Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

وراثت کا اسلامی نظریہ (آخری قسط)

وراثت کا اسلامی نظریہ (آخری قسط)
عنوان: وراثت کا اسلامی نظریہ (آخری قسط)
تحریر: مفتی شمیم اختر مصباحی
پیش کش: بنت شہاب عطاریہ

بیٹیوں اور بہنوں کو میراث سے حصہ نہ دینا:

ہمارے معاشرے میں بیٹیوں اور بہنوں کو میراث سے ان کا حصہ نہ دینا بھی عام ہوتا جا رہا ہے بلکہ بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کے بعد ماں باپ کے مال میں ان کا کوئی حصہ ہی نہیں، حالانکہ باپ کے مال میں بیٹیوں کا حق قرآن مجید کی نصِ قطعی سے ثابت ہے۔

بیٹی کی تین صورتیں ہیں:

  1. اگر بیٹی ایک ہو تو 1/2 ایک بٹا دو یعنی آدھا مال ملے گا۔
  2. اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو ان کو 2/3 دو بٹا تین ملے گا۔
  3. اگر بیٹیوں کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو بیٹیاں عصبہ بن جائیں گی اور لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دیا جائے گا۔

اور حقیقی بہنوں کے بھی تین حصے ہیں، اگر میت کے وارثوں میں بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی اور باپ دادا ہوں تو حقیقی بہنیں محروم ہو جاتی ہیں۔

بیٹی اور بہن اصحابِ فروض میں سے ہیں یعنی ان کا حق قرآن سے ثابت ہے۔ ان کو ان کا حق نہ دینا حرامِ قطعی ہے، اگر والدین نے وصیت وغیرہ کے ذریعہ بیٹیوں کو ان کے حصے سے محروم کر دیا یا بیٹوں نے بہنوں کو ان کا حصہ دینے کی بجائے سارا مال آپس میں بانٹ لیا تو یہ ضرور ظلم و ناانصافی ہے اور ایسے لوگوں پر توبہ کے ساتھ ساتھ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کا حصہ لوٹانا لازم ہے۔ ان کا یہ عذر کرنا غلط ہے کہ لڑکی کی شادی دھوم دھام سے کر دی تھی، اس لیے وہ میراث کی حق دار نہیں۔

بیٹیوں اور بہنوں سے وراثت کا حصہ معاف کروا لینا:

وراثت ایک ایسا مالی حق ہے جو لازمی طور پر وارث کی ملکیت میں آ جاتا ہے، اسے بہر صورت لینا ہی ہے، نہ اسے معاف کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے معاف کروایا جا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں وراثت کی حق دار عورتیں جیسے بیٹیاں اور بہنیں اپنا حصہ لینے کی بجائے معاف کر دیتی ہیں اور بعض اوقات بھائی و دیگر رشتے دار اپنا حصہ معاف کر دینے کا کہتے ہیں اور اس پر زور دیتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں غلط ہیں، معاف کرنے یا کروانے سے ان کا حصہ ختم نہیں ہو گا، مردوں پر لازم ہے کہ وہ حق دار عورتوں کو ان کا حصہ دیں اور عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے حصے کو اپنے قبضے میں لیں، البتہ اگر اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد کسی زور زبردستی کے بغیر محض اپنی خوشی سے کسی دوسرے وارث کو اپنا حصہ دینا چاہیں تو اس کا اختیار انہیں حاصل ہے۔

یہ ایک چھوٹا سا آئینہ ہے تا کہ مسلمان اس میں اپنا چہرہ دیکھ سکیں، ورنہ اس کے علاوہ بھی بہت سی غفلتیں پائی جاتی ہیں جو اہلِ نظر پر مخفی نہیں۔ وراثت کی اہمیت ایک جانب، دوسری جانب مسلمانوں کا اپنے خود ساختہ قانون کے مطابق جائداد کی تقسیم کر لینا اور میراث کے مسائل اور شرعی اصولوں سے بے اعتنائی قابلِ افسوس ہے، اور طبقۂ علما میں بھی اس فن کے ماہرین بہت کم نظر آتے ہیں۔ جب کہ علمائے متقدمین نے علمِ فرائض ہی کی وجہ سے ریاضی کی طرف توجہ دی، اسے اپنا مطمحِ نظر بنایا، تحقیق و ریسرچ کے میدان میں غوطہ لگاتے رہے یہاں تک کہ اپنی ہم عصر قوموں پر فوقیت و برتری لے گئے۔ اور ایک مسلم سائنس داں محمد بن موسیٰ خوارزمی نے الجبرا ”Algebra“ جیسے مشکل ترین فن کو ایجاد کیا، یہ تھے ہمارے علما کے کارنامے، ایسا کیوں تھا، اس وجہ سے تھا کہ ہمارے اسلاف نے اسلامی تعلیمات کو ہمیشہ اپنی نگاہوں کے سامنے رکھا، اور کامیابی کی منزلیں طے کرتے رہے اور بڑے بڑے کارنامے ان کی جھولی میں سماتے گئے۔ آج ہماری پستی، تنزلی، انحطاط و زوال کی واحد وجہ قرآن و سنت کی پاکیزہ تعلیمات کو پسِ پشت ڈالنا ہے، آج بھی ہم اپنی عظمتِ رفتہ کو پا سکتے ہیں، شرط یہی ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنائیں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!