| عنوان: | علم انسان کی ایک غیبی آنکھ ہے (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبداللہ رضوی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
علم کی اہمیت و ضرورت مسلم ہے۔ ہر کس و ناکس اس کی عظمت و افادیت سے بخوبی واقف ہے۔ علم کے حصول کی فضیلت کسی مذہب، کسی دین یا کسی قوم و قبیلہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر انسان بحیثیت انسان اس کی اہمیت کا معترف ہے۔ وہ اس لیے کہ خالق کائنات نے جب اس دنیا میں بصورتِ آدم علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والتسلیم حضرتِ انسان کی تخلیق فرمائی تو اس نے حضرتِ آدم علیہ السلام کو تمام مخلوقات غرض یہ کہ تمام جنات و فرشتوں پر فوقیت دی اور وجہِ ترجیح کوئی اور شئی نہیں بلکہ اللہ نے علم ہی کو بنایا۔ اس کی تائید و تصدیق میں تمام فرشتوں نے اپنا سرِ تسلیم خم کر دیا اور وہ اعترافِ عظمت کیے بغیر نہ رہ سکے۔
قرآنِ مقدس اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اگر ہم علم کے حصول کی افادیت پر غور کریں تو ہمیں پتا چلے گا کہ علم کس قدر ضروری ہے اور اس کے حصول کے لیے کس قدر تاکیدات کے ساتھ ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ
ترجمہ: اور تم میں جو لوگ ایمان لائے نیز اہل علم کے درجات کو اللہ تعالیٰ بلند فرمائے گا۔ [کنزالایمان]
آیتِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور علما کی بلندیِ درجات کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور ان کے درجات کسی قدر بلند ہوں گے اس کی تفسیر حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے معلوم ہوتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں علماے کرام عام مومنین سے سات سو درجات بلند ہوں گے۔ اور ہر دو درجوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہو گی۔ سبحان اللہ! یہ ایک نہیں، اس طرح کی بے شمار آیاتِ قرآنیہ اہل علم کی فضلیت و عظمت پر ناطق ہیں جو بنی آدم کی عزت افزائی کرتی ہیں اور حصولِ علم کی تلقین کرتی ہیں۔
اب آیئے معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ ناز میں ہادیِ برحق پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامیں نے جا بہ جا اس کے علم کے حصول کی طرف رہنمائی فرماتی ہیں۔ ہم یہاں دو چند فرمانوں پر روشنی ڈالیں گے آپ فرماتے ہیں۔
فضل العالم على العابد كفضلي على أدنى رجل من أصحابي
یعنی عابد پر علم کی فضیلت اس طرح ہے جیسے مجھے اپنے ادنیٰ صحابی پر فضیلت حاصل ہے۔ [الترمذي، ص: 384] دیکھئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کو درجۂ نبوت کے ساتھ ملایا اور کس طرح علم سے خالی عمل کا درجہ گھٹایا۔ اگرچہ عابد اس علم سے بے پروا نہیں ہوتا جسے وہ ہمیشہ کرتا ہے کیونکہ اگر یہ علم نہ ہو تو وہ عبادت ہی نہیں۔ باوجود اس کے اللہ کے رسول، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم کو عابد سے برتر بتایا۔ ایک دوسری حدیثِ پاک میں ہے کہ عالم کو عابد پہ اس طرح فضیلت ہے جس طرح چودہویں کا چاند تمام ستاروں سے افضل ہے۔ [ابن ماجہ، ص: 23]
محترم قارئین! علم وہ نور ہے جو عام انسان کو معزز بنا دیتا ہے۔ اگر غلام میں پیدا ہو جائے تو اس کو سربلندی مل جاتی ہے اور بادشاہ میں آ جائے تو اس کے درجات بلند ہو جاتے ہیں۔ گویا علم انسان کی غیبی آنکھ ہے، جس کے ذریعہ وہ ان چیزوں کو دیکھ لیتا ہے، جن کو وہ ماتھے کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اسی طرح وہ ایسا پھول ہے کہ جتنا کھلتا ہے اتنا ہی خوشبو دیتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا۔
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
علم انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے، علم انسان کو دین و ملت اور معاشرہ میں ایک باوقار زندگی کا حامل بناتا ہے۔ علم ہی انسان کو مہذب، مؤدب اور سلیقہ مند بناتا ہے۔ حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشاد فرمایا: ”علم دولت سے بہتر ہے، دین خزانہ ہے اور علم اس کا راستہ ہے۔ دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے اور علم بڑھتا ہے، تم دولت کی حفاظت کرتے ہو اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے“۔ [احیاء العلوم، ج: 1, ص: 47] وہ علم ہی ہے جس کے توسط سے انسان انسانیت سیکھتا ہے۔ بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت سیکھتا ہے۔ وہ علم ہی ہے جو اخوت و بھائی چارہ سکھاتا ہے۔ حضرتِ مولانا روم نے فرمایا تھا: ”اگر میرا علم مجھے انسان سے محبت کرنا نہیں سکھاتا تو ایک جاہل مجھ سے ہزار درجہ بہتر ہے“۔
علم کیسے حاصل ہوتا ہے:
اللہ رب العزت نے انسان کے اندر فطری طور پر حرص و طمع کی دولت پیدا فرمائی ہے۔ تو انسان جس کی طلب میں حریص ہو جاتا ہے، یقیناً اس کو حاصل کر ہی لیتا ہے۔ اگرچہ حرص و طمع کے منفی پہلو بھی ظاہر ہیں، لیکن اس کا استعمال مثبت انداز میں کیا جائے تو بھلائی ہی ہاتھ آئے گی۔ حضرتِ شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: ”دو حریص کبھی آسودہ نہیں ہوتے، ایک مال کا حریص اور دوسرا علم کا حریص“۔ معلوم یہ ہوا کہ علم کی طلب میں حریص ہونا اچھی چیز ہے۔ علم جہاں پڑھ کر، سن کر اور دیکھ کر حاصل ہوتا ہے، وہیں اس کا سب سے زیادہ دخل متعلم کے ذوق و شوق پر بھی ہوتا ہے۔ جس قدر طلبِ علم کی پیاس بڑھتی جائے گی وہ تشنہ لب میخانے کی جستجو میں لگا رہے گا اور سیرابی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ کسی دانش مند نے کہا تھا کہ علم نگاہ سے ملتا ہے، کتاب سے نہیں۔ علم کا مخرج نگاہ ہے اور اس کا مدفن کتاب ہے۔ اور ظاہر ہے یہاں نگاہ سے مراد نگاہِ شوق ہے اور یہ صرف طالبِ علم کی دلچسپی اور لگن پر منحصر ہے۔
بو علی سینا جیسے عظیم منطقی و فلسفی سے ہر صاحبِ خرد واقف ہے۔ اس کو منطق کا معلمِ اول قرار دیا گیا ہے۔ جب اس نے ایک بیمار بادشاہ کا کامیاب علاج کر دیا تو بادشاہ نے خوش ہو کر اس سے کہا: ”اے میرے طبیب! تو نے مجھے ایک نئی زندگی دی ہے۔ میں آج بہت خوش ہوں تم کیا مانگتے ہو۔ مانگو، منہ مانگا انعام دیا جائے گا“۔ قارئینِ کرام! غور فرمائیں۔ بو علی سینا کے سامنے بادشاہ کی طرف سے یہ کتنی بڑی پیش کش تھی۔ اگر وہ چاہتا تو بادشاہ کی جائیداد میں شرکت کا مطالبہ کرتا، یا اس کی شہزادی سے نکاح کی مانگ کرتا۔ مگر اس کی فکر کی بلندی اور طالبِ علم کی چاہ دیکھئے۔ بو علی سینا نے کہا: ”بادشاہ سلامت! اگر آپ میری ہر مانگ پوری کرنا چاہتے ہیں تو میری صرف ایک چھوٹی سی مانگ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنی شاہی لائبریری میں مجھے کتابوں کے مطالعہ کی اجازت دے دیجئے“۔ آج بے شمار ادارے، لائبریریاں اور کتب خانے موجود ہیں۔ بلکہ آج تو انسانوں نے دنیا کو مٹھی میں بند کر لیا ہے۔ ہزاروں ویب سائٹس کھلے ہوئے ہیں جس میں نہ جانے کتنے کتب خانے اور لائبریریاں موجود ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو سیرِ کتب کر سکتے ہیں مگر وقت کی قدر و قیمت یک لخت نظر انداز کر کے فضول باتوں اور کاموں میں ہم اپنے اوقات کو گزار دیتے ہیں اور بذاتِ خود اپنے ہاتھوں سے کامیاب ہونے کے مواقع گنوا دیتے ہیں۔ ہمیں اس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
