جائز اور درست ہے۔ لیکن حیثیت سے زیادہ مہر باندھنا یہ کسی شریف اور دیندار شخص کی شان نہیں۔
حدیث شریف میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
خير الصداق أيسره.
ترجمہ: بہتر مہر وہ ہے جو آسان ہو۔ [کنز العمال، ج: ۸، ص: ۲۴۸]
بعض لوگ معاذ اللہ یہ خیال کرتے ہیں کہ جتنا چاہیں لڑکی والے مہر باندھ لیں، دینا ہے نہیں بیوی سے معاف کرا لیں گے اور زیادہ سے زیادہ مہر بندھوا لیتے ہیں تاکہ لوگوں میں ان کا چرچہ ہو کہ فلاں کا مثلاً ایک لاکھ یا 50 ہزار مہر تھا۔
مذہب اسلام میں ایسا شخص جو نکاح کرے مگر مہر ادا کرنے کی نیت نہ رکھے اس کے لیے یہ حدیث درس عبرت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
من تزوج امرأة ثم مات وهو لا ينوي أن يعطيها مهرها مات وهو زان.
ترجمہ: جو شخص نکاح کرے اور نیت یہ ہو کہ عورت کو مہر میں سے کچھ نہ دے گا جس روز مرے گا وہ زانی مرے گا۔ لہذا اپنی حیثیت کے مطابق اتنا مہر بندھوائے کہ آسانی سے ادا کر سکے۔ [ایضاً، ص: ۲۴۹]
حوالہ: [احکامِ نکاح، ص: 32]
