Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں

مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: سوم)
عنوان: مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: سوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

مسئلہ تکفیر میں اشاعرہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: سوم)

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین، سیدنا محمد ﷺ۔

قسط اول و دوم میں ہم نے یہ واضح کیا کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان مسئلہ تکفیر میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے۔ اس قسط میں ہم ان شبہات کا جائزہ لیں گے جو بعض لوگ دونوں مسالک کے درمیان اختلاف ظاہر کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔

شبہ اول: ایمان کے تعریف میں اختلاف

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اشاعرہ کے نزدیک "ایمان صرف تصدیق ہے" جبکہ ماتریدیہ کے نزدیک "ایمان تصدیق اور اقرار ہے"۔ اس بنا پر وہ یہ کہتے ہیں کہ دونوں میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف تکفیر کو متاثر کرے گا۔

جواب: یہ اختلاف لفظی ہے، حقیقی نہیں۔ اشاعرہ کا مقصد یہ ہے کہ ایمان کی بنیاد دل کی تصدیق ہے، زبان کا اقرار اس کا ظاہری اظہار ہے۔ ماتریدیہ بھی یہی مانتے ہیں کہ بغیر تصدیق کے محض اقرار سے ایمان نہیں آتا۔ دونوں کا مقصد ایک ہے، صرف تعبیر مختلف ہے۔ یہ اختلاف تکفیر کے اصول کو تبدیل نہیں کرتا۔

شبہ دوم: استثناء فی الایمان کا مسئلہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اشاعرہ استثناء فی الایمان (یعنی کہنا "میں مومن ہوں ان شاء اللہ") کو جائز نہیں سمجھتے جبکہ ماتریدیہ جائز سمجھتے ہیں۔

جواب: یہ بھی ایک لفظی اختلاف ہے۔ حقیقت میں دونوں کا موقف ایک ہے۔ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ بلا شبہ مومن ہونے میں شک نہیں کرنا چاہیے، لیکن اپنے اعمال کی تکمیل کے لیے "ان شاء اللہ" کہنا جائز ہے۔ یہ اختلاف بھی تکفیر سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

شبہ سوم: مرتکب کبیرہ کا حکم

بعض لوگ یہ غلط فہمی پھیلاتے ہیں کہ اشاعرہ مرتکب کبیرہ کو کافر سمجھتے ہیں یا پھر اسے ایمان سے خارج کر دیتے ہیں۔

جواب: یہ سراسر غلط ہے۔ اشاعرہ اور ماتریدیہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ مرتکب کبیرہ کافر نہیں ہوتا، بلکہ وہ فاسق اور گنہگار ہے۔ وہ جہنم میں جائے گا اگر اللہ نے معاف نہ کیا، لیکن وہ مومن ہی رہے گا۔ یہ اہل سنت کا منہج ہے جس پر دونوں مسالک عمل پیرا ہیں۔

شبہ چہارم: وعید کا مسئلہ

کہا جاتا ہے کہ اشاعرہ وعید (یعنی وعدہ عذاب) کو قطعی مانتے ہیں جبکہ ماتریدیہ اس میں استثناء کے قائل ہیں۔

جواب: یہ بھی ایک معمولی تفسیری اختلاف ہے، جو تکفیر کے اصول سے لا تعلق ہے۔ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو عذاب کرے، چاہے تو معاف کر دے۔

نتیجہ قسط سوم

اس قسط میں ہم نے ان تمام شبہات کا جائزہ لیا جو اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان اختلاف ظاہر کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ ہر شبہ کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ تمام شبہات بے بنیاد ہیں۔

ان شاء اللہ اگلی (چہارم) قسط میں ہم اس موضوع پر اختتامی کلمات پیش کریں گے۔

حوالہ جات

  • شرح العقائد النسفیہ، امام تفتازانی
  • شرح الفقہ الاکبر، ملا علی قاری
  • الاقتصاد فی الاعتقاد، امام غزالی
  • اساس التقدیس، فخر الدین رازی
  • کتاب التوحید، امام ماتریدی
  • مقالات الاسلامیین، امام اشعری

تفتیش شدہ: پروف ریڈنگ ٹیم، لُباب فاؤنڈیشن

اپلوڈ کردہ: 03 جون 2026ء

کافر کلامی یا کافر فقہی نہیں ہے۔ صرف کافر فقہی سے متعلق فقہا و متکلمین کا اختلاف ہے کافر متکلمین کبھی کفر فقہی کے بارے میں کہتے ہیں کہ قول کفری ہے، لیکن ہم قائل کی تکفیر نہیں کرتے ہیں۔ اس وقت یہ مراد ہوگا کہ فقہی اصول کے مطابق یہ قول کفری ہے اور چوں کہ کلامی اصول کے مطابق کفر ثابت نہیں ہے، لہذا متکلمین قائل کی تکفیر نہیں کرتے ہیں۔

إِنَّ عَدَمَ تَكْفِيرِهِمْ هُوَ الْمَنْقُولُ عَنْ جَمْهُورِ الْمُتَكَلِّمِينَ وَالْفُقَهَاءِ [البحر الرائق: ج: 1، ص: 612]

ترجمہ: اہل قبلہ کی عدم تکفیر جمہور متکلمین اسلام و فقہائے کرام سے منقول ہے۔ امام ابن ہمام حنفی نے خوارج کے بارے میں رقم فرمایا کہ جمہور فقہا و محدثین خوارج کی تکفیر نہیں کرتے ہیں، بلکہ انہیں باغی قرار دیتے ہیں اور بعض محدثین تکفیر کرتے ہیں۔

اسی بحث میں یہ بھی مرقوم ہے کہ بعض فقہا اہل بدعت کی تکفیر کرتے ہیں اور بعض تکفیر نہیں کرتے ہیں۔ اہل بدعت سے وہ بدعتی مراد ہے جو کسی ضروری دینی کا منکر نہ ہو۔

قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ أَهْلَ الْحَدِيثِ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ، وَهَذَا يَقْتَضِي نَقْلَ إِجْمَاعِ الْفُقَهَاءِ، وَذَكَرَ فِي الْمُحِيطِ: أَنَّ بَعْضَ الْفُقَهَاءِ لَا يُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ وَبَعْضُهُمْ يُكَفِّرُونَ بَعْضَ أَهْلِ الْبِدَعِ وَهُوَ مَنْ خَالَفَ بِبِدْعَتِهِ دَلِيلًا قَطْعِيًّا وَنَسَبَهُ إِلَى أَكْثَرِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالنَّقْلُ الْأَوَّلُ أَثْبَتُ، نَعَمْ يَقَعُ فِي كَلَامِ أَهْلِ الْمَذَاهِبِ تَكْفِيرٌ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ لَيْسَ مِنْ كَلَامِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ هُمُ الْمُجْتَهِدُونَ، بَلْ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَلَا عِبْرَةَ بِغَيْرِ الْفُقَهَاءِ، وَالْمَنْقُولُ عَنِ الْمُجْتَهِدِينَ مَا ذَكَرْنَا، وَابْنُ الْمُنْذِرِ أَعْرَفُ بِنَقْلِ مَذَاهِبِ الْمُجْتَهِدِينَ [فتح القدير: ج: 6، ص: 100]

ترجمہ: امام ابن منذر نیشاپوری نے فرمایا: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے خوارج کی تکفیر پر محدثین کی موافقت کی ہو، اور یہ قول فقہائے کرام کے اجماع کی نقل کا مقتضی ہے اور محیط میں ذکر کیا کہ بعض فقہا اہل بدعت میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں اور بعض فقہا بعض اہل بدعت کی تکفیر کرتے ہیں اور یہ وہ بدعتی ہے جو اپنی بدعت کے سبب کسی قطعی دلیل کی مخالفت کرے اور اس قول کو اکثر اہل سنت کی طرف منسوب کیا اور نقل اول (امام ابن منذر شافعی نیشاپوری کی نقل) زیادہ قوی ہے۔

ہاں، اہل مذاہب فقہیہ کے کلام میں بہت تکفیر پائی جاتی ہے لیکن یہ ان فقہا کا کلام نہیں جو مجتہد ہیں، بلکہ غیر مجتہدین کا کلام ہے اور غیر فقہا کا کوئی اعتبار نہیں اور مجتہدین سے وہ منقول ہے جس کا ہم نے ذکر کیا اور امام ابن منذر شافعی نیشاپوری (ابوبکر محمد بن ابراہیم بن منذر بن جارود) مذاہب مجتہدین کی نقل کی زیادہ معرفت رکھنے والے ہیں۔

فَالْأَوْلَى مَا ذَكَرَهُ هُوَ فِي بَابِ الْبُغَاةِ أَنَّ هَذِهِ الْفُرُوعَ الْمَنْقُولَةَ فِي الْفَتَاوَى مِنَ التَّكْفِيرِ لَمْ تُنْقَلْ عَنِ الْفُقَهَاءِ أَيِ الْمُجْتَهِدِينَ، وَإِنَّمَا الْمَنْقُولُ عَنْهُمْ عَدَمُ تَكْفِيرِ مَنْ كَانَ مِنْ قِبْلَتِنَا حَتَّى لَمْ يَحْكُمُوا بِتَكْفِيرِ الْخَوَارِجِ الَّذِينَ يَسْتَحِلُّونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالَهُمْ وَسَبَّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِكَوْنِهِ عَنْ تَأْوِيلٍ وَشُبْهَةٍ وَلَا عِبْرَةَ بِغَيْرِ الْمُجْتَهِدِينَ، وَذَكَرَ فِي الْمُسَايَرَةِ أَنَّ ظَاهِرَ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ لَا يُكَفِّرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ [البحر الرائق: ج: 1., ص: 612]

ترجمہ: پس بہتر وہ ہے جس کو امام ابن ہمام حنفی نے باب بغات میں ذکر فرمایا کہ تکفیر کے یہ فروعی مسائل جو فتاوی میں منقول ہیں، وہ فقہائے کرام یعنی مجتہدین سے منقول نہیں ہیں اور مجتہدین سے اس کی عدم تکفیر منقول ہے جو ہمارے اہل قبلہ سے ہو، یہاں تک کہ مجتہدین نے خوارج کی تکفیر کا فیصلہ نہیں کیا جو مسلمانوں کے خون اور ان کے اموال اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سب وشتم کو حلال سمجھتے ہیں، یہ حلال سمجھنا تاویل اور شبہ سے ہونے کے سبب اور غیر مجتہدین کا اعتبار نہیں ہے: الخ اور امام ابن ہمام حنفی نے ”مسایرہ“ میں فرمایا کہ حضرت امام شافعی و حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ اللہ عنہما کا ظاہر قول ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔

فَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ تَكْفِيرِ أَحَدٍ مِنَ الْمُخَالِفِينَ فِيمَا لَيْسَ مِنَ الْأُصُولِ الْمَعْلُومَةِ مِنَ الدِّينِ ضَرُورَةً [البحر الرائق: ج: 1، ص: 613]

ترجمہ: پس حاصل کلام یہ کہ جو اصول، دین سے بدیہی طور پر معلوم نہیں ہیں، ان کی مخالفت کرنے والوں میں سے کسی کو کافر قرار نہ دینا (متکلمین کا) مذہب ہے۔

وَفِي جَمْعِ الْجَوَامِعِ وَشَرْحِهِ: وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِبَدْعَةٍ كَمُنْكِرِي صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى وَخَلْقِهِ أَفْعَالَ عِبَادِهِ وَجَوَازِ رُؤْيَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمِنَّا مَنْ كَفَّرَهُمْ، أَمَّا مَنْ خَرَجَ بِبِدْعَتِهِ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ كَمُنْكِرِي حُدُوثِ الْعَالَمِ وَالْبَعْثِ وَالْحَشْرِ لِلْأَجْسَامِ وَالْعِلْمِ بِالْجُزْئِيَّاتِ فَلَا نِزَاعَ فِي كُفْرِهِمْ، لِإِنْكَارِهِمْ بَعْضَ مَا عُلِمَ مَجِيءُ الرَّسُولِ بِهِ ضَرُورَةً [البحر الرائق: ج: 1، ص: 613]

ترجمہ: جمع الجوامع اور اس کی شرح میں ہے: ہم بدعت کے سبب اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں جیسے صفات الہیہ کے منکرین اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے افعال کی تخلیق کے منکرین اور قیامت کے دن رویت الہی کے جواز کے منکرین۔ اور ہم (اہل سنت) میں سے بعض نے اہل بدعت کی تکفیر کی لیکن جو اپنی بدعت کے سبب اہل قبلہ سے نکل گیا جیسے دنیا کے حادث ہونے اور دوبارہ زندہ اٹھائے جانے اور حشر جسمانی اور (اللہ تعالیٰ عزوجل کے لیے) جزئیات کے علم کے منکرین تو ان کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ان لوگوں کے بعض ایسے امور کا انکار کرنے کے سبب جن امور کا حضور اقدس سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا لے کر آنا بدیہی طور پر معلوم ہے۔

منقولہ بالا اقتباس میں (کمنکری صفات اللہ تعالیٰ) سے معتزلہ کی طرح صفات الہیہ کا لزومی انکار مراد ہے۔ یہ کفر لزومی ہے۔ کفر لزومی کی صورت میں متکلمین تکفیر نہیں کرتے ہیں۔

رب تعالیٰ کی صفات مقدسہ کا بالکلیہ انکار کفر کلامی ہے۔ یہ کفر متفق علیہ ہے، جیسا کہ بعد میں فرمایا کہ جو رب تعالیٰ عزوجل کے جزئیات کے علم کا انکار کرے تو اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم بالجزئیات کا انکار بھی صفت الہی کا انکار ہے، لیکن چوں کہ یہاں مفسر انکار مراد ہے تو اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا مفسر انکار متکلمین کے یہاں بھی کفر ہوگا۔

منقولہ بالا عبارت میں (منا من کفرہم) سے مراد یہ ہے کہ اہل سنت و جماعت کا ایک طبقہ بدعت ضلالت کے سبب اہل بدعت کی تکفیر کرتا ہے۔

وَاخْتَلَفَ أَهْلُ السُّنَّةِ فِي تَكْفِيرِ الْمُخَالِفِ فِي بَعْضِ الْعَقَائِدِ بَعْدَ الِاتِّفَاقِ مِنْهُمْ عَلَى أَنَّ مَا كَانَ مِنْ أُصُولِ الدِّينِ وَضَرُورِيَّاتِهِ يُكَفَّرُ الْمُخَالِفُ

ترجمہ: سیف اللہ المسلول حضرت علامہ فضل رسول بدایونی نے رقم فرمایا: اور اہل سنت کا بعض عقائد میں مخالفت کرنے والے کی تکفیر میں اختلاف ہے، اس بات پر اتفاق کے بعد کہ جو اصول دین اور ضروریات دین سے ہو اس میں مخالفت کرنے والے کی تکفیر کی جائے گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!