Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں

مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: اول)
عنوان: مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: اول)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: اول)

الحمد للہ رب العالمین، والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین، اما بعد:

مسئلہ تکفیر اہل سنت والجماعت کے ہاں نہایت حساس اور اہم موضوع ہے۔ اس سلسلے میں ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان تکفیر کے اصولوں میں کوئی بنیادی اختلاف ہے۔ یہ مضمون اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

اشاعرہ اور ماتریدیہ کا تعارف

اشاعرہ حضرت امام ابو الحسن اشعریؒ کی پیروی کرنے والے ہیں جبکہ ماتریدیہ حضرت امام ابو منصور ماتریدیؒ کے پیروکار ہیں۔ دونوں مکاتب فکر اہل سنت کے دو بڑے ستون ہیں۔

تکفیر کے اصول میں اتفاق

اشاعرہ اور ماتریدیہ دونوں کے نزدیک تکفیر کے بنیادی اصول وہی ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ کسی مسلمان کو کافر قرار دینے کے لیے انتہائی واضح اور قطعی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ دونوں مسلک اس بات پر متفق ہیں کہ:

  • کسی مسلمان کو بغیر شرعی دلیل کے کافر نہیں کہا جا سکتا
  • تکفیر میں تاویل اور شبہات کا اعتبار کیا جاتا ہے
  • خوارج اور معتزلہ کے برعکس اہل سنت تکفیر میں سخت احتیاط برتتے ہیں

نتیجہ

اس مختصر مضمون سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان مسئلہ تکفیر میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے۔ دونوں اہل سنت کے وہی اصول مانتے ہیں جو صحابہ کرام اور تابعین سے چلے آ رہے ہیں۔ ان شاء اللہ اگلی قسط میں مزید تفصیل پیش کی جائے گی۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم
  • شرح العقائد النسفیہ، امام تفتازانی
  • التبصیر فی الدین، امام اسفرائینی
  • مقالات الاسلامیین، امام ابوالحسن اشعری

تفتیش شدہ: پروف ریڈنگ ٹیم، لُباب فاؤنڈیشن

اپلوڈ کردہ: 03 جون 2026ء

اہل بدعت سے وہ لوگ مراد ہیں جو کافر کلامی نہ ہوں، ورنہ بدعت کی بھی دو قسمیں ہیں: بدعت کفریہ اور بدعت غیر کفریہ۔ جو بدعتی کافر کلامی ہو، اس کو کافر و مرتد کہا جاتا ہے۔ اہل قبلہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اسلام سے بالکل خارج نہ ہوں، خواہ وہ سنی ہوں یا بدعتی۔ جو شخص اسلام سے بالکل خارج ہو، وہ اہل قبلہ نہیں، خواہ وہ کافر اصلی ہو، یا مرتد۔

فصل اول

گناہ کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں

گناہ کبیرہ یا گناہ صغیرہ کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ متفق ہیں۔ گناہ کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر سے متعلق حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ اللہ عنہما کی صراحت ہے کہ ہم گناہ کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے ہیں، اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہو۔

امام ابو منصور ماتریدی حنفی ہیں اور انہوں نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ اللہ عنہ کے اصول کے مطابق عقائد اسلامیہ کی تشریح کی۔ امام ابوالحسن اشعری شافعی ہیں انہوں نے حضرت امام شافعی رضی اللہ اللہ عنہ کے اصول کے مطابق عقائد اسلامیہ کی تشریح کی۔ ماتریدیہ و اشعریہ گناہ کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر میں متفق ہیں، اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہو۔

معتزلہ کہتے ہیں کہ بندہ گناہ کے سبب نہ مومن رہتا ہے، نہ ہی وہ کافر ہوتا ہے۔ معتزلہ ایمان و کفر کے درمیان ایک منزل ثابت کرتے ہیں۔ کتب عقائد میں اس کا مفصل ذکر ہے۔

وَلَا نُكَفِّرُ مُسْلِمًا بِذَنْبٍ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ كَانَتْ كَبِيرَةً، إِذَا لَمْ يَسْتَحِلَّهَا، وَلَا نُزِيلُ عَنْهُ اسْمَ الْإِيمَانِ، وَنُسَمِّيهِ مُؤْمِنًا حَقِيقَةً، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مُؤْمِنًا فَاسِقًا غَيْرَ كَافِرٍ [القول الفصل شرح الفقه الأكبر: ص 328]

ترجمہ: ہم کسی گناہ کے سبب کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتے ہیں، اگرچہ وہ کبیرہ گناہ ہو، جب تک کہ وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے اور ہم اس سے ایمان کا نام زائل نہیں کرتے ہیں اور اسے حقیقت میں مومن کا نام دیتے ہیں اور جائز ہے کہ مومن فاسق اور غیر کافر ہو۔

وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ مَا لَمْ يَسْتَحِلَّهُ [عقيدة الطحاوى: ص 37]

ترجمہ: ہم کسی گناہ کے سبب کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرتے ہیں، جب تک کہ وہ اس گناہ کو حلال قرار نہ دے۔ (جس امر کا گناہ ہونا ضروریات دین سے ہو، اس کا انکار کفر ہے)

وَنُسَمِّي أَهْلَ قِبْلَتِنَا مُسْلِمِينَ مُؤْمِنِينَ مَا دَامُوا بِمَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِفِينَ، وَلَهُ بِكُلِّ مَا قَالَهُ وَأَخْبَرَ مُصَدِّقِينَ [عقيدة الطحاوى: ص 82]

ترجمہ: ہم اپنے اہل قبلہ کو مسلمان و مومن کا نام دیتے ہیں جب تک کہ وہ حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحية والثنا کے لائے ہوئے امور کا اعتراف کرتے رہیں اور حضور اقدس نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال واخبار کی تصدیق کرتے رہیں۔

فَإِنَّهُ صَحَّ عَنْهُ أَيْ عَنِ الْإِمَامِ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ قَالَ: لَا أُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ [الإعلام بقواطع الإسلام: ص 357]

ترجمہ: حضرت امام اعظم رضی اللہ اللہ عنہ سے صحیح روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں کسی گناہ کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتا ہوں۔

قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ الْمَخْزُومِيُّ: قَدْ نَصَّ الْإِمَامُ الشَّافِعِيُّ عَلَى عَدَمِ تَكْفِيرِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِي رِسَالَتِهِ فَقَالَ: لَا أُكَفِّرُ أَهْلَ الْأَهْوَاءِ بِذَنْبٍ، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: وَلَا أُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ: وَلَا أُكَفِّرُ أَهْلَ التَّأْوِيلِ الْمُخَالِفِ لِلظَّاهِرِ بِذَنْبٍ، قَالَ الْمَخْزُومِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَرَادَ الْإِمَامُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِأَهْلِ الْأَهْوَاءِ أَصْحَابَ التَّأْوِيلِ الْمُحْتَمِلِ كَالْمُعْتَزِلَةِ وَالْمُرْجِئَةِ، وَأَرَادَ بِأَهْلِ الْقِبْلَةِ أَهْلَ التَّوْحِيدِ، انْتَهَى [اليواقيت والجواهر: ص 532]

ترجمہ: شیخ الاسلام سراج الدین مخزومی شامی نے بیان کیا: حضرت امام شافعی رضی اللہ اللہ عنہ نے اپنے رسالہ میں اہل اہوا (اہل بدعت) کی عدم تکفیر کی صراحت فرمائی ہے، پس انہوں نے فرمایا: کسی گناہ کے سبب میں اہل بدعت کی تکفیر نہیں کرتا ہوں اور حضرت امام شافعی رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے: کسی گناہ کے سبب میں اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا ہوں اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے: اور میں ظاہر کے خلاف تاویل کرنے والے کی گناہ کے سبب تکفیر نہیں کرتا ہوں. شیخ الاسلام امام مخزومی نے فرمایا: حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے اہل اہوا سے محتمل تاویل والے جیسے معتزلہ و مرجئہ مراد لیا اور اہل قبلہ سے اہل توحید مراد لیا۔

بدعت کے سبب اہل قبلہ کی تکفیر نہیں

Roughly speaking حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ اللہ عنہ جس طرح عہد صحابہ کے بعد فقہ واجتہاد کے امام ہیں، اسی طرح آپ علم عقائد وفن کلام کے بھی امام ہیں۔ مسئلہ تکفیر میں متکلمین نے حضرت امام اعظم رضی اللہ اللہ عنہ کے طریق کار کو اپنایا، لہذا وہ مذہب متکلمین کے لقب سے مشہور ہوا۔ مسئلہ تکفیر میں حضرت امام شافعی رضی اللہ اللہ عنہ بھی اسی مذہب پر تھے۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ و حضرت امام شافعی رضی اللہ اللہ عنہا بدعت ضلالت کے سبب کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے اور بدعت کفریہ کلامیہ کے سبب تکفیر کرنا متفق علیہ ہے۔ درج ذیل عبارتوں میں بدعت ضلالت کے سبب اہل قبلہ کی عدم تکفیر کا ذکر ہے۔

إِنَّ الْحُكْمَ بِكُفْرِ مَنْ ذَكَرْنَا مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، مَعَ مَا ثَبَتَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللهُ مِنْ عَدَمِ تَكْفِيرِ أَهْلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْمُبْتَدِعَةِ كُلِّهِمْ، مَحْمَلُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْمُعْتَقَدَ نَفْسَهُ كُفْرٌ، فَالْقَائِلُ بِهِ قَائِلٌ بِمَا هُوَ كُفْرٌ، وَإِنْ لَمْ يُكَفَّرْ بِنَاءً عَلَى كَوْنِ قَوْلِهِ ذَلِكَ عَنِ اسْتِفْرَاغِ وُسْعِهِ مُجْتَهِدًا فِي طَلَبِ الْحَقِّ [فتح القدير: ج: 1، ص: 304]

ترجمہ: ہمارے ذکر کردہ اہل بدعات کے کفر کا حکم (باوجودے کہ حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت امام شافعی رضی اللہ اللہ عنہما سے تمام اہل قبلہ مبتدعین کی عدم تکفیر ثابت ہے)۔ اس کا معنی ہے کہ یہ عقیدہ فی نفسہ کفر ہے، پس اس کا قول کرنے والا کفر کا قول کرنے والا ہے، اگرچہ اس کی تکفیر نہ کی جائے اس بنیاد پر کہ اس کا وہ قول حق کی طلب میں کوشش کرتے ہوئے اپنی وسعت وقوت کو صرف کرنے کے ساتھ ہے۔

وَقَدْ نَصَّ الْإِمَامُ عَلَى عَدَمِ تَكْفِيرِ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْأَنْبِيَاءِ أَوْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ [فواتح الرحموت: ج: 2، ص: 243]

ترجمہ: امام الائمہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ اللہ عنہ نے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہ کرنے کی صراحت فرمائی ہے۔

حَكَى صَاحِبُ الْمُخْتَصَرِ فِي كِتَابِ الْمُنْتَقَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: أَنَّهُ لَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، وَحَكَى أَبُو بَكْرٍ الرَّازِيُّ مِثْلَهُ عَنِ الْكَرْخِيِّ وَغَيْرِهِ [شرح المواقف: ص 726]

ترجمہ: حاکم شہید حنفی صاحب مختصر الکافی نے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ اللہ عنہ کے بارے میں حکایت کی کہ حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی اور امام ابوبکر جصاص رازی حنفی نے اسی کی مثل امام ابوالحسن کرخی وغیرہ کے بارے میں حکایت کیا۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ اللہ عنہ نے کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی ۔ اہل بدعت بھی اہل قبلہ ہیں، لہذا آپ نے کسی اہل بدعت کی بھی تکفیر نہیں کی ۔ اسی مذہب کو متکلمین نے اختیار فرمایا اور اس کو مذہب متکلمین سے تعبیر کیا گیا۔ مسئلہ تکفیر میں متکلمین کے پیشوا و مقتدا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ و امام شافعی رضی اللہ اللہ عنہا ہیں اور فقہائے کرام کے پیشوا حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ اللہ عنہ ہیں اور مجتہدین کرام کے مقتدا و پیشوا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ اللہ عنہم اجمعین ہیں اور یہ نفوس قدسیہ حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحية والثنا سے دین و مذہب سیکھے اور اصحابی کالنجوم فبایہم اقتدیتم اہتدیتم کا رتبہ پائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،