| عنوان: | ذبیح کون؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | جاوید احمد عنبر مصباحی |
| پیش کش: | نسرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
ذبیح کون؟ (قسط: اول)
٦ اگست کو بعد مغرب ہم دورِ جدید کے مستشرق جان گلکرسٹ کی تحریروں کو پڑھنے میں مصروف تھے، جن میں ایک بحث Ishaq or Ismail: The Muslim (قربانی کے متعلق Dilemma) بھی تھی اور اتفاق کہ اسی رات میں مولانا فیضان المصطفیٰ صاحب نے اسی موضوع پر ماہِ ستمبر کے لیے لکھنے کا حکم سنا دیا۔ جان گلکرسٹ نے قرآن کے جس دقتِ نظر کے ساتھ مطالعہ کا استعمال کیا اور چابک دستی سے اپنے موقف (ذبیح اسحاق تھے) کو ثابت کرنے کی کوشش کی، وہ کافی گمراہ کن ہے، جبکہ جمہور مسلمانوں کے نزدیک حضرت اسماعیل ذبیح اللہ ہیں۔ گلکرسٹ صاحب کے پورے مقالہ کا زور چار نکات پر ہے:
- حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے پر یہودی اور عیسائی سکرپٹ شاہد ہیں۔
- قرآن میں جہاں اس واقعہ کا ذکر ہے ان آیات کے ارد گرد حضرت اسماعیل کا نہیں بلکہ حضرت اسحاق کا نام ہے۔
- حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیم کی بیوی نہیں، بلکہ حضرت سارہ کی باندی تھیں اس لیے حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کی قانونی اولاد نہیں ہو سکتے ہیں، معاذ الله۔
- قانونی طور پر حضرت اسحاق حضرت ابراہیم کے اکلوتے بیٹے تھے۔ عليهم السلام
ان نکات کے تجزیہ سے ساری حقیقت اور جان گلکرسٹ کے علم و دیانت کی گہرائی کا اندازہ بخوبی ہو جائے گا مگر اس سے پہلے قرآن اور بائبل میں جن مقامات پر اس واقعہ کا ذکر ہے ان کو نقل کرنا ضروری ہے کیونکہ تجزیہ ان دونوں کتابوں کی آیات کا ہوگا جس سے حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی۔ قرآن کی سورہ الصافات میں اس واقعہ کا مکمل ذکر یوں ہے:
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ ، فَبَشِّرُنَهُ بِغُلْمٍ حَلِيمٍ o فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يُبْنَى إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَاذَا تَرَى، قَالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّبِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَ تَلَّهَ لِلْجَبِينَ ، وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَابْرَاهِيمُ قَدْ صَدَقْتَ الرُّءُ يَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِئُ الْمُحْسِنِينَ إِنَّ هَذَا لَبَلْوُ الْمُبِينَ وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ، وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْأَخَرِينَ ٥ سَلَّمٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ ، وَ بَشَّرُنهُ بِاسْحَقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّلِحِينَ وَ بَرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى اسْحَقَ وَ مِنْ ذُرِّيَتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لنَفْسِهِ مُبِينٌ
الہی مجھے لائق اولا د دے، تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقلمند لڑکے کی، پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے! میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں، اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے؟ کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی، اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ۔ اور ہم نے اسے ندا دی کہ اے ابراہیم بیشک تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو، بیشک یہ روشن جانچ تھی۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا۔ اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی، سلام ہو ابراہیم پر۔ ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے۔ اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا (نبی)۔ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحق پر اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا۔ [الصافات: 100-113]
اور بائبل نے پورا واقعہ اس طرح بیان کیا ہے:
Abraham commanded to offer Isaac
"And it came to pass after these things, that God did tempt Abraham, and said unto him, Abraham: and he said, Behold, here I am. And he said, Take now thy son, thine only son Isaac, whom thou lovest, and get thee into the land of Moriah; and offer him there for a burnt offering upon one of the mountains which I will tell thee of. And Abraham rose up early in the morning, and saddled his ass, and took two of his young men with him, and Isaac his son, and clave the wood for the burnt offering, and rose up, and went unto the place of which God had told him. Then on the third day Abraham lifted up his eyes, and saw the place afar off. And Abraham said unto his young men, Abide ye here with the ass; and I and the lad will go yonder and worship, and come again to you, And Abraham took the wood of the burnt offering, and laid it upon Isaac his son; and he took the fire in his hand, and a knife; and they went both of them together. And Isaac spake unto Abraham his father, and said, My father: and he said, Here am I, my son. And he said, Behold the fire and the wood: but where is the lamb for a burnt offering? And Abraham said, My son, God will provide himself a lamb for a burnt offering: so they went both of them together."
ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ خدا نے ابرہام کو آزمایا اور کہا کہ اے ابرہام! اس نے کہا میں حاضر ہوں۔ تب اس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا تب ابرہام نے صبح سویرے اٹھ کر اپنے گدھے پر چار جامہ کسا اور اپنے ساتھ دو جوانوں کو اور اپنے بیٹے اضحاق کو لیا اور سوختنی قربانی کے لئے لکڑیاں چیریں اور اٹھ کر اس جگہ کو جو خدا نے اسے بتائی تھی روانہ ہوا تیسرے دن ابرہام نے نگاہ کی اور اس جگہ کو دور سے دیکھا تب ابرہام نے اپنے جوانوں سے کہا تم یہیں گدھے کے پاس ٹھہرو۔
میں اور یہ لڑکا دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سجدہ کر کے پھر تمہارے پاس لوٹ آئیں گے۔ اور ابرہام نے سوختنی قربانی کی لکڑیاں لے کر اپنے بیٹے اضحاق پر رکھیں اور آگ اور چھری اپنے ہاتھ میں لی اور دونوں اکھٹے روانہ ہوئے۔ تب اضحاق نے اپنے باپ سے کہا اے باپ! اس نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے میں حاضر ہوں۔ اس نے کہا دیکھ آگ اور لکڑیاں تو ہیں پر سوختنی قربانی کے لئے مینڈھا کہاں ہے؟۔ ابرہام نے کہا اے میرے بیٹے خدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قربانی کے لئے مینڈھا مہیا کر لے گا
پھر اس کے بعد:
"And they came to the place which God had told him of; and Abraham built an altar there, and laid the wood in order, and bound Isaac his son, and laid him on the altar upon the wood. And Abraham stretched forth his hand, and took the knife to slay his son. And the angel of the LORD called unto him out of heaven, and said, Abraham, Abraham: and he said, Here am I. And he said, Lay not thine hand upon the lad, neither do thou any thing unto him: for now I know that thou fearest God, seeing thou hast not withheld thy son, thine only son from me. And Abraham lifted up his eyes, and looked, and behold behind him a ram caught in a thicket by his horns: and Abraham went and took the ram, and offered him up for a burnt offering in the stead of his son. And Abraham called the name of that place Jehovah-jireh: as it is said to this day, In the mount of the LORD it shall be seen. And the angel of the LORD called unto Abraham out of heaven the second time, And said, By myself have I sworn, saith the LORD, for because thou hast done this thing, and hast not withheld thy son, thine only son: That in blessing I will bless thee, and in multiplying I will multiply thy seed as the stars of the heaven, and as the sand which is upon the sea shore; and thy seed shall possess the gate of his enemies; And in thy seed shall all the nations of the earth be blessed; because thou hast obeyed my voice." [Genesis: 22/1-17, King James Version]
سو وہ دونوں آگے چلتے گئے۔ اور اس جگہ پہنچے جو خدا نے بتائی تھی۔ وہاں ابرہام نے قربان گاہ بنائی اور اس پر لکڑیاں چنیں اور اپنے بیٹے اضحاق کو باندھا اور اسے قربان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھا۔ اور ابرہام نے ہاتھ بڑھا کر چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے۔ تب خداوند کے فرشتہ نے اسے آسمان سے پکارا کے اے ابرہام! اے ابرہام! اس نے کہا میں حاضر ہوں۔ پھر اس نے کہا کہ تو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اس سے کچھ کر کیونکہ میں اب جان گیا کہ تو خدا سے ڈرتا ہے اس لئے کہ تو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔ اور ابرہام نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابرہام نے جاکر اس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا اور ابرہام نے اس مقام کا نام یہوواہ یری رکھا چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا۔ اور خداوند کے فرشتہ نے آسمان سے دوبارہ ابرہام کو پکارا اور کہا کہ خداوند فرماتا ہے چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کناروں کی ریت کی مانند کر دوں گا اور تیری اولا د اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی۔ اور تیری نسل کے وسیلے سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی [پیدائش: 1/22-18، بائبل سوسائٹی ہند 2009ء]
لفظ ”اکلوتا“ کے آگے اسحاق کا نام ہونٹوں پہ مسکان چھوڑے بغیر نہیں گزر سکتا ہے۔ اب جان گلکرسٹ کی دلیلوں کا تجزیہ مع دلائل ملاحظہ فرمائیں، ان شاء اللہ تجزیہ سے ہی حق بے نقاب ہو جائے گا:
نکتہ (1): جان گلکرسٹ کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ قرآن میں جہاں اس واقعہ کا ذکر ہے ان آیات کے ارد گرد حضرت اسماعیل کا نہیں بلکہ حضرت اسحاق کا نام ہے۔ ہم نے مکمل چودہ آیات نقل کی ہیں تاکہ پورے واقعہ پر تفصیلی تجزیہ کے ساتھ اس کا مکمل خاکہ ذہن نشیں ہو جائے۔ ان دو باتوں پر تو تینوں مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) متحد ہیں کہ اسماعیل اسحاق سے بڑے ہیں اور قربانی بھی اکلوتے فرزند کی ہی مانگی گئی تھی۔ قرآن نے اس واقعہ کو حضرت ابراہیم کی تمنائے اولاد سے شروع کر کے یعقوب کی بشارت پر ختم کیا۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم کی طلبِ اولاد کی تڑپ کو بیان کیا: الہی مجھے لائق اولاد دے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں لائق اولاد عطا فرمائی، بائبل کے مطابق حضرت ابراہیم اور سارہ و ہاجرہ تینوں کو جس اولاد کی طلب تھی وہ صرف اور صرف اسماعیل سے پوری ہو گئی اور قرآن میں اللہ نے اسی اولاد کی قربانی مانگی ہے جس کی تمنا کی گئی تھی اور وہ صرف اسماعیل ہیں۔ اور بائبل کے مطابق حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل سے اتنے خوش تھے کہ جب انھیں حضرت اسحاق کی بشارت دی گئی تو انھوں نے رب سے یہ درخواست کی کہ مولا! کاش اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے [پیدائش: 18/17]۔ اس کے بعد قرآن نے حضرت ابراہیم کے امتحان اور اس میں کامیابی کا ذکر کیا اور اس عظیم مشن میں کامیابی پر ان کی ستائش کی اور ان کے لیے دعائیں کی گئی ہیں، پھر اس کے بعد حضرت اسحاق کی ولادت کی خوش خبری اور ساتھ ہی ان کی نسل میں اچھے برے لوگوں کے ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس طرح قربانی کے واقعہ اور اسحاق کی بشارت کے بیچ میں کافی فاصلہ ہے، مگر مستشرقین کو پھر بھی دونوں ذات ایک ہی نظر آ رہی ہے انھیں درمیان میں اتنا وقفہ نظر نہیں آ رہا ہے البتہ اور حرفِ عطف (ثُمَّ) کی کھوج میں ہیں کہ اگر یہ حرف ہوتا تو معطوف معطوف علیہ میں تغایر صحیح ہوتا جو یہاں نہیں ہے۔ مگر انھیں دوسرا حرفِ عطف (و) نظر نہیں آ رہا ہے۔ اور ایسے بھی خود بائبل میں اتنے شواہد ہیں جو ہمارے موقف کی حمایت کے لیے کافی سے زائد ہیں اس لیے ہم مدعی کی الہامی کتاب بائبل پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کریں گے۔ بائبل میں کئی ایسے نقاط ہیں جو مستشرقین کے موقف کو باطل قرار دیتے ہیں، مثلاً:
- قرآن کی طرح بائبل میں بھی اسحاق کی خوشخبری کی ساتھ ان کی نسلوں کا تذکرہ بھی ملحق ہے: "And God said, Sarah thy wife shall bear thee a son indeed; and thou shalt call his name Isaac: and I will establish my covenant with him for an everlasting covenant, and with his seed after him." تب خدا نے فرمایا کہ بیشک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا۔ تو اس کا نام اضحاق رکھنا اور میں اس سے اور پھر اس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھوں گا [پیدائش: 19/17]۔ اس میں یہ بات نیم روز کی طرح واضح ہے کہ اسحاق کی بشارت کے ساتھ ہی اس کی لمبی نسل کی خبر بھی متصل ہے، اور خود بائبل کے مطابق جس وقت قربانی کا واقعہ پیش آیا اس وقت حضرت اسحاق کنوارے ہی تھے۔ (باب نمبر 23-24 کے مطابق واقعہ قربانی کے بعد سارہ کا انتقال ہوا پھر حضرت اسحاق کی شادی ہوئی، اور جس وقت ان کی شادی ہوئی اس وقت حضرت ابراہیم ضعیف اور عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔) پھر جس کا باپ دادا بننا یقینی اور خود ابراہیم کو بھی معلوم ہے اس کی قربانی کا حکم آزمائش یا امتحان ہو سکتا ہے یہ کسی بھی دانشور کو منوانا مشکل کام ہے۔
- قربانی کے ذریعے آزمائش کا سب سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ سب سے چہیتی چیز کا مطالبہ کیا جائے، اور یہ چیز دو وجہوں سے اسماعیل عليه السلام پر تو فٹ بیٹھتی ہے مگر حضرت اسحاق عليه السلام پر نہیں: اولاً جیسا کہ قرآن اور خود بائبل نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابراہیم عليه السلام کی نظر میں اسماعیل عليه السلام زیادہ محبوب تھے بہ نسبت حضرت اسحاق کے، اسی لیے خدا جب دوسرے بیٹے کی خوشخبری سنا رہا ہے تو آپ ہلکے دبے الفاظ میں اس نعمت کے نہ ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ثانیاً جس وقت بچپن لڑکپن میں حضرت اسماعیل عليه السلام کی قربانی کا واقعہ پیش آیا وہ آزمائش اور ایمان کا سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ کیونکہ اکلوتے بیٹے کی قربانی بہت زیادہ مشکل ہے، جس کے پاس دو تین ہوں وہ بقیہ کو دیکھ کر تو صبر کر لے گا مگر جس نے کل مال و متاع لٹا دی اور اپنے اکلوتے کو قربان کر دیا ہو اس کا مقامِ صبر سب سے اعلیٰ ہے۔ اس لیے خود بائبل نے بھی بار بار لفظ اکلوتے پر زور دیا ہے۔
- بائبل کے مطابق اسماعیل باپ کے اور اسحاق خدا کے زیادہ چہیتے تھے، اور چونکہ یہ آزمائش ابراہیم کی تھی اس لیے اس کی قربانی مانگی گئی جس سے ابراہیم کا دل چمٹا تھا، اور وہ اسماعیل ہیں۔ رہے حضرت اسحاق تو ابراہیم عليهم السلام نے ان کی خوش خبری پر ہی اپنی دلی کیفیت یہ کہہ کر ظاہر کر دی کہ خدایا! کاش اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے۔ مطلب انھیں اسماعیل کی محبت میں کسی اور کو شریک و سہیم بنانا گوارا نہیں تھا۔ تو ایسے راج دلارے کی قربانی ہی اصل امتحان کہلا سکتی ہے، جس اسحاق کو ابراہیم نے آدھے ادھورے من سے قبول کیا ہو، اس کی قربانی کے امتحان ہونے کا کوئی مطلب ہی نہیں بنتا ہے۔
- بائبل نے قربان ہونے والے بچے کی دو صفتیں بیان کی ہیں: (۱) جو تیرا اکلوتا ہے اور (۲) جسے تو پیار کرتا ہے، اور یہ دونوں صفتیں اسحاق میں نہیں ہیں۔ صرف اور صرف اسماعیل میں ہیں۔ اسماعیل چودہ سالوں تک ابراہیم کے اکلوتے بھی تھے [پیدائش: 16/16، 5/21] اور دلارے بھی ایسے کہ ان کی محبت کسی اور سے بانٹنا گوارا ہی نہیں تھا۔ [پیدائش: 18/17]
حوالہ: [پیغامِ شریعت، ستمبر 2016، ص: 17-20]
