Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور تاج الشریعہ اور دفاعِ اہلِ سنت ”مرآۃ النجدیہ“ کی روشنی میں

حضور تاج الشریعہ اور دفاعِ اہلِ سنت "مرآۃ النجدیہ" کی روشنی میں
عنوان: حضور تاج الشریعہ اور دفاعِ اہلِ سنت "مرآۃ النجدیہ" کی روشنی میں
تحریر: شکیل احمد رامپوری
پیش کش: زریں امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

حضور تاج الشریعہ اور دفاعِ اہلِ سنت ”مرآة النجدية“ کی روشنی میں

بسم الله الرحمن الرحيم

اللہ کے کچھ نیک بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی پوری زندگی اللہ کی عبادت اور اس کے بندوں کی اصلاح و ہدایت میں گزار دیتے ہیں۔ اللہ کے انہی نیک بندوں میں سے ایک حضور تاج الشریعہ بدرالطریقہ حضرت الشاہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری علیہ الرحمہ والرضوان بھی ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فریضہ انجام دیا۔ یوں تو آپ کی پوری زندگی ہی دینِ متین کی خدمت سے عبارت ہے لیکن تقریر و تحریر آپ کی خاص صفت تھی۔ جہاں آپ نے تقریروں کے ذریعہ اپنوں کی اصلاح اور بد مذہبوں کے رد کا کام انجام دیا وہیں تحریروں کی شکل میں بھی آپ اپنے نقوش آنے والوں کے لئے چھوڑ گئے۔

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان نے اہلِ سنت کا دفاع ”مرآة النجدية“ کی روشنی میں بھی کیا ہے۔ دراصل یہ کتاب آپ نے احسان الٰہی ظہیر کی کتاب ”البریلوية عقائد وتاريخ“ کے جواب میں لکھی جس کا نام ”حقيقة البریلوية“ ہے جو ”مرآة النجدية“ کے نام سے مشہور ہے۔ مرشدِ برحق سیدنا حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان کی کتاب مذکور 91 صفحات پر مشتمل ہے جن کی اگر تفصیل کی جائے تو ایک دفتر درکار ہے لیکن کچھ کے بیان پر اکتفا کیا جائے گا۔

دراصل احسان الٰہی ظہیر نے اپنی کتاب ”البریلوية“ میں یہ کہا ہے کہ امام احمد رضا قادری بریلوی رضی اللہ عنہ نے ”بریلویت“ نامی ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جس کے نظریات اسلامی فکر سے پورے طور سے متصادم و مخالف ہیں اور یہ کہا کہ ”إن البریلوية شقيقة القاديانية“ کہ بریلویت، قادیانیت کی سگی بہن ہے۔ العياذ بالله رب العالمين۔ اور یہ کہ ”البریلوية“ ایک ملة جديدة طائفة مستحدثة ہے اور احسان الٰہی ظہیر نے اپنی کتاب میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ امام احمد رضا خان کے ابتدائی استاذ مرزا غلام قادر بیگ شقیقِ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی دجال کذاب کے سگے بھائی تھے، نعوذ بالله۔ تو مرشدِ برحق نے اس کا بھی کھلا رد کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قائل نے جھوٹ سے کام لیا ہے کیونکہ معلمِ امام احمد رضا اور خبیث کذاب دجال کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں تھی چہ جائیکہ یہ اس خبیث کے سگے بھائی ہوں اور امام احمد رضا شقیق قادیانی کے شاگرد ہوں کیونکہ مرزا غلام قادر بیگ کی حیات میں یہ ملتا ہے کہ ان کا نسب غلام قادر بیگ بن مرزا حسن خاں لکھنوی ثم بریلوی مولانا غلام قادر بیگ بریلوی ماہ محرم الحرام 1232ھ مطابق 25 جون 1827ء کو شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے، پھر ان کے والد گرامی نے لکھنؤ سے بریلی شہر انتقال مکانی کیا اور بریلی شہر کی جامع مسجد میں آکر ٹھہرے، موصوف بڑے عالم و فاضل تھے، محرمات و شبہات سے دور رہتے تھے اور مناقب جلیلہ کے حامل تھے، ہمیشہ عمامہ سر پر پہنے رہتے تھے۔ مولانا غلام قادر بیگ نے شہر بریلی میں نشوونما پائی اور علمائے اعلام سے مختلف علوم وفنون حاصل کیے۔ پھر شہر کلکتہ چلے گئے اور وہاں ایک مدت قیام کیا پھر بریلی لوٹ آئے اور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے آپ سے میزان و منشعب اور دوسری کتابیں پڑھیں۔ آپ کے استاذ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے اور امام اہلِ سنت بھی آپ کی بہت زیادہ تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ لہٰذا احسان الٰہی ظہیر اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔

اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری حیات فرقِ باطلہ کا رد کیا ہے اور اہل بدعت و اہل ہوا کا قلع قمع کیا، خصوصاً دیوبندیت و قادیانیت کا۔ آپ نے قادیانیت کے رد میں مختلف رسائل تحریر فرمائے۔ چند کے نام یہ ہیں:

  1. السوء والعقاب على المسيح الكذاب
  2. قهر الديان على مرتد القاديان
  3. الجزاء الديان على المرتد القادياني
  4. الصارم الرباني على إسراف القادياني
  5. جزاء الله عدوه بإباه ختم النبوة

ان رسائل مذکورہ میں امام اہلِ سنت رضی اللہ عنہ نے تمام فرقہائے باطلہ خصوصاً قادیانیت کا ردِ بلیغ کیا ہے اور علمائے دیوبند کی عبارتوں اور ان کے عقائدِ باطلہ کو قوم پر ایسا واضح کیا جس سے ان کا راہِ حق سے عدول پورے طور سے سمجھ میں آتا ہے۔ چنانچہ مرشدِ گرامی نے دیوبندی علماء کے سرغنہ کی کچھ عبارات نقل کی ہیں:

ہندوستان کے دارالعلوم دیوبند کا بانی قاسم بن اسد علی بن غلام النانوتوی اپنی کتاب ”تحذیرالناس“ میں لکھتا ہے:
”عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہلِ فہم پر روشن ہے کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں“

اسی کتاب میں دوسری جگہ کہتا ہے: ”اگر بالفرض بعدِ زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے“

اسی کتاب میں یوں لکھتا ہے: ”بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے“ (نعوذ بالله من ذلك)

یہ مذکورہ عبارات دیوبندیوں کے سرغنہ اور قادیانیت کے رئیس کی ہیں جن میں اس نے کفرِ صریح کا ارتکاب کیا ہے، جس کا ضروریاتِ دین سے ہونا ثابت ہے اس کو یکسر چھوڑ دیا ہے، ختمِ نبوت کا منکر ہوا، قرآن و سنت کو جھٹلانے والا، ملت کے اجماع کو توڑنے والا ٹھہرا اور اس مرزا غلام احمد قادیانی کی راہ چلا کہ جو اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام اور مسلمانوں کا باغی ہو کر دین سے نکل گیا اور بالاجماع کافر ہوا اور اس کی راہ پر چلنے والے بھی کافر ہوئے۔

امام اہلِ سنت رضی اللہ عنہ نے فرقِ باطلہ میں سے فرقہ مرزائیہ، نیچریہ، روافض، وہابیہ امثالیہ، اذناب و وہابیہ امثالیہ سب کا ردِ بلیغ کیا جس کو مرشدِ گرامی حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان نے مفصل انداز میں اپنی کتاب ”حقيقة البریلوية“ جو ”مرآة النجدية“ کے نام سے مشہور ہے، میں بیان کیا ہے۔ فرقہ مرزائیہ میں سے فرقہ غلامیہ بھی ہے، اس فرقہ کی نسبت غلام احمد قادیانی کی طرف ہے، یہ دجال اس زمانے میں پیدا ہوا، سب سے پہلے اس نے مماثلتِ مسیح کا دعویٰ کیا، اس نے سچ ہی کہا ہے، وہ مسیح دجال کذاب کا مثل تھا پھر اس کا حال اور بڑھا تو اس نے وحی کا دعویٰ کیا اور اس نے سچ کہا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا

پھر اس دجال کذاب نے اپنے لئے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا اور کہا ”هو الذي أرسل رسوله في قاديان“ العياذ بالله۔ وزعم أن مما نزل الله تعالى عليه ”إنا أنزلناه بالقاديان وبالحق نزل“ العياذ بالله وزعم أنه هو أحمد الذي بشر به ابن البتول ”يعني عيسى عليه السلام“ وهو المراد من قوله تعالى ”ومبشرا برسول يأتي من بعدي اسمه أحمد“ یعنی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا (معاذ الله) اور قرآن کے بارے میں اس نے کہا کہ اللہ نے مجھ پر یہ قادیان میں اتارا اور حق کے ساتھ اترا (معاذ الله) اور کہا ہے کہ عیسیٰ ابنِ بتول نے جس احمد کی بشارت دی ہے وہ میں ہوں (معاذ الله)

اس طور پر اس نے اپنے لئے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا اور صریح کفر کیا اور جب اس خبیث دجال کا کذب بہت زیادہ بڑھنے لگا تو اس نے یہ کہا کہ خبروں میں کذب یہ مقام نبوت کے منافی نہیں ہے کیونکہ انبیائے کرام (صلوات الله تعالى وسلامه عليهم أجمعين) چار سو خبروں میں ان کا کذب ظاہر ہوا ہے۔ (العياذ بالله رب العالمين)

اب اہلِ انصاف ذرا غور کریں، دیکھیں کہ امام اہلِ سنت نے کس طریقہ سے قادیانیت سے جنگ کی ہے اور دین کا دفاع کیا ہے۔ کیا امام اہلِ سنت کے بارے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ قادیانی تھے (زنہار نہیں) وہ قادیانیت کے امام نہیں تھے اور نہ ہی کسی فرقہ ضالہ مضلہ کے قائد بلکہ وہ تو امام اہلِ سنت حامی سنت قاطعِ کفر و ضلالت تھے کہ جس نے اپنی پوری زندگی فرقہ قادیانیہ سے ہی نہیں بلکہ ہر گمراہ و گمراہ گر نوپید گروہ سے جنگ کی اور دین و سنیت کی حفاظت کی۔

اور پھر نیچریوں کا رد فرمایا۔ فرقہ نیچریہ کے لوگ سید احمد الکولی کے پیروکار ہیں، یہ لوگ اپنی عقل پر اعتماد کرتے ہیں، قرآن و حدیث کے بہت سارے ظواہر کا انکار کرتے ہیں اور تاویلاتِ باطلہ کا سہارا لیتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ ان کی عقلوں سے بالاتر ہے اور اس فرقہ کا قائد بھی وجودِ جنہ و وجودِ ملائکہ و جنت و نار کا انکار کرتا ہے اور تاویلاتِ باطلہ کرتا ہے اور نیچری فرقہ احادیثِ رسول صلى الله عليه وسلم کو رد کرتا ہے اور اپنے خیال میں قرآن کی آیات کی بھی اپنی خواہش کے مطابق بے جا تاویل کرتا ہے۔

وہابیہ امثالیہ کا رد فرمایا کہ جنہوں نے کہا ہے اس کو اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے ”المعتمد المستند“ میں نقل کیا ہے: ”خرج دجالون يدعون وجود ستة نظراء النبي صلى الله عليه وسلم مشاركين له في أشهر خصائصه الكمالية أعني ختم النبوة في طبقات الأرض الستة السفلى“ ”کچھ دجال ایسے نکلیں گے جو یہ دعویٰ کریں گے کہ چھ ایسے ہوں گے کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی مشہور خصائص میں ان کے مثل ہوں گے یعنی ختم نبوت وغیرہ میں۔ العياذ بالله رب العالمين۔“

اس عبارت سے کفرِ خالص ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ان دجالوں نے یہ صراحت کی ہے کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تمام صفات میں ان کے مماثل اور ان کے شریک ہیں۔ معاذ الله۔

تو ان تمام فرقہ ہائے باطلہ کا ردِ بلیغ امام اہلِ سنت نے فرمایا اور اپنی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت کی اور ان باطل فرقوں سے برسرِ پیکار رہے اور دین و سنیت کی حفاظت کی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمين بجاه النبي الكريم عليه وعلى آله أفضل الصلوة والتسليم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!