| عنوان: | باطنی امراض - تعارف و علاج (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد افتخار الحسن قادری امجدی، بجنوری |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
نفاق کے اسباب اور علاج
نفاق کی دو قسمیں ہیں:
- نفاقِ اعتقادی
- نفاقِ عملی
نفاقِ اعتقادی کا پہلا سبب جہالت ہے، کیونکہ جب کوئی شخص عقائدِ صحیحہ کا علم حاصل نہیں کرتا تو شیطانِ رجیم کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔ وہ طرح طرح کے وساوس اس کے دل میں ڈالتا ہے، بندہ اس کی حقیقت سے ناواقف ہوتا ہے اور نفاقِ اعتقادی جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس موذی مرض سے نجات کا علاج یہ ہے کہ انسان عقائدِ حقہ کا علم حاصل کرے، علمائے اہل سنت کی کتبِ عقائد کا مطالعہ اور ان کی صحبت اختیار کرے اور سختی سے اس پر کاربند رہے۔
نفاقِ اعتقادی کا دوسرا سبب بد مَذہبوں (ہمارے دور کے مرتد و منافق) کی صحبت اور ان سے رشتہ داری قائم کرنا ہے۔ اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ بندہ ان کی صحبت کو زہرِ قاتل جانے اور ان کے سائے سے بھی دور بھاگے، ان کو اللہ و رسول کا دشمن اور ایمان کا لٹیرا گردانے، اور امامِ عشق و محبت کے اس شعر پر مضبوطی سے قائم رہے:
دشمنِ احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے
اور ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرے جو ”وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ“ کے مصداق ہوں یا ان کے صحبت یافتہ ہوں۔
نفاقِ عملی کے اسباب و علاج
- نفاقِ عملی کا پہلا سبب جہالت ہے، جو نفاق اور اس کی علامات و نقصانات سے ناواقف ہوتا ہے وہ منافقتِ عملی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ نفاقِ عملی کی پہچان اور اس کی تباہ کاریوں کا علم حاصل کرے، اگر اپنے اندر اس کی علامات پائے تو ان کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کرے اور آئندہ بچنے کا عہد کرے۔
- نفاقِ عملی کا دوسرا سبب دنیا کی محبت ہے، جس انسان پر دنیا کی محبت کا غلبہ ہوتا ہے وہ اپنے مقصود کے حصول میں بسا اوقات منافقت اختیار کر لیتا ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ“ یعنی دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ انسان دنیا کے دنیوی اور اخروی نقصانات پر غور و فکر کرے اور مرنے کے بعد مال و اسباب کے یہیں رہ جانے، قیامت میں ہر ذرے کا حساب دینے اور اس پر سزا و جزا پانے کا تصور ذہن میں بسائے اور بارگاہِ الٰہی میں اس مرضِ مہلک سے نجات کی دعا کرتا رہے۔
- نفاقِ عملی کا تیسرا سبب حرصِ مذموم ہے؛ طمع اور لالچ بھی بندے کو منافق بنا دیتا ہے۔ اس کا شافی علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے اندر فکرِ آخرت پیدا کرے، اس دنیا و مافیہا کے فنا اور زوال پذیر ہونے اور آخرت کے دیرپا اور جائے حساب ہونے پر یقین اور ایمان مضبوط کرے۔
قسمِ اول (نفاقِ اعتقادی) کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے، کل بروزِ قیامت منافقِ اعتقادی کا ٹھکانہ دَرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ یعنی جہنم کا سب سے نچلا حصہ ہوگا۔ قسمِ دوم (نفاقِ عملی) گناہِ کبیرہ اور دوزخ میں لے جانے والا عمل ہے۔ ربِ قدیر تمام مسلمانوں کو دونوں قسم کے نفاق اور ان کی سزاؤں سے محفوظ فرمائے۔
تکبر کی تعریف
خود کو افضل اور دوسروں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے۔ رحمتِ دو جہاں سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ“ یعنی تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔
تکبر قرآن کی روشنی میں
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ یوں ہی مہر لگا دیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔ (سورۃ الغافر/مؤمن: ۳۵)
اور یہ بھی ارشاد ہوا:
وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
ترجمۂ کنزالایمان: ہر سرکش ہٹ دھرم نامراد ہوا۔ (سورۃ ابراہیم: ۱۵)
اور ایک مقام پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول ارشاد فرمایا:
وَقَالَ مُوسٰى إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
ترجمۂ کنزالایمان: اور موسیٰ نے کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے جو کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا۔ (سورۃ الغافر/مؤمن: ۲۷)
ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا:
إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ النحل: ۲۳)
ایک مقام پر یوں ارشاد فرمایا:
فَادْخُلُوۤا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
ترجمۂ کنزالایمان: اب جہنم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا۔ (سورۃ النحل: ۲۹)
تکبر حدیث کی روشنی میں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ، يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللّٰهِ إِلٰهًا آخَرَ، وَبِالْمُصَوِّرِينَ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی، دو کان ہوں گے جو سنیں گے اور ایک زبان ہوگی جو بولے گی، وہ کہے گی: مجھے تین لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے؛ ہر سرکش ظالم پر، ہر اس آدمی پر جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارتا ہو، اور مجسمہ بنانے والوں پر۔“ (ترمذی شریف، حدیث نمبر: ۲۷۱۱)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ، قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ للنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مِلْؤُهَا.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے بحث کی، دوزخ نے کہا مجھے متکبروں اور ظالموں کے لئے خاص کیا گیا ہے، جنت نے کہا مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور اور کم رتبہ والے لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں جس پر چاہوں رحم کروں، اور دوزخ سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں عذاب دوں، اور جنت اور دوزخ دونوں بھریں گی۔“ (صحیح بخاری، ۴۸۵۰)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللّٰهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو آدمی اپنا کپڑا تکبر سے زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتا ہے، قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی طرف نظرِ کرم نہیں فرمائے گا۔“ (سنن ابو داود، کتاب اللباس، رقم: ۴۰۸۵)
تکبر کے اسباب و علاج
- کثرتِ علم: کبھی علم کی زیادتی کی وجہ سے تکبر ہوتا ہے، اگر کثرتِ علم کے سبب تکبر ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ معلم الملکوت کا مقام پانے والے ملعون و مردود ابلیس کا انجام یاد رکھے کہ اس نے اس مذموم صفت کی بنیاد پر خود کو سیدنا حضرت آدم صفی اللہ علیہ السلام سے افضل قرار دیا تو قیامت تک کی ذلت و رسوائی کے ساتھ لعنت کا طوق گلے میں ڈال کر ہمیشہ ہمیش کے لئے جہنمی قرار دیا گیا اور جنت کی تمام نعمتیں چھین کر باہر کر دیا گیا۔ کہیں یہ شیطانی صفت ہمیں بھی تباہ و برباد نہ کر دے۔
- عبادت و ریاضت: بسا اوقات کثیر عبادت و ریاضت کے سبب بھی یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے اس میں میرا کیا کمال ہے، یہ تو ربِ کریم کی توفیق کا کمال ہے اور عبادت تو وہی مقبول ہے جو تکبر، ریا، طلبِ دنیا جیسی مذموم نیتوں سے خالی اور خالص لوجہ اللہ ہو اور جو عبادت مذکورہ نیتوں کے ساتھ کی جائے وہ قیامت کے دن منہ پر مار دی جائے گی اور جہنم میں داخلے کا سبب بنے گی۔
- مال و دولت: جس کے پاس مال و دولت کی بھرما ر ہو بسا اوقات وہ بھی تکبر جیسی تباہ کن بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ موت اور قبر کی تنہائی اور مال و اسباب کے چھوٹ جانے کو ذہن نشین رکھے اور مال و دولت کی محبت کو دل میں جگہ نہ دے۔
- حسب و نسب: تکبر کا چوتھا سبب حسب و نسب ہے جس کا نسب عمدہ ہوتا ہے وہ اپنے سے کمتر کو حقیر جانتا ہے، اگرچہ وہ شخص اس سے علم و عمل میں بڑھ کر کیوں نہ ہو۔ اگر حسب و نسب کی وجہ سے تکبر ہو تو اس کا علاج ان دو باتوں کی پہچان سے کرے۔ پہلی بات یہ ہے کہ دوسروں کے کمالات پر فخر کرنا جہالت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے حقیقی نسب کو پہچانے اور اپنے باپ دادا کا صحیح تعارف حاصل کرے، کیونکہ اس کا قریبی باپ ایک ناپاک نطفہ تھا اور جدِ بعید مٹی سے تھا جو کہ حقیر ہے۔
- مقام و مرتبہ: پانچواں سبب عہدہ اور منصب ہے، اس کے سبب بھی تکبر آ جاتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات کو ذہن میں رکھے کہ یہ سب عارضی اور فانی چیزیں ہیں، جو مقام اور مرتبہ عطا فرماتا ہے وہی زائل کرتا ہے، مقام و مرتبہ کے ذریعے عزت بھی دیتا ہے اور ذلت و رسوائی بھی، لہذا اللہ سے ڈرتا رہے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے کہ شیطان اور فرعون کی طرح سب کچھ چلا جائے اور ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے۔
- حسن و جمال پر تکبر: اس کا علاج یہ ہے کہ عقلمندوں کی نظر سے اپنے باطن کو دیکھے، جانوروں کی طرح صرف اپنے ظاہر کو نہ دیکھے، اپنی ابتدا اور انتہا پر غور کرے کہ ابتدا ناپاک نطفے سے اور انجام سڑا ہوا مردہ ہو جانا ہے، نیز جسمِ انسانی سدا یکساں نہیں رہتا بلکہ مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ بے رونق ہو جاتا ہے اور یہ بھی نہ بھلایا جائے کہ حسین و جمیل بدن سے پیشاب، پاخانہ، بدبودار پسینہ، میل کچیل اور دیگر گندگی نکلتی ہے اور حسن و جمال کا پیکر اس کو اپنے خوبصورت ہاتھوں سے صاف کرتا ہے، تو کیا ان باتوں کے ہوتے ہوئے ظاہری زوال پذیر حسن و خوبصورتی پر ناز و تکبر کرنا زیب دیتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔
- طاقت و قوت: جو انسان قوی و توانا ہوتا ہے بسا اوقات کمزوروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ توانا جسم میں جو بیماریاں پیدا کی جاتی ہیں ان پر غور کرے کہ اگر بدن کے کسی حصے میں درد پیدا ہو جائے تو پورا بدن بے طاقت ہو جاتا ہے، مچھر ناک میں داخل ہو جائے تو ہلاک کر دے، پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو چل نہ سکے؛ جو جسم گرمی کی شدت برداشت نہ کر سکے، سخت سردی کا بوجھ نہ اٹھا سکے، ایک مچھر سے مقابلہ نہ کر سکے تو ایسی قوت و طاقت والے جسم پر ناز ہونے کا کیا حق؟ کیا طاقت صرف انسان ہی کو ملی ہے؟ کیا گدھے، ہاتھی، اونٹ کو انسان سے زیادہ طاقت نہیں ملی؟ جس وصف میں جانور انسان سے سبقت لئے ہوئے ہوں اس پر فخر کیسا؟ بخوفِ طوالت یہاں اختصار سے کام لیا گیا ہے، تفصیلی معلومات کے لئے احیاء العلوم جلد ۳ کا مطالعہ مفید ہے۔
باطنی بیماریوں میں ایک بیماری حسد ہے، جس کا بانی آسمانوں میں ابلیس اور زمین پر قابیل ہے۔ حسد سے حاسد کی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔ حاسد محسود کو کچھ نقصان نہیں دیتا بلکہ اپنی نعمتوں کے زوال کا باعث بنتا ہے، اس لئے قرآن و حدیث میں اس کی مذمت کی گئی اور اہل اسلام کو اس سے بچنے کا حکم دیا گیا۔
حسد کی تعریف
کسی کی دنیوی یا دینی نعمت کے زوال کی آرزو کرنا یعنی دوسروں کے پاس نعمت کو ناپسند کرنا حسد کہلاتا ہے۔
قرآن کی روشنی میں حسد
وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم
ترجمۂ کنز الایمان: بہت کتابیوں نے چاہا کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں اپنے دلوں کی جلن سے۔ (سورۃ البقرہ: ۱۰۹)
أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللّٰهُ مِن فَضْلِهِ
ترجمۂ کنز الایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔ (سورۃ النساء: ۵۴)
حدیث کی روشنی میں حسد
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے ہی کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو۔“ (سنن ابو داود، رقم: ۴۹۰۳)
وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا.
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترکِ تعلقات سے بچو اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرا کرو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔“ (سنن ابن ماجہ، ۳۸۴۹)
عَنْ عُقْبَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَإِنِّي وَاللّٰهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلٰكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا.
اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، البتہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا کے لوچ میں پڑ کر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔ (صحیح بخاری، رقم: ۶۵۹۰)
حسد کے اسباب
حسد کے سات اسباب ہیں:
- دشمنی اور بغض و عداوت
- تعزز یعنی خود پر دوسرے کی برتری کو برداشت نہ کرنا
- تکبر
- تعجب
- مقاصد کا فوت ہونا (جیسے سوتنوں کا ایک دوسرے سے حسد کرنا)
- اقتدار کی چاہت
- باطنی خباثت اور بخل
حسد کا علاج
- توبہ
- دعا
- رضائے الٰہی پر راضی رہنا
- حسد کی سزا اور بربادی پر غور و خوض کرنا
- اپنی موت کو یاد کرنا
- حسد کا سبب بننے والی نعمتوں پر غور کرنا
- لوگوں کی نعمتوں پر نظر نہ کرنا
- حسد سے بچنے کے فضائل پر نظر کرنا
- اپنی خامیوں کی اصلاح کرنا
- حسد کی عادت کو رشک میں تبدیل کرنا
- نفرت کی جگہ محبت کرنا
- دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے کی عادت پیدا کرنا۔
جاری ہے۔۔۔
