| عنوان: | ابدالِ وقت کے ایک واقعہ کی وجہ سے اعلیٰ حضرت پر کیے گئے دیوبندی اعتراض کا جواب (قسط:02) |
|---|---|
| تحریر: | میثم عباس قادری رضوی |
| پیش کش: | بنت مفتی مظفر حسین مصباحی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
مولوی محمد حسن مؤلف ”کشف الاستار“ ہندو کے روپ میں:
دیوبندی مذہب کے مزعومہ حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے:
مولوی محمد حسن نے بڑی تلاش اور دور دراز پاپیادہ سفر اور ہندو فقیروں اور سادھوؤں کی صحبت اور خدمت میں ایک مرتاض کی حیثیت سے تادیر رہ کر معلوم کیا کہ ہندوؤں کے رشیوں نے اپنے ملفوظات میں دس اوتاروں کے آنے کا عقیدہ ظاہر کیا ہے۔ [حقانیتِ اسلام غیر مسلم اقوام کی نظر میں، ص: ۱۰۶، مطبوعہ مکتبہ حکیم الامت، کمرشل ایریا، ناظم آباد نمبر ۲، کراچی، طبع: اگست ۲۰۰۸ء]
تھانوی صاحب نے اس اقتباس میں لکھا ہے کہ مولوی حسن صاحب ہندو فقیروں اور سادھوؤں کی صحبت اور خدمت میں ایک مرتاض یعنی ریاضت کرنے والے کی حیثیت سے رہے۔
تھانوی صاحب نے مزید لکھا ہے:
”مؤلفِ کشف الاستار مولوی محمد حسن نے (صورةً) ہندو بن کر بنارس میں اور اجودھیا میں ایک زمانہ تک تحصیلِ علومِ وید کی، اور بڑے بڑے پاک نفس برہمنوں اور خدا رسیدہ سادھوؤں کی صحبت حاصل کی۔ انہوں نے دیکھا اکثر جنگلوں اور پہاڑوں میں تارک الدنیا جوگی کسی بڑی ہستی اور کسی تعریف کی ہوئی ذات کی یاد میں بھجن گاتے اور اس کی جے مناتے“۔ [حقانیتِ اسلام غیر مسلم اقوام کی نظر میں، ص: ۱۰۸، مطبوعہ مکتبہ حکیم الامت، کمرشل ایریا، ناظم آباد نمبر ۲، کراچی، طبع: اگست ۲۰۰۸ء]
اس اقتباس میں دیوبندی حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے مولوی محمد حسن صاحب کے بارے میں یہ الفاظ بواضح طور پر لکھے ہیں کہ ”وہ ہندو کی صورت میں“ برہمنوں اور سادھوؤں کی صحبت میں رہے۔ تھانوی صاحب نے ان سادھوؤں کے لیے ”خدا رسیدہ“ یعنی خدا تک پہنچے ہوئے جیسے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں، اور ہندو کی صورت میں جوگیوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے مولوی محمد حسن صاحب کا رد بھی نہیں کیا۔ اور دیوبندیوں کے امام مولوی سرفراز گکھڑوی نے لکھا ہے:
”جب کوئی مصنف کسی کا حوالہ اپنی تائید میں نقل کرتا ہے اور اس کے کسی حصہ سے اختلاف نہیں کرتا تو وہی مصنف کا نظریہ ہوتا ہے“۔ [تفریح الخواطر، ص: 79، مطبوعہ مکتبہ صفدریہ، نزد مدرسہ نصرۃ العلوم، گھنٹہ گھر، گوجرانوالہ]
اس اقتباس کی روشنی میں ثابت ہوا کہ تھانوی صاحب بھی مولوی محمد حسن صاحب کے ہندو کی صورت میں رہنے کو درست سمجھتے ہیں؛ اسی لیے ان کا رد نہیں کیا۔ لیکن دوسری طرف تھانوی صاحب کے پیروکار دیوبندی اسی طرح کے ایک واقعہ کی وجہ سے اعلیٰ حضرت پر اعتراض کرتے ہیں، لہٰذا ان معترض دیوبندیوں سے گزارش ہے کہ ”روض الریاحین“ سے پیش کیے گئے واقعہ اور تھانوی صاحب کی اپنی کتاب سے پیش کیے گئے مذکورہ بالا دو اقتباسات کی وجہ سے تھانوی صاحب کے بارے میں بھی اسی طرح کا تبصرہ کیا جائے جو اعلیٰ حضرت کے متعلق کیا جاتا ہے۔
بابا گرونانک، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه کے خلیفہ تھے: مولوی رشید گنگوہی دیوبندی کا موقف
دیوبندی مذہب کے ایک اور امام مولوی رشید گنگوہی دیوبندی کی مستند سوانح عمری سے دو اقتباسات ملاحظہ کریں، پہلے اقتباس میں لکھا ہے کہ گنگوہی صاحب نے سکھوں کے پیشوا بابا گرونانک کے بارے میں کہا:
”ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ شاہ نانک جن کو سکھ لوگ بہت مانتے ہیں، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمة الله عليه کے خلفا میں سے ہیں، چونکہ اہلِ جذب سے تھے اس وجہ سے ان کی حالت مشتبہ ہو گئی، مسلمانوں نے کچھ ان کی طرف توجہ نہ کی، سکھ اور دوسری قومیں کشف و کرامات دیکھ کر ان کو ماننے لگے“۔ [تذکرۃ الرشید، ج: ۲، ص: ۲۳۲، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، ۱۹۰-انار کلی، لاہور]
ایک بزرگ پوشیدہ ہو کر مندر میں تبلیغ کرتے تھے، مولوی رشید گنگوہی دیوبندی:
کچھ صفحات بعد مزید لکھا ہے کہ گنگوہی صاحب نے کہا:
”شاہ حکیم اللہ صاحب ایک بزرگ سہارنپور میں رہتے تھے، اُن کی خدمت میں ایک شخص بغرضِ سلام حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ حضرت میں حیدر آباد دکن کو جاتا ہوں، شاہ صاحب نے فرمایا اچھا جاؤ، ’حیدر آباد کے راستہ میں فلاں شہر پڑے گا اُس شہر کے متصل ایک جہڑی ہے اُس میں ایک بزرگ رہتے ہیں، یہ اُن کا نام ہے، اُن سے ملنا اور میرا سلام کہنا‘ شخص رخصت ہو کے حیدر آباد روانہ ہوئے، شاہ صاحب کے ارشاد کے موافق جب جہڑی کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک مندر بنا ہوا ہے اس کی چار دیواری کے گرد بہت سے ہندو فقیر الگ الگ بت ہاتھوں میں لیے پوجا کر رہے ہیں، یہ شخص بہت متحیر ہوا کہ یہاں یہ کیا قصہ ہو رہا ہے؟ آخر آگے بڑھا اور ایک ہندو فقیر سے پوچھا کہ اس مندر میں کون رہتا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ ہمارا گرو رہتا ہے۔ انہوں نے نام پوچھا تو وہی تھا جو شاہ صاحب نے بتایا تھا، اس شخص نے فقیر سے کہا کہ اپنے گرو کو اطلاع کر دو کہ ایک شخص شاہ حکیم اللہ سہارنپوری کا بھیجا ہوا سلام کے لیے حاضر ہونا چاہتا ہے، ہندو فقیر نے جواب دیا کہ ہم لوگ تو وہاں تک پہنچ نہیں سکتے البتہ تمہارا پیام ڈیوڑھی کے فقیروں تک پہنچاتا ہوں وہاں سے سلسلہ بہ سلسلہ گرو جی تک پہنچ جائے گا۔ غرض اس طرح پر جب پیام اندر پہنچا تو انہوں نے ان مہمان مسافر کو اندر بلا لیا، وہاں جا کر دیکھتے ہیں تو ایک بزرگ سفید ریش صاف ستھرے چبوترہ پر بیٹھے قرآن شریف کی تلاوت کر رہے ہیں، جب فارغ ہو کر کلامِ مجید جزدان میں رکھ لیا، تو اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور سلام و کلام ہوا، اس شخص نے کہا کہ حضرت یہاں کے قصے نے تو مجھے حیران بنا دیا، باہر بت پرست جوگیوں کا مجمع کیسا ہے؟ بزرگ نے فرمایا: میاں کیا پوچھتے ہو باہر جتنے لوگ معتقد بنے بیٹھے ہیں سب ہندو ہیں، اُن کو یہاں تک پہنچنے کی ممانعت ہے، جب کسی قدر ان کی اصلاح ہو جائے گی تو ڈیوڑھی پر آ جائیں گے اور پھر جب حالت زیادہ سنورے گی تو یہاں آ جائیں گے، یہاں آ کر مسلمان بنیں گے، چنانچہ یہ لوگ جن کو میرے پاس دیکھتے ہو بحمد اللہ سب مسلمان ہیں اور جب مکمل ہو جائیں گے تو اس سامنے والے دروازہ سے ان کو نکال دوں گا، اس دروازہ سے باہر جانے والے لوگ پھر کبھی باہر کے لوگوں سے نہ ملیں گے، غرض یہی سلسلہ رہے گا یہاں تک کہ میرا وقت پورا ہو جائے۔ جتنے لوگ تم دیکھ رہے ہو، سب میں فرقِ مراتب ہے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ پڑھنے کے لیے بتایا گیا ہے اور ہر ایک کو دوسرے سے اپنا حال کہنے کی ممانعت ہے، اسی طرح بہتیرے خدا کے کافر بندے مسلمان بن کر یہاں سے روانہ ہوئے، اگر کھلم کھلا اسلام کی طرف ان لوگوں کو بلایا جائے تو یہاں کے لوگ مسلمان کو قتل کر ڈالیں، میں بھی مارا جاؤں اور یہ بھی۔ اس لیے اسلام کی خدمت اور دین کی جانب ہدایت کا میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس قصہ کے بعد حضرت امامِ ربانی نے ارشاد فرمایا، اسی طرح اکثر بزرگ پوشیدہ ہو کر خلقت کو راہِ ہدایت پر لاتے ہیں، اسی طرح بابا نانک بھی مسلمان تھے اور پوشیدہ ہو کر ہدایت کرتے تھے“۔ [تذکرۃ الرشید، ج: ۲، ص: ۲۳۷، ۲۳۸، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، ۱۹۰۔ انار کلی، لاہور]
مولوی رشید گنگوہی دیوبندی کے بیان کردہ مذکورہ بالا دونوں اقتباسات سے گرونانک کا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے، نیز منقولہ بالا دوسرے اقتباس میں مندر میں رہ کر ہندوؤں کو مسلمان کرنے والے بزرگ کے واقعہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ کچھ بزرگ غیر مسلموں کی ہدایت کے لیے ان کے احوال کے مناسب طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے اعلیٰ حضرت پر اعتراض کرنے والے دیوبندی پہلے اپنے گھر کی خبر لیں۔ وقت کی کمی اور مصروفیات کی کثرت کے سبب انتہائی عجلت میں اتنا ہی لکھ سکا ہوں، جو کہ غنیمت سمجھتا ہوں۔ تمت (میثم قادری۔ مورخہ ۱۵/۹/۲۰۱۷۔ بوقتِ مغرب) [ماہنامہ جہانِ رضا، نومبر 2017]
