| عنوان: | ابدالِ وقت کے ایک واقعہ کی وجہ سے اعلیٰ حضرت پر کیے گئے دیوبندی اعتراض کا جواب (قسط:01) |
|---|---|
| تحریر: | میثم عباس قادری رضوی |
| پیش کش: | بنت مفتی مظفر حسین مصباحی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
”کراماتِ اعلیٰ حضرت“ نامی کتاب میں اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت علامہ مولانا مفتی الشاہ احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمة الله تعالى عليه سے منسوب ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے، واقعہ کچھ یوں ہے:
”اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے خادمِ خاص حاجی کفایت اللہ صاحب بیان فرماتے ہیں: اعلیٰ حضرت بنارس تشریف لے گئے، ایک دن دو پہر کو ایک جگہ دعوت تھی، میں ہمراہ تھا۔ واپسی میں تانگے والے سے فرمایا اس طرف فلاں مندر کے سامنے سے ہوتے ہوئے چل۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اعلیٰ حضرت بنارس کب تشریف لائے، اور کیسے یہاں کی گلیوں سے واقف ہوئے؟ اس مندر کا نام کب سنا؟ اسی حیرت میں تھا کہ تانگہ مندر کے سامنے پہنچا، دیکھا کہ ایک سادھو مندر سے نکلا اور تانگہ کی طرف دوڑا۔ آپ نے تانگہ رکوا دیا، اس نے اعلیٰ حضرت کو ادب سے سلام کیا، اور کان میں کچھ باتیں ہوئیں؛ جو میری سمجھ سے باہر تھیں۔ پھر وہ سادھو مندر میں چلا گیا۔ ادھر تانگہ بھی چل پڑا۔ تب میں نے عرض کی: حضور! یہ کون تھا؟ فرمایا ابدالِ وقت۔ عرض کی: مندر میں؟ فرمایا آم کھائیے، پتے نہ گنئے“۔
یہ واقعہ بعد ازاں امام احمد رضا اور تصوف اور دیگر کتب میں بھی نقل کیا گیا۔ [ص: ۹۸، مطبوعہ مصلح الدین پبلیکیشنز، کھارادر، کراچی]
مفتی مجاہد دیوبندی نے اس واقعہ کی وجہ سے اعلیٰ حضرت پر اعتراض کرتے ہوئے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا:
”احمد رضا کے ہندوؤں سے تعلقات“ ملاحظہ ہو۔ کتاب ”ہدیۂ بریلویت“، سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ کی بنا پر دیوبندیوں کی جانب سے مختلف قسم کے فضول تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اس اعتراض کا مختصر جواب دے دوں تا کہ معترضین کے منہ بند ہو سکیں۔ [ص: ۱۵۵، مطبوعہ دارالنعیم، اردو بازار، لاہور]
مؤمن آلِ فرعون:
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَ قَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيْمَانَهُ [المؤمن: ۲۸]
ترجمہ مولوی محمود حسن دیوبندی: ”اور بولا ایک مرد ایماندار فرعون کے لوگوں میں، جو چھپاتا تھا اپنا ایمان“۔ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی نے لکھا: ”یعنی ایک مردِ مومن جس نے فرعون اور اُس کی قوم سے اپنا ایمان ابھی تک مخفی رکھا تھا“۔
سیدی اعلیٰ حضرت کے متعلق بیان کردہ واقعہ (بشرطِ صحت) میں سادھو کی شکل میں جو شخص اعلیٰ حضرت کو ملا وہ بھی مؤمن آلِ فرعون کی طرح اپنا ایمان چھپاتا تھا، اسی لیے اس روپ کو اپنائے ہوئے تھا، وگرنہ اگر وہ معاذ اللہ مسلمان نہ ہوتا تو اعلیٰ حضرت کبھی بھی اس کو ابدالِ وقت نہ کہتے۔ اس اعتراض کے جواب میں اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ذیل میں دیوبندیوں کے نزدیک مسلمہ کتب سے ”علاج بالمثل“ کے لیے کچھ الزامی جوابات بھی نقل کیے جاتے ہیں؛ تا کہ دیوبندی معترضین کو مزید افاقہ ہو۔
مقامِ صدیقیت پر فائز مسلمان بادشاہ عیسائی کے روپ میں:
جس کتاب سے یہ واقعہ پیش کیا جا رہا ہے اس کے متعلق عرض کر دوں کہ اس کتاب کا ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کے کہنے پر کیا گیا، چنانچہ اس کے شروع میں ناشر محمد زکی دیوبندی نے تھانوی صاحب کے ایک وعظ کا اقتباس نقل کیا ہے، جس میں تھانوی صاحب نے کہا:
”اہلِ محبت کے تذکرے دیکھا کرو، میں نے ایک کتاب روض الریاحین کا جس میں پانچ سو بزرگوں کی حکایتیں ہیں، اردو میں ترجمہ کرا دیا ہے، پانچ سو وہ اور پانچ سو دوسری معتبر حکایتوں کا اضافہ کر کے اس کا لقب ہزار داستان رکھا ہے جو عنقریب چھپ جائے گی۔ میرا یقین ہے کہ جو شخص ساری کتاب اچھی طرح سمجھ کر دیکھے گا ضرور عاشق ہو جائے گا، آخر ایک ہزار عشاق کا تذکرہ دیکھنے سے کہاں تک اثر نہ ہو گا“۔ [نزهة البساتین اردو ترجمہ روض الریاحین، ص: ۴، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی، ادب منزل، پاکستان چوک، کراچی، مترجم: مولوی جعفر علی نگینوی]
دیوبندی ناشر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ (یہ کتاب):
”پاکستان میں دستیاب نہ تھی، لہٰذا اسے شائع کرنے کا حکم حضرت تھانوی کے خلیفۂ خاص مفتیِ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے احقر کو دیا“۔ [نزهة البساتین اردو ترجمہ روض الریاحین، ص: ۴، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی، ادب منزل، پاکستان چوک، کراچی، مترجم: مولوی جعفر علی نگینوی]
نوٹ: اس اقتباس میں دیوبندی علما کے ساتھ کلماتِ ترحیم اور القابات دیوبندی ناشر کی جانب سے لکھے گئے ہیں۔
پیش کیے گئے ان اقتباسات سے اس کتاب کی ثقاہت دیوبندی مذہب کے دو اکابر علما سے ثابت ہو گئی، اب واقعہ ملاحظہ فرمائیں:
”شیخ مغادری رضي الله تعالى عنه سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں چند سال تک جنگ کا شوقین رہا اور چند سال سیر و سیاحت کا حریص رہا، میں بعض کاموں کے سبب حکمائے کفار کے شہروں میں داخل ہوتا تھا اور پوشیدہ ہو جانا میرے اختیار میں تھا، اگر میں چاہتا تو وہ مجھے دیکھ سکتے تھے، اور اگر نہیں چاہتا تھا تو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ایک بار حق تعالیٰ کا حکم ہوا کہ میں ان کے شہر میں داخل ہو جاؤں اور ایک صدیق سے ملاقات کروں، چنانچہ میں پہنچا اور اپنے آپ کو انہیں دکھایا، انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا، اور میرا گرفتار کرنے والا بہت خوش ہوا اور میری مشکیں باندھ کر بازار میں لے آیا تا کہ مجھے بیچے اور یہی طریقہ مجھے بھی مطلوب تھا جس کا مجھے حکم ہوا تھا، اس سے مجھے ایک معتبر آدمی سوار نے خریدا اور مجھے گرجا پر وقف کر دیا تا کہ میں اس کی خدمت کیا کروں۔ میں ایک مدت تک اس کی خدمت کرتا رہا، ایک دن گرجا میں ان لوگوں نے بہت سے فرش بچھائے اور بخور جلایا اور بہت سی خوشبو کی گئی۔ میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا بادشاہ کی عادت ہے کہ سال میں ایک بار گرجا میں آتا ہے، اب اس کی زیارت کا وقت آ گیا ہے، ہم اس کے واسطے تیاری کر رہے ہیں اور گرجا کو خالی کر دیتے ہیں۔ وہ تنہا ہی آ کر اس میں عبادت کرتا ہے۔ جب انہوں نے دروازہ بند کر دیا تو میں صرف وہاں رہا اور ان کی نظر سے چھپ گیا، وہ مجھے نہ دیکھ سکے۔ اتنے میں بادشاہ آ گئے اور ان کے واسطے دروازہ کھولا گیا اور وہ تنہا داخل ہوئے اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ پھر وہ گرجا میں چاروں طرف تلاش کرتے پھرتے رہے، انہیں میں دیکھتا تھا اور وہ مجھے نہیں دیکھتے تھے، جب اطمینان کر لیا تو قربان گاہ میں پہنچے جو گرجا میں تھا اور قبلہ کی جانب منہ کر کے تکبیر کہی، اس وقت مجھ سے فرمایا گیا کہ یہ وہی ہیں جن سے ہم تمہیں ملانا چاہتے ہیں، چنانچہ میں ظاہر ہو کر ان کے پیچھے سلام پھیرنے تک کھڑا رہا، سلام پھیر کر انہوں نے میری طرف دیکھا، کہا تو کون ہے؟ میں نے کہا! آپ جیسا مسلمان ہوں۔ فرمایا تمہیں یہاں کون چیز لے آئی؟ میں نے کہا آپ۔ اب وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور حال پوچھا، میں نے کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کا حکم ہوا تھا اور اس کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہ آیا؛ مگر اس صورت سے کہ قید ہو کر بکوں، اور وہ مجھے گرجا کا خادم بنا دیں اور ہر موقع پر میں نے ان کو اپنے اوپر قادر کر دیا تا کہ ملاقات حاصل ہو جائے، مجھ سے مل کر وہ بہت خوش ہوئے، میں نے ان کا حال کشف سے دیکھا، انہوں نے میرا حال دیکھا، میں نے انہیں درجۂ صدیقین میں پایا۔ میں نے کہا آپ کی ان کفار کے درمیان باطنی حالت کیا ہو گی؟ فرمایا اے ابو الحجاج! مجھے ان کے درمیان بڑا نفع ہے اور مسلمانوں کے درمیان رہ کر ویسے فوائد نہیں حاصل ہو سکتے؛ میں نے کہا بیان فرمائیے۔ فرمایا کہ میرا توحید اور اسلام اور اعمال صرف اللہ ہی کے واسطے خالص ہیں کسی کو اس کی اطلاع نہیں ہے، اور حلال کھاتا ہوں جس میں کوئی شبہ نہیں ہے، اور مسلمانوں کو نفع پہنچاتا ہوں۔ اگر ان کا بڑا بادشاہ میں ہوتا تو بھی انہیں کفار سے بچا نہ سکتا۔ انہیں کفار کے شر سے بچاتا ہوں۔ کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا اور کفار کے درمیان قتل و فساد ایسے ایسے کراتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کا سب سے بڑا بادشاہ ہوتا تو بھی نہ کر سکتا۔ ان شاء اللہ میں عنقریب اپنے چند تصرفات تمہیں دکھاؤں گا، پھر ہم نے ایک دوسرے کو وداع کیا اور میں لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہو گیا اور بادشاہ نکل کر گرجا کے دروازہ پر جا بیٹھے اور کہا گرجا کے سارے مخصوص لوگوں کو حاضر کرو چنانچہ حاضر کر کے پیش کیے گئے اور کہا گیا یہ اس کے بطریق یعنی عالم ہیں، یہ شماس ہیں یعنی محافظ ہیں، یہ راہب ہیں، یہ ناظرِ اوقاف ہیں۔ اور یہ اس کی جائیداد کا محصول وصول کرنے والا ہے۔ فرمایا! اس کی خدمت کون کرتا ہے؟ لوگوں نے اس شخص کو بتلایا جس نے مجھے خرید کر گرجا پر وقف کیا تھا اور کہا اس نے ایک قیدی کو خرید کر اس پر وقف کیا۔ اس پر بہت غصہ کا اظہار فرمایا اور کہا کیا تم سب کے سب خدا کے گھر کی خدمت سے متکبر ہو گئے اور ایک شخص کو جو غیر ملت کا نجس ہے اُس سے خدا کے گھر کی خدمت لیتے ہو اور تلوار لے کر اس کی آڑ میں کہ خدا کے گھر کو تم نے نجس کر دیا، سب کی گردن ماری اور میرے احضار کا حکم کیا۔ میں ان پر ظاہر ہو گیا، انہوں نے مجھے پیش کیا، فرمایا یہ ایسے گرجا کا خادم ہے جس سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔ ان لوگوں کے تکبر کے مقابلہ میں تو یہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو عزت و تعظیم اور خلعت و سواری دے کر اس کے وطن اور اہلِ خانہ کے پاس پہنچایا جاوے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور میں اپنے وطن لوٹ آیا“۔ [نزهة البساتین اردو ترجمہ روض الریاحین، ص: ۴۶۹ تا ۲۷۱، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی، ادب منزل، پاکستان چوک، کراچی، مترجم: مولوی جعفر علی نگینوی]
معترض دیوبندی بتائیں کہ اس واقعہ میں خود کو عیسائی ظاہر کرنے والے مسلمان بادشاہ کو بھی (جو مقامِ صدیقیت پر فائز تھا) عیسائیت کے ساتھ منسوب کر کے، ان کے خلاف زبانِ طعن دراز کریں گے؟ اگر نہیں تو صرف اعلیٰ حضرت ہی نشانہ کیوں؟ نزهة البساتین اردو ترجمہ روض الریاحین کو مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی اور مفتی شفیع دیوبندی کی تائید حاصل ہے، اس لیے وہ بھی اس واقعہ کے تائید کنندہ قرار پاتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ دیوبندی اپنے ان اکابر پر فتویٰ لگاتے ہیں یا حسبِ روایت زبان بند رکھتے ہیں۔ (جاری) [ماہنامہ جہانِ رضا، نومبر 2017، ص: 18]
