| عنوان: | فکر آخرت! امر و نہی میں کیا نیت ہونی چاہئے |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مفتی محمد صالح قادری بریلوی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
(مصنف رضی اللہ عنہ آگے لکھتے ہیں کہ) آمر بالمعروف کو چاہئے کہ اس کام سے رضائے الہی اور اعزاز دین کا قصد کرے اور اپنے نفس کی پاسداری کے لئے نہ کرے کیونکہ اگر اس سے وجہ اللہ اور اعزاز دین مقصود ہوگا تو اللہ تعالی کی نصرت و توفیق شامل حال رہے گی اور اگر اس کا امر بالمعروف، حمیت نفس کے لئے ہو تو اللہ اس سے اپنی مدد روک لے گا۔ (مخذول کرے گا)
ایک دلچسپ و سبق آموز قصہ
چنانچہ حضرت مصنف علیہ الرحمہ بطور دلیل و نظیر ایک دلچسپ واقعہ نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: (ہمیں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے منقول یہ خبر پہنچی ہے کہ) اگلے زمانے میں ایک شخص کہیں جارہا تھا۔ سر راہ اسے ایک درخت دکھا جسے لوگ بجائے اللہ کی عبادت کے پوج رہے تھے، اسے بہت غصہ آیا اور بولا کہ اللہ کو چھوڑ کر اس پیڑ کی پوجا ہورہی ہے۔ (پھر واپس اپنے گھر آیا اور کلہاڑی لی اور سوار ہو کر درخت کی طرف چلا تاکہ اسے کاٹ ڈالے۔)
راستہ میں ابلیس لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ بشکل انسان ملا۔ بولا: ”کہاں کا ارادہ ہے؟“ جواب دیا: ”میں نے ایک درخت دیکھا ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے تو میں نے (اس شرک کو دیکھ کر) اللہ کو عہد دیا ہے کہ کلہاڑی لے کر جاؤں گا اور اسے کاٹ پھینکوں گا۔“ تو (اس کا عزم بالجزم دیکھ کر) ابلیس نے کہا: ”اس درخت کے کاٹنے سے تجھے کیا فائدہ؟ اسے کھڑا رہنے دے اور جو لوگ اسے پوجتے ہیں اللہ نے انہیں (راہ راست سے) دور کر دیا ہے۔“ تو دونوں میں خوب کہا سنی ہوئی حتی کہ تین بار مار پیٹ ہوئی (اور وہ شخص ابلیس پر غالب رہا) تو جب ابلیس لعین (اس شخص کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکا اور ہار گیا) تو اس نے (دوسرا داؤں چلا اور) بولا: ”تو واپس چلا جا (درخت مت کاٹ اس کے عوض) میں تجھے روزانہ چار درہم دیا کروں گا۔ تو اپنے بستر کا کونہ اٹھائے گا تجھے اس کے نیچے سے چار درہم مل جائیں گے۔“ (تو وہ لالچ میں آکر) بولا: ”کیا (سچ مچ) تو ایسا کرے گا (وعدہ نبھائے گا)؟“ ابلیس نے کہا: ”ہاں (میں وعدہ پورا کروں گا) میں نے تیرے لئے ہر روز کی یہ ذمہ داری قبول کی۔“ تو وہ شخص یہ سن کر اپنے گھر لوٹ گیا، اسے وہ درہم دو یا تین یا کچھ اور زائد دنوں تک ملتے رہے، اس کے بعد (نہیں ملے)۔ جب ایک دن بستر کا کونہ اٹھایا اور درہم نہیں دکھے (تو ایک دو دن انتظار میں یوں ہی رکا رہا پھر اسے غصہ آیا) تو کلہاڑی اٹھائی اور سوار ہو کے چلا، راہ میں پھر انسانی شکل میں اسے ابلیس ملا، کہا: ”کہاں کا ارادہ ہے؟“ اس نے کہا: ”ایک پیڑ کو لوگ پوجتے ہیں لہذا میں اسے کاٹنے کے لئے جارہا ہوں۔“ ابلیس نے کہا: ”اب یہ کام تیرے بس کا نہیں رہا، تو پہلی مرتبہ غصہ کر کے جو نکلا تھا وہ اللہ تعالی کیلئے تھا۔ اس روز اگر سب اہل زمین و آسمان جمع ہو کر تجھے روکنا چاہتے تب بھی وہ تجھے نہیں روک پاتے لیکن آج تیرا نکلنا اپنے نفس کے لئے ہے کیونکہ تجھے درہم نہیں ملے ہیں (اس لئے تجھے غصہ آیا ہے)۔ تو اگر تو (یہاں سے پیڑ کی طرف جانے کے لئے) ذرا بھی آگے بڑھا ہم تیری گردن مروڑ دیں گے۔“ تو وہ (ڈر گیا اور اپنے ارادہ کی تکمیل سے باز رہا اور) گھر لوٹ گیا اور پیڑ چھوڑ دیا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے کیا کیا ضروری
ہدایت: جو شخص امر بالمعروف کرے اسے پانچ چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔
- علم، اس لئے کہ بے علم امر بالمعروف اچھی طرح نہیں کر سکے گا۔
- اور اس سے رضائے الہی اور اعزاز دین مقصود ہو۔
- اور مامور پر شفقت، لہذا نرمی اور پیار سے سمجھائے اور ترش روئی اور بد خلقی کا مظاہرہ نہ کرے، فظ لسانی و غلظت قلبی سے بچے، کیونکہ (اللہ کو یہی پسند ہے چنانچہ) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی اور ہارون علیہما الصلاة والسلام کو فرعون (جیسے شریر و سرکش ظلام و جبار) کے پاس برائے تبلیغ رسالت روانہ فرمایا تو اس وقت ان سے فرمایا تھا: فَقُولَا لَهُ قَوْلاً لّيِناً (ترجمہ) ”تم دونوں اس سے نرم بات کہنا۔“ [طہ: 44]
- اور آمر کو صابر اور بڑا بردبار ہونا چاہئے کیونکہ قرآن مجید میں حضرت لقمان حکیم (علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام) کے قصہ میں (ان کا وہ قول جو نصیحت کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا تھا) مذکور ہے۔ فرمایا: وَأَمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ (ترجمہ) ”اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر۔“ [لقمان: 17]
- اور اس پر خود بھی عمل کرتا ہو، تاکہ عار نہ دلایا جائے (اس پر اعتراض نہ ہو سکے) اور تاکہ اس ارشاد ربانی کے تحت داخل نہ ہو جائے۔ فرماتا ہے: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ (ترجمہ) ”کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھول جاتے ہو۔“ [البقرۃ: 44]
بے عمل واعظ اور عالم کا انجام
حدیث شریف: حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي - الحديث. یعنی ”میں نے شب معراج کچھ مرد دیکھے جن کے ہونٹ قینچیوں سے تراشے جا رہے تھے، دریافت کرنے پر جبرئیل (علیہ السلام) نے بتایا یہ حضور کی امت کے وہ واعظین (مقررین) ہیں جو کہ دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتے اور خود کو فراموش کرتے حالانکہ کتاب الہی پڑھتے ہیں تو کیا وہ عقل سے کام نہیں لیں گے؟“ یعنی عالم ہونے کے باوجود علم پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ (1)
بے عمل واعظ و مبلغ اللہ کا مبغوض
اسرائیلی خبر: حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرمایا کہ ہمارے سامنے ذکر ہوا کہ توراۃ شریف میں مکتوب ہے: يا ابن آدم! تذكرني و رني و تنساني و تدعوالي و تفرمني فباطل ما تذهبون. ”اے آدم کے بیٹے! تو دوسروں کو تو میری یاد دہانی کراتا ہے اور خود مجھے بھول جاتا ہے، میری طرف آنے کی دوسروں کو دعوت دیتا ہے حالانکہ تو خود مجھ سے بھاگا پھرتا ہے، تو اے اولاد آدم تم جس راستے پر گامزن ہو وہ باطل ہے۔“ (یعنی بہت مضر و موجب خسران ہے)
امر و نہی اور جہاد شرعی کے اسباب
حدیث شریف: حضرت ابو معاویہ فزاری (علیہ الرحمہ) نے اپنی پوری سند کے ساتھ یہ (طویل) حدیث حضور سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أنتم على بينة من ربكم قد بين الله تعالى لكم طريقكم، ما تظهر فيكم السكرتان سكرة العيش وسكرة الجهل، فأنتم اليوم تأمرون بالمعروف و تنهون عن المنكر وتجاهدون في سبيل الله، و ستحولون عن ذلك إذا فشا فيكم حب الدنيا فلا تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتجاهدون في غير سبيل الله، والقاعدون يومئذ بالكتاب سرا و علانية كالسابقين الأولين من المهاجرين والأنصار.
(ترجمہ) ”اے مسلمانو! تم لوگ (آج) اسی بیّنہ پر ہو جو تمہارے رب کی جانب سے آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارا راستہ صاف صاف بیان فرما دیا ہے۔ اور (تمہاری یہ راست روی اس وقت تک جاری رہے گی) جب تک کہ تم میں دو نشوں کا ظہور (یعنی عام وقوع) نہیں ہوتا، ایک عیش و عشرت کا نشہ اور دوسرا دین سے نادانی و بے علمی کا نشہ، تبھی تو تم آج معروفات (پسندیدہ کاموں) کا حکم دیتے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے منع کرتے ہو۔ اور راہ خدا میں جہاد کرتے ہو (یعنی اعلائے دین کیلئے محنت مشقت اٹھاتے ہو) اور عنقریب تمہاری یہ حالت بدل جائے گی۔ (اس اچھی روش و کیفیت سے تمہارا تحول اس وقت رونما ہوگا جب) تم میں حب دنیا عام و فاش ہو جائے گی تب تم نہ امر بالمعروف کرو گے اور نہ نہی عن المنکر کرو گے اور تمہارا جہاد، راہ خدا کے غیر میں ہوگا۔ ان ایام میں جو (نیک مسلمان تھوڑے یا بہت) کتاب اللہ پر سرا بھی ظاہرا بھی مستعدی سے قائم رہیں گے وہ (استحقاق ثواب و مراتب میں) سابقین اولین (یعنی مہاجرین و انصار کے مانند) ہوں گے۔“
تشریح: (مصنف نے کہا یہاں) لفظ بینہ سے مراد روشن بیان ہے۔ (نہ کہ شہادت یا دلیل)
تحفظ دین کیلئے فرار، کتنا محمود و مختار
حدیث شریف: حضرت امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: من فر بدينه من أرض إلى أرض - الحديث. یعنی ”جو مسلمان اپنے دین کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگا پھرا (مهاجرانہ طور طریقہ اپنایا) اگرچہ بالشت بھر چلا وہ بے شک مستحق جنت ہوا، اور (اتنا ہی نہیں بلکہ ان شاء اللہ تعالیٰ آخرت میں) اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور ہمارے نبی (محمد مصطفی) صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت بھی نصیب ہوگی۔“
وضاحت: مطلب یہ ہے کہ (چونکہ دین کی حفاظت کے لئے ان دونوں برگزیدہ نبیوں نے بھی ہجرت کی تھی تو یہ ان کا متبع ہوا اور اتباع و محبت، متبوع و محبوب کی رفاقت کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ) حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے حران سے ملک شام کو ہجرت کی تھی جس کا ذکر قرآن شریف میں مذکور ہے۔ (ایک جگہ) یوں آیا ہے:
وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(ترجمہ) ”ابراہیم نے کہا بے شک میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں اور بے شک وہ عزیز ہے حکیم ہے۔“ [العنکبوت: 26]
صدق نیت پر بھی استحقاق ثواب
اور دوسری جگہ فرمایا:
إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ
(ترجمہ) ”بے شک میں اپنے رب کی طرف چل دینے والا ہوں وہ میری رہنمائی فرمائے گا۔“ [الصافات: 99]
”(مصنف علیہ الرحمہ نے کہا) رب کی طرف ہجرت کرنے سے مراد ہے رب کی طاعت و رضا کی طرف۔ (یعنی یہاں مضاف محذوف ہے) اور ہمارے آقا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے وطن عزیز) مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی تھی۔“
نتیجہ: تو جو مسلمان (پہلے) ایسے علاقہ میں رہتا تھا جہاں معاصی کا غلبہ و ظہور تھا تو وہ وہاں سے (اہل ضلالت و معاصی کے شر سے بچنے اور) رب تعالی کی مرضی پانے کے لئے نکل آیا تو بے شک اس نے حضرت ابراہیم اور حضرت محمد مصطفی صلوات اللہ وسلامہ علیہا کی اقتدا کی، اسی لئے وہ جنت میں ان کی رفاقت کا (اللہ کے کرم سے) مستحق ہوگا اور اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَن يَخْرُجُ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِراً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَانَ اللهُ غَفُوراً رَّحِيماً
(ترجمہ) ”اور جو اللہ و رسول کی طرف ہجرت کے ارادے سے، اپنے گھر سے نکلے پھر اسے (راہ ہجرت میں) موت آپکڑے تو اس کا ثواب (ہجرت) اللہ کے ذمہ کرم پر واقع ہو چکا۔“ [النساء: 100] [سنی دنیا بریلی شریف فروری 2025، ص: 49]
