Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ملفوظات حافظ ملت کے تابندہ نقوش

ملفوظات حافظ ملت کے تابندہ نقوش
عنوان: ملفوظات حافظ ملت کے تابندہ نقوش
تحریر: نازش المدنی مرادآبادی
پیش کش: ثمینہ پروین قادریہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

استاذ العلماء جلالۃ العلم حافظ ملت علامہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی قدس سرہ العزیز سیدی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علامہ شاہ احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد تن تنہا اتنی فیض رساں شخصیت ہیں کہ موجودہ ہندی علماء کا طبقہ بلا واسطہ نہ سہی بالواسطہ ضرور آپ کے تلامذہ کی صف میں شامل ہیں۔

جو آپ کے ثقہ اور رجال الہند میں باعظمت شخصیت ہونے کی حتمی دلیل ہے۔ اگر حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے ملفوظات کا غائرانہ مطالعہ کیا جائے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ علیہ الرحمہ والرضوان کے افکار و نظریات کس قدر بلند تھے۔ عربی کا ایک مقولہ ہے ”كل إناء يترشح بما فيه“ یعنی ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے، اس تناظر میں جب ہم حضور حافظ ملت قدس سرہ العزیز کے ملفوظات مبارکہ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے آپ علیہ الرحمہ دین و سنیت کی ترویج و اشاعت اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی دکھیاری امت کا کس قدر درد رکھتے تھے آپ کے فرمودات آپ کے جذبات کی جامع عکاسی کرتے ہیں۔

جیسا کہ آپ علیہ الرحمہ کا مشہورِ زمانہ فرمان ہے: ”زمین کے اوپر کام زمین کے نیچے آرام“ اس فرمان کی اگر آپ گہرائی میں جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ فرمان اپنے اندر کس قدر معنویت رکھتا ہے۔ ظاہرانہ طور پر دیکھیں تو اس سے پتا چلتا ہے کہ ہر شخص کو چاہیے کہ دنیا میں رہ کر آخرت کے لیے زادِ راہ تیار کرے تاکہ قبر میں سکون سے رہ سکے جیسا کہ مروی ہے ”الدنيا مزرعة الآخرة“ (الحديث) یعنی دنیا آخرت کی کھیتی ہے جیسی بیج ویسی کھیتی۔

اسی طرح آپ کا ایک مشہورِ زمانہ قول ہے: ”اتفاق زندگی اختلاف موت ہے“ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے وہی لوگ کامیاب اور سرخرو ہوئے جنہوں نے اتفاق اور اتحاد کو قائم رکھا اور اختلاف سے کوسوں دور رہے، موجودہ دور میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ وہی تنظیم و ادارہ بلندی کا زینہ چڑھ رہا ہے جس کے تمام کارکنان باہمی رضامندی و اتفاق سے اسے لے کر چلے۔ حاصلِ کلام یہی ہے کہ اتفاق میں برکت اور اختلاف موت (زوال) ہے۔

”آرام طلبی تخریبِ زندگی ہے“ انسان آرام کو ضرورت کی حد تک رکھے تو بہتر ہے ورنہ ضرورت سے زیادہ آرام طلبی انسان کی زندگی کو تباہ و برباد کر دیتی ہے اور انسان کو تن پرور بنا دیتی ہے۔ پھر انسان ہمہ وقت اور ہر جگہ آرام ہی تلاش کرتا ہے، جہاں آرام میسر نہ ہوا تو شکوہ شکایت کرنے لگتا ہے۔

ایک مقام پہ فرماتے ہیں: ”تضییع اوقات سب سے بڑی محرومی ہے“ وقت انسان کا انمول سرمایہ حیات ہے اور اس کو ضائع کرنا زندگی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا دنیا و آخرت میں سرخرو اور کامیاب وہی لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے وقت کی قدر کی ہے عربی مقولہ بھی ہے ”الوقت كالسيف إن لم تقطعه قطعك“ یعنی وقت تلوار کی مثل ہے اگر تو اسے اچھے کاموں میں صرف نہیں کرے گا تو وہ تجھے کاٹ دے گا (گزر جائے گا)۔ لہٰذا وقت کی قدر کی جائے اور اسے کارگر بنایا جائے ورنہ گزر جائے گا اور بعد میں کفِ افسوس ملنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

یوں ہی ایک مقام پہ فرماتے ہیں: ”جس کی صحبت سے اخلاقی گراوٹ پیدا ہو اس صحبت کو جلد از جلد چھوڑ دینا چاہیے“ الصحبة مؤثرة یعنی صحبت اثر کرتی ہے اب چاہے بری ہو یا اچھی۔ اور اردو میں بھی ایک کہاوت ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، لہٰذا ہمیں اپنی صحبتوں اور ہم نشینیوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ جس کے ساتھ ہمارے رات دن گزر رہے ہیں کہیں وہ ہماری آخرت کو نقصان تو نہیں پہنچا رہا؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو جلدی ہی ایسی صحبت کو ترک کر دینا چاہیے ورنہ تباہی ہی تباہی ہے۔

ایک جگہ فرماتے ہیں: ”کامیاب وہ ہے جو مصیبتیں جھیل کر کامیابی حاصل کرے، مصیبتوں سے گھبرا کر کام چھوڑ دینا بزدلی ہے۔“ کامیاب وہی انسان ہوتا ہے جو مصائب و آلام سے نبردآزما ہو کر بھی کامیابی کی راہ پر گامزن رہے۔

ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”تقریر سب سے آسان کام ہے تدریس اس سے مشکل اور سب سے مشکل تصنیف“ خطابت کا حال تو آپ پر عیاں ہے کہ ہر کس و ناکس اس میں لگا ہوا ہے حالانکہ تقریر بھی ایک دینی فریضہ ہے جو بہت ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے مگر آج کل کے خطبا نے اس کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔ اور ایک دو درجے پڑھا ہوا نیم مولوی بھی اپنے آپ کو خطیبِ اعظم گردان رہا ہے بہرحال تقریر اتنا مشکل کام نہیں۔

اس کے بعد تدریس کا مرحلہ جو واقعی ایک اہم ذمہ داری والا کام ہے، اور ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں کیونکہ اس میں پہلے خود کتاب کو حل کرنا پھر طلبہ کے سامنے اس کو پیش کرنا اور نہ صرف پیش کرنا بلکہ طلبہ کی ذہنی سطح کو دیکھتے ہوئے اس کو سمجھانا یقیناً ایک مشکل کام ہے۔ اس کے بعد تصنیف و تالیف کا نمبر آتا ہے وہ تدریس سے بھی سخت کام ہے کہ ایک عنوان پہ کچھ لکھنے سے قبل اس کے تمام تر متعلقات کی تحقیق پھر موضوع کے لحاظ سے اس کو اپنے الفاظ میں لکھنا اور عنوان کا حق ادا کرنا۔

ایک جگہ فرماتے ہیں: ”آدمی کو کام کرنا چاہیے شہرت اور ناموری کی فکر میں نہیں پڑنا چاہیے“ انسان کامیاب اسی وقت ہوتا ہے جب وہ محض لوجه الله کام کرے اور شہرت کی پروا نہ کرے اس لیے کہ کامیابی اخلاص میں مضمر (پوشیدہ) ہے۔ کام کرتے رہیں شہرت تو ہو ہی جائے گی۔

ایک اور فرمان ملاحظہ ہو: ”مسلمان وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرماں بردار ہو“ اس فرمان کا ہرگز معاذ الله یہ مطلب نہیں کہ وہ کافر ہو گیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کامل مومن وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع و فرماں بردار ہے۔

”معالج کی بہترین جگہ بیماریوں کا حلقہ ہے تندرستوں کی انجمن نہیں“ حافظ ملت علیہ الرحمہ کے اس فرمان سے ان اساتذہ کرام کو نصیحت حاصل کرنی چاہیے جو ان طلبہ کرام کو اپنا مطمحِ نظر بنائے ہوئے ہوتے ہیں جو پڑھنے والے اور سنجیدہ ہوں، اور لاپرواہ اور کمزور طلبہ کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوں، ٹھیک ہے محنتی طلبہ کا بھی خیال رکھا جائے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نکموں اور کمزوروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، حقیقی استاذ وہی ہے جو کمزور اور نکمے طلبہ کو ہیرا بنائے، ذہین تو پہلے ہی سے راہِ راست پر ہوتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ آپ کی توجہ کمزوروں پر ہونی چاہیے تاکہ وہ قوی ہو جائیں۔

ایک مقام پہ فرماتے ہیں: ”جب سے مسلمان نے خدا سے ڈرنا چھوڑ دیا ہے ساری دنیا سے ڈرنے لگے ہیں“ اسی وجہ سے ہم ہر لحاظ سے کمزور ہیں لاکھ ابھرنے کی کوشش کے باوجود نتیجہ صفر ہی دیکھتے ہیں وجہ؟ صرف خوفِ خدا کا فقدان۔

ایک جگہ فرماتے ہیں: ”حقیقت میں نماز تو جماعت ہی کی نماز ہے ورنہ صرف فرض کی ادائیگی ہے“ حضور حافظ ملت قدس سرہ کا یہ فرمان اس آیت مبارکہ کی تفسیر کر رہا ہے:

وَارْکَعُو مَعَ الرّٰکِعِیْنَ [البقرۃ: 43]

ترجمۂ کنز الایمان: اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

صدر الافاضل فخر الاماثل حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ العزیز اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جماعت کی ترغیب بھی ہے۔ [کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان، ص: ١٧، مطبوعہ مکتبہ المدینہ دہلی]

ایک اور مقام پہ فرماتے ہیں: ”محبتِ رسول ہی محبتِ خدا ہے“ حافظ ملت کا یہ فرمان قرآن و حدیث، آثارِ صحابہ اور اقوالِ ائمہ اور اہلِ سنت کے چودہ سو سالہ نظریہ کی ترجمانی کر رہا ہے جیسا کہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده والناس أجمعين

تم میں سے جب تک کوئی کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک مجھے اپنی اولاد (ماں) باپ اور تمام عزیز لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ جانے۔

حافظ ملت علیہ الرحمہ کے یہ چند ملفوظات شریفہ تھے اگر تمام ملفوظات کا احاطہ مع شرح کیا جائے تو مکمل کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ اللہ عزوجل شانہ ان تمام باتوں پر ہمیں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمين بجاه سيد المرسلين صلى الله عليه وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!